usa

امریکہ ،ویزا گائیڈ چیپٹر1

امریکہ کا نان امیگرنٹ ویزا اپلائی کرنے کا طریقہ

امریکی ویزا کےلئے اپلائی کرنے کیلئے آن لائن طریقہ رائج ہے۔ جس کے مطابق آپ آن لائن ایپلی کیشن سسٹم کی ویب سائٹ ceac.state.gov/genniv پر الیکٹرانک ویزا فارمDS-160 پُر کر کے enter کریں اور اس کے کنفرمیشن پیج کا پرنٹ نکال لیں۔ اب دوسرا مرحلہ ویزا فیس جمع کرانے کا ہے۔ اس کیلئے ustraveldocs.com/pk کھول کر اپنی آئی ڈی بنائیں اور پیمنٹ آپشن پر کلک کریں۔ویزا ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے آن لائن فیس جمع کرانی ہے تو یہ آپشن منتخب کریں اور فیس اداکرنے کے فوری بعد یہیں پر انٹرویوکے لئے Appointment شیڈول کرلیں۔ اگر کال سنٹر کے ذریعے Appointment لینا چاہتے ہیں تو فیس ادائیگی کا نمبر نوٹ کرلیں۔ فیس الائیڈ بنک کی کسی بھی برانچ میں بھی جمع کرائی جاسکتی ہے اس کیلئے اسی سائٹ سے ڈیپوزٹ سلپ کا پرنٹ نکال لیں۔ نان امیگرنٹ ویزوں کی فیس 160ڈالر ہے ۔بنک میں فیس جمع کرانے کی صورت میں اگلے روز Appointment لے سکیں گے۔ عام طور پر دوسے تین روز کا وقت دیا جاتاہے۔ work in USA
انٹرویو اب آپ نے طے شدہ وقت پر انٹرویوکیلئے جانا ہے۔ ویزا منظور ہونے پرپاسپورٹ بذریعہ کوریئر بھیجا جائے گا جبکہ ری جیکٹ ہونے کی صورت میں وہیں پر پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات واپس مل جائیں گی۔مزید کا غذات یا پروسینگ کی ضرورت ہو تو بھی انٹرویو کے بعدبتادیا جاتاہے۔ واضح رہے کہ 14 سال سے زائد عمر کے تمام درخواست گزاروں کےلئے انٹرویو ضروری قرار دیا جا چکا ہے جو کہ صرف اسلام آباد میں ہو گا۔ سابق ویزا ہولڈرز بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں کیونکہ سفارتخانے میں امیدواروں کے فنگر پرنٹس اور تصاویر لی جاتی ہیں۔ آپ کو مقررہ وقت سے آدھ گھنٹہ پہلے ڈپلومیٹک شٹل سروس‘ تھرڈ ایونیو نزد قائداعظم یونیورسٹی روڈ‘ جی فائیوپہنچنا ہو گا جہاں سے آپ کو بذریعہ بس سفارتخانے لے جایا جائے گا انٹرویوکیلئے اپنے ہمراہ درج ذیل جنرل دستاویزات لے جانا ہونگی۔ ۔۔کم از کم اگلے چھ ماہ کیلئے ویلیڈ پاسپورٹ بمع فوٹوکاپی ۔۔سفید بیک گراو¿نڈ والی دوتصاویر ۔۔پرانے پاسپورٹ اگر ہیں تو ان کے بائیو پیجز کی فوٹوکاپیاں ۔۔سولہ سال کی مکمل ٹریول ہسٹری ۔۔میرج سرٹیفکیٹ اور بیوی کا آئی ڈی کارڈ،شادی کی تصاویر اور بچوں کے کوائف بھائی ،بہنوں اور بچوں کے ناموں کی فہرست بمعہ متعلقہ دستاویزات،شناختی کارڈ اور فارم ب وغیرہ اضافی فارم سٹڈی ویزا کیلئے فارم I-20 اور sevis رسید، ایکسچینج وزیٹر کیلئے DS-2019 اور sevis رسید،عارضی ورک ویزا کیلئے ڈی پی ایس 799 لگیں گے۔ سٹوڈنٹ ویزا کےلئے متعلقہ امریکی یونیورسٹی یا کالج کی طرف سے داخلہ کےلئے رضامندی کے I-120 فارم کی کاپی بھی کیس کے ساتھ جمع کرائی جائے گی جبکہ تعلیمی اسناد اور دیگر دستاویزات انٹرویو کے وقت پیش کرنا ہونگی۔ ورک ویزا اور انٹرکمپنی ویزا کے امیدوار اپنی تمام تصدیق شدہ اصل تعلیمی اسناد ساتھ لیکر جائیں گے۔ دیگر تمام ویزوں کےلئے ہر قسم کی اسناد اور سپورٹنگ دستاویزات انٹرویو کے وقت ہی ساتھ لے کر جائیں۔ ویزافارم پر کرنے کےلئے ہدایات ویزافارم پر کرتے وقت درج ذیل معلومات اور کاغذات پاس رکھیں۔ اپنے تمام رابطہ نمبرز اور ایڈریس،ٹریول پلان اور امریکی میزبان سے متعلق معلوماتپہلے دی گئی ویزا درخواستوں کا ریکارڈاور ٹریول ہسٹری،قریبی رشتہ داروں کے کوائف اپنی تعلیم اور کیرئیر سے متعلق معلومات اورمتعلقہ ویزاکیٹگری کے حوالے سے انفارمیشن تصویر اپ لوڈ کرکے فارم پر پیسٹ کرنا ہوگی۔ فارم مکمل پر ہونے پر اسے ہارڈ ڈسک پر سیو بھی کرلیں۔ ویزاکیٹگری درست کلک کریں ورنہ درخواست مسترد ہوجائے گی۔ فارم میں وہی کوائف دیں جو کہ آپ کے پاسپورٹ پر درج ہوں وگرنہ آپ کی درخواست پر اعتراض لگ جائے گا۔فارم کے تمام خانے پر کرنا ضروری ہے‘ اگر کوئی سوال آپ سے غیر متعلقہ ہو تو جواب کے خانہ میں “Not Applicable” لکھیں‘ کوئی خانہ خالی مت چھوڑیں۔ فارم کا جائزہ لینے کے بعد ہی submit کریں، اس کے بعد کوئی تبدیلی کرنا ممکن نہیںہوگی۔فارم پر کرتے وقت نامکمل چھوڑنا پڑ جائے تو اسے saveکرلیں۔تیس روز کے دوران دوبارہ لاگ ان ہوکر اسے مکمل کرسکتے ہیں۔ فارم مکمل ہونے پر اس کے کنفرمیشن پیج کے دو پرنٹ نکال لیں۔

ویزا فیسیں نیا شیڈول

نان امیگرنٹ ویزے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔160 ڈالر پٹیشن بیسڈ ویزے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 190 ڈالر ای ٹریٹی ٹریڈ،انویسٹر ویزا۔۔۔۔۔۔۔۔۔250 ڈالر منگیتر کا ویزا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔265 ڈالر

ٹوریسٹ ویزا

صاحب حیثیت لوگ سیر وتفریح کےلئے امریکہ جا سکتے ہیں اس کےلئے وہاں کے موسم اور مقامات سیاحت سے متعلق معلومات حاصل کریں پھر متعلقہ علاقہ یا شہر جہاں قیام کرنا چاہتے ہیں وہاں کے کسی ہوٹل میں انٹرنیٹ‘ فون یا وہاں موجود کسی دوست کے ذریعے بکنگ کروائیں۔ اس کے کم و بیش 3ماہ قبل ویزا کےلئے اپلائی کریں۔ کامیاب ہونے پر آپ کو آپ کے پروگرام کے مطابق زیادہ سے زیادہ 6ماہ تک کا ویزا مل سکتا ہے۔

ٹوریسٹ ویزا کےلئے اہلیت

انٹرویو کے دوران آپ نے ویزا افسر کو اپنی دستاویزات اور گفتگو سے ان باتوں کی یقین دہانی کرانی ہے۔ (i آپ کے دورہ کا مقصد محض سیر وتفریح ہے۔ (ii آپ مطلوبہ مدت ختم ہونے تک ہر صورت واپس آ جائیں گے۔ (iii امریکہ میں سیاحت کے مذکورہ پلان کےلئے آپ کے پاس وافر رقم موجود ہے۔ (iv آپ کے پاکستان میں مضبوط سماجی ومعاشی رشتے ہیں۔ ٹوریسٹ ویزے کیلئے اضافی دستاویزات ۔۔اپنے کاروباری ادارہ یا ملازمت کے کوائف(کاروباری ادارہ ہے تو اس کی رجسٹریشن،این ٹی این،چیمبر کی ممبرشپ اور بنک اکاو¿نٹ کے کاغذات،ملازمت کرتے ہیں تو اپوائنٹمنٹ لیٹراور سیلری سلپ وغیرہ) ۔۔چھ ماہ کی بنک سٹیٹمنٹ، جائیداد کے پیپرز، کریڈٹ کارڈز ۔۔ہوٹل بکنگ اور ریٹرن ایئر ٹکٹ ۔۔سپانسرلیٹر ۔۔ادارے سے چھٹی کی منظوری کا لیٹر مکمل ٹو ر پروگرام

ضروری ہدایات

ٹوریسٹ ویزا کےلئے آپ شروع میں بیان کردہ طریقہ کار کے مطابق ہی اپلائی کرینگے‘ اضافی دستاویزات ویزا افسر کو انٹرویو کے دوران طلب کئے جانے پر دکھائیں گے۔ یہ ظاہر کرنے کےلئے کہ آپ کے امریکہ جانے کا مقصد محض سیر وتفریح ہے آپ کسی خاص موقع مثلاً کرسمس‘ عالمی گیمزاور دیگر مواقع پر اپلائی کریں‘ شادی کے بعد ہنی مون ٹرپ کےلئے بھی درخواست دی جا سکتی ہے۔ یہ ثابت کرنے کےلئے کہ آپ مقررہ مدت سے پہلے واپس آ جائیں گے پاکستان میں اپنی مصروفیات ظاہر کریں۔ دستاویزات سے آپ یہ واضح کر سکتے ہیں کہ آپ کسی بزنس آرگنائزیشن کے مالک یا اہم رکن ہیں اور آپ کی عدم موجودگی میں وہ بزنس متاثر ہو گا۔ دیگر حقیقی مصروفیات بھی بیان کی جا سکتی ہیں۔ ٹور کےلئے وافر رقم کی موجودگی ظاہر کرنے کےلئے آپ کے پاس ٹھوس اور بھاری بینک سٹیٹمنٹ اور جائیداد کے ملکیتی کاغذات موجود ہونے چاہئیں۔ ہوٹل بکنگ کی رسیدیں اور ریٹرن ٹکٹ بھی ضرور ہمراہ لے جائیں۔ پاکستان میں مضبوط سماجی رشتوں کو ثابت کرنے کےلئے آپ شادی شدہ ہوں تو بہتر ہو گا‘ بچے ہوں تو وہ مزید پلس پوائنٹ تصور کیا جائے گا۔ اس کےلئے آپ کو کمپیوٹرائزڈ میرج سرٹیفکیٹ‘ شادی کی چند ایک تصاویر اور بچوں کے برتھ سرٹیفکیٹ انٹرویو کےلئے لے کر جانا ہوں گے۔ معاشی تعلق میں آپ کا کاروبار‘ ذاتی گھر‘ زمین اور جائیداد وغیرہ آ جاتیہیں۔ ان کے ملکیتی کاغذات بھی ضرور فائل میں لگا کر لے جائیں۔

میڈ یکل ٹریٹمینٹ ویزا

امریکہ میں علاج کرانے کےلئے بھی ٹوریسٹ ویزا B-2 ہی جاری ہوتا ہے جس کےلئے مریض کے پاس درج ذیل کاغذات ہونے چاہئیں۔ (i مقامی سپیشلسٹ ڈاکٹر کا تشخیصی لیٹر جس میں وضاحت کی گئی ہو کہ مریض کا پاکستان میں معقول (Proper) علاج نہیں ہو سکتا اور اس کےلئے امریکہ لے جانا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ (ii کسی امریکی ہسپتال یا ڈاکٹر کی طرف آنے والا خط جس میں علاج کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے علاج کے دورانیہ اور مکمل اخراجات کی تفصیل دی گئی ہو۔ (iii مریض یا لواحقین کی جانب سے مطلوبہ اخراجات برداشت کرنے کی اہلیت ثابت کرنے کےلئے بینک سٹیٹمنٹ۔ نوٹ: یہ دستاویزات آپ کو ویزا انٹرویو کے دوران پیش کرنا ہونگی۔ واضح رہے کہ بوگس کاغذات اور جعل سازی پر آپ کا امریکہ میں ہمیشہ کےلئے داخلہ بند ہو سکتا ہے۔ لہٰذا جینوئن دستاویزات بنوائیں اور غلط بیانی سے احتراز کیا جائے۔

بزنس ویزا

آپ بزنس مین ہیں اور کسی گروپ سے کاروباری معاہدے کےلئے امریکہ جانا چاہتے ہیں،کوئی مشینری خریدنی ہے یا کسی نمائش /کنونشن میں شرکت کے متمنی ہیں تو اس مقصد کےلئے B-1 ویزا جاری کیا جائے گا۔ طے شدہ تاریخوں سے 3ماہ قبل ویزا کےلئے اپلائی کیا جانا ضروری ہے۔ آپ نان امیگرنٹ ویزا کےلئے بتائے گئے طریقہ کار کے مطابق ہی درخواست دینگے اور اس کے ساتھ اضافی دستاویزات لگانے کی ضرورت نہیں ہے تاہم انٹرویو کے موقع پر آپ کے پاس درج ذیل کاغذات موجود ہونے چاہئیں۔ ٭ امریکی کاروباری ادارے کے ساتھ خط وکتابت کا ریکارڈ۔ ٭ سپانسر شپ لیٹر۔ ٭ کنونشن یا کاروباری نمائش میں شرکت کرنا ہو تو اس کا دعوت نامہ۔ ٭ جتنا عرصہ وہاں قیام کرنا ہے اس کےلئے ہوٹل کی بکنگ اور ریٹرن ایئر ٹکٹ۔ ٭ آپ اپنے ادارے کے واحد مالک ہیں‘ پارٹنر ہیں یا کوئی ذمہ دار عہدیدار اس کا بھی ثبوت پیش کرنا ہو گا۔ ٭ آپ کی جائیداد کے کاغذات اور بینک سٹیٹمنٹ۔ ٭ آپ کے پاس اپنے شہر کے چیمبر آف کامرس کی رکنیت بھی ہونی چاہئے۔

عارضی ورک اینڈ انٹر کمپنی ویزا

وہ لوگ جو امریکہ میں کسی مخصوص شعبہ میں کام کرنا چاہتے ہوں اور اس میں غیر معمولی علم ومہارت رکھتے ہوں ان کو عارضی ورک ویزا (H-1B) جاری کیا جاتا ہے۔ امریکہ میں پڑھنے کےلئے جانے والے افراد بھی اپنے سٹوڈنٹ ویزا کو ورک ویزا میں تبدیل کرانے کےلئے اپلائی کر سکتے ہیں۔ انٹراکمپنی ویزا (L-1) ان اعلیٰ تعلیم یافتہ ملازمین کو جاری کیا جاتا ہے جنہیں پاکستانی کمپنیاں اپنی امریکی برانچوں میں تعیناتی کےلئے بھیجتی ہیں۔ H-2B ورک ویزا ان ورکرز کےلئے مخصوص ہے جو کہ اعلیٰ تعلیم یافیہ نہ ہوں جبکہ H-3 ٹرینی ویزا امریکی کمپنیوں میں قلیل مدتی تربیتی پروگراموں کےلئے دیا جاتا ہے۔ عارضی ملازمین منگوانے کےلئے امریکہ میں موجود فرم ہوم لینڈ سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے یونائیٹڈ سٹیٹس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن کے شعبہ میں فارم I-129 پٹیشن دائر کرتی ہے جس کے منظور ہونے پر فرم کو فارم I-797 بھیجا جاتا ہے جو کہ پٹیشن کی منظوری کا نوٹیفکیشن ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ ویزا کی گارنٹی نہیں ہوتی‘ ابھی ویزا کےلئے اپلائی کرنے اور انٹرویو کے مرحلہ سے گزرنا باقی ہے۔

ویزا کےلئے اپلائی کیسے کیا جائے ؟

٭ ورک ویزا اور انٹر کمپنی ویزا کےلئے نان امیگرنٹ ویزوں کے بیان کردہ طریقہ کار کے مطابق فارم پُر کریں‘ 131ڈالر فیس جمع کرانے کے بعد پاسپورٹ‘ سفید بیک گراﺅنڈ والی 2″x2″ سائز کی تصویز‘ کمپنی سے ملنے والا فارم I-797‘ اصل تعلیمی اسناد بمعہ ایک فوٹو کاپی سیٹ‘ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے نام اسناد کی تصدیق کےلئے درخواست اورشناختی کارڈ کی فوٹو کاپی امریکن ایکسپریس کو جمع کروا کر انٹرویو کا ٹائم لے لیں۔ ٭  ایل ون کے درخواست گزاروں کو انٹرویو کے وقت 500ڈالر اضافی فیس جمع کرانا ہو گی۔  

حصول ویزا سے متعلق اہم سوالات

س: امریکہ کا نان امیگرنٹ ویزا حاصل کرنے کےلئے معیار کیا ہیں؟ میں ان پر کیسے پورا اتر سکتا ہوں؟ ج: امریکی قوانین کے مطابق بزنس B-1 اور وزٹ B-2 ویزا کےلئے اپلائی کرنے والوں کے پاس امریکہ جانے کی ٹھوس وجہ موجود ہونی چاہئے اور وہ انٹرویو کے دوران ویزا افسر کو اپنی دستاویزات اور دلائل سے یقین دلا سکیں کہ وہ اپنے عارضی دورہ کی تکمیل پر پاکستان ضرور واپس آ جائیں گے۔ F-1 سٹوڈنٹ اور J-1 ایکسچینج وزٹ ویزا کے درخواست گزار بھی اپنا تعلیمی معیار اور تعلیمی اخراجات باآسانی برداشت کرنے کی صلاحیت ثابت کرنے کے ساتھ ساتھ مذکورہ بالا یقین دہانیاں کرانے پر ہی ویزے حاصل کر پاتے ہیں۔ امریکی دفتر خارجہ کے مطابق مطلوبہ معیار چیک کرنے کےلئے کوئی طے شدہ فارمولہ موجود نہیں ہے۔ عموماً کامیاب ہونے والے امیدوار وہ ہوتے ہیں جو یہ ظاہر کر سکے ہوں کہ ان کا پاکستان کے ساتھ مضبوط رشتہ ہے۔ جیسا کہ خاندانی‘ کاروباری یا معاشرتی رشتے جن کےلئے انسان کو واپس پلٹنا پڑتا ہے۔ یہ بات بھی ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ ویزا افسر درخواست گزار کی اہلیت جانچنے کےلئے اس کے جمع کرائے گئے کاغذات‘ فارم میں درج معلومات اور انٹرویو کے ذریعے اس کی صورتحال کا مکمل جائزہ لیتا ہے۔ اس عمل میں کوئی ایک وجہ اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ وہ ویزے کےلئے اہل قرار پائے گا۔ س: کیا امریکی ویزے کےلئے گزشتہ چند سالوں میں معیار سخت کر دیا گیا ہے؟ ج: امریکی دفتر خارجہ کے مطابق نان امیگرنٹ ویزا کےلئے طے شدہ معیار اور قوانین بہت سالوں سے تبدیل نہیں ہوئے۔ آج بھی وہی معیار ہے جو کہ 10برس قبل تھا۔ متعلقہحکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بھی وہی معیار رائج ہے جو کہ دوسرے کسی ملک میں ہے۔ تاہم انتظامی امور اور ویزا اجراءکےلئے ایک محتاط طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے جس سے یہ سارا عمل خاصا طویل ہو گیا ہے۔ س: میں نے ورک ویزا H-1 یا انٹر کمپنی ویزا L-1 کےلئے اپلائی کیا ہے‘ مجھے اپنی تمام اصل تعلیمی اسناد امریکن ایکسپریس کو کیوں جمع کرانا پڑی ہیں؟ ج: امریکی ایمبیسی نے مذکورہ کیٹگری کے ویزوں کےلئے ایک پالیسی بنائی ہے جس کے تحت اسناد کی ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان سے تصدیق کرائی جاتی ہے۔ یہ ایک لازمی امر ہے جس کے مکمل ہونے کے بعد آپ کو اصل اسناد واپس کر دی جائیں گی۔ س: کیا الیکٹرانک ویزا فارم ہی جمع کرانا ضروری ہے؟ ج: جی ہاں! نان امیگرنٹ ویزا کےلئے اپلائی کرنے کےلئے آپ صرف الیکٹرانک ویزا اپلیکیشن فارم (EVAF) ہی استعمال کر سکتے ہیں جسے ویب سائٹ evisaforms.state.gov کھول کر وہیں پر پُر کر کے اس کا پرنٹ حاصل کیا جائے گا۔ فارم پر لگے مخصوص بارکوڈ کے باعث آپ کے کوائف فوری طور پر سفارتخانے کے متعلقہ سیکشن اور امریکن ایکسپریس / سپیڈیکس تک پہنچ جائیں گے اور انٹرویو کے وقت کا خودکار طریقہ سے تعین کیا جا سکے گا۔ س: کیا میں اپنے موجودہ ویزے کی مدت ختم ہونے سے پہلے دوبارہ ویزے کےلئے اپلائی کر سکتا ہوں؟ ج: جی ہاں! اگر آپ کے پاس تسلسل کے ساتھ امریکہ جانے کی ٹھوس وجہ موجود ہے تو امریکی سفارتخانہ پہلے ویزا کے ختم ہونے سے پہلے نئے ویزا کےلئے درخواست دینے کے عمل کی حوصلہ افزائی کرے گا۔

انٹرویو کے بعد کے سوالات

س: حال ہی میں میری ویزا درخواست مسترد کر دی گئی مگر انٹرویو کرنے والے ویزا افسر نے میری کسی بھی دستاویز کا معائنہ نہیں کیا‘ ایسا کیوں ہے؟ ج: ویزے کےلئے سب سے اہم دستاویزات آپ کا پاسپورٹ اور ویزا فارم ہیں جو کہ ویزاافسر کو کسی فیصلے تک پہنچنے کےلئے کافی معلومات مہیا کر دیتے ہیں۔ آپ کو ویزا اپلیکیشن فارم نہایت احتیاط اور سوچ بچار کے ساتھ پُر کرنا چاہئے اور انٹرویو کے وقت اپنے نئے پرانے تمام پاسپورٹ لے کر جانے چاہئیں۔ دیگر کاغذات ویزے سے متعلق فیصلے کےلئے ہمیشہ ضروری نہیں ہوتے۔ کچھ امیدوار صرف چند اضافی کاغذات کے ساتھ کامیاب قرار پاتے ہیں اور کچھ بہت ساری دستاویزات ساتھ لانے کے باوجود اہل نہیں ٹھہرتے۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ دستاویزات آپ کی انہی باتوں یا معلومات کو تقویت پہنچاتی ہیں جو کہ آپ نے ویزا فارم میں لکھی ہیں یا دوران انٹرویو بتاتے ہیں۔ ویزا سیکشن کے مطابق اس کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ بدقسمتی سے اکثر کیسوں میں مقامی اداروں کی جاری کردہ دستاویزات ناقص کوالٹی کنٹرول کے باعث قابل بھروسہ نہیں ہوتیں۔ جبکہ بعض کاغذات بوگس بھی ہوتے ہیں۔ چونکہ سفارتخانہ تمام چھوٹی موٹی دستاویزات کی تصدیق کرانے سے قاصر ہوتا ہے لہٰذا ویزا افسر کو اکثر وبیشتر فارم میں درج کوائف اور انٹرویو کے دوران ملنے والی معلومات کی بنیاد پر ہی کوئی فیصلہ لینا ہوتا ہے۔ س: کیا میں ویزا درخواست مسترد ہونے پر اپیل کر سکتا ہوں؟ ج: نہیں! نان امیگرنٹ ویزوں کےلئے اپیل نہیں کی جا سکتی۔ تمام امیدوار جن کی درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں ان کو ایک خط (Refusal Letter) جاری ہوتا ہے جس میں ویزا جاری نہ کئے جانے کی وجہ تفصیل کے ساتھ بیان کی جاتی ہے۔ کچھ عرصہ بعد اگر آپ سمجھتے ہیں کہ حالات وواقعات تبدیل ہو چکے ہیں اور آپ اس کمزوری پر قابو پا چکے ہیں جس کے باعث آپ کی درخواست مسترد ہوئی تھی تو آپ ویزا کےلئے دوبارہ اپلائی کر سکتے ہیں۔ ایمبیسی کی ہر ممکن کوشش ہو گی کہ انٹرویو کےلئے اس بار کسی اور ویزا افسر کی ذمہ داری لگے۔ تاہم نیا افسر بھی سابقہ افسر کے لکھے نکات (Refusal notes) کا ضرور جائزہ لے گا اور آپ کی اہلیت کو ٹھوس انداز میں جانچے گا۔ اس کا فیصلہ ہاں یا ناں دونوں صورتوں میں ہو سکتا ہے۔ س: ویزا افسر نے انٹرویو کے بعد مجھے کہا کہ آپ کے کیس کو انتظامی عمل (Administrative Processing) کی ضرورت ہے مگر میرے دوست کو ایسا نہیں کہا‘ ایسا کیوں ہوا؟ ج: ویزا سیکشن کے مطابق ہر کیس کی نوعیت مختلف ہوتی ہے اور ویزا افسر انٹرویو سے قبل یہ نہیں کہہ سکتے کہ کس کیس کو انتظامی عمل سے گذارنے کی ضرورت ہے یا کس کو نہیں۔ نتیجتاً جب لوگ اکٹھے اپلائی کرتے ہیں تو بعض گروپ ممبرز کےلئے اس عمل کی ضرورت پڑتی ہے اور دیگر کےلئے محسوس نہیں کی جاتی۔ س: انٹرویو کے بعد بھی میرا پاسپورٹ سفارتخانے میں ہی جمع ہے‘ اس دوران مجھے کسی اور ملک کا سفر کرنا پڑے تو میں کیا کروں؟ ج: آپ کو پاسپورٹ کی ضرورت ہے تو ویزا افسر کو وجہ بتا کر لے جائیں۔ آپ اپنا پاسپورٹ اپنے پاس جب تک چاہیں رکھ سکتے ہیں تاہم سفارتخانہ آپ کے پاسپورٹ دوبارہ جمع کرانے پر ہی ویزا لگانے یا مسترد کرنے کا عمل شروع کر سکے گا۔

ویزا جاری ہونے کے بعد

  س: کیا کامیابی کی صورت میں مجھے اسی روز ویزا مل سکتا ہے؟ ج: بدقسمتی سے نہیں! ویزا جاری ہونے کے بعد سفارتخانے کو پورا عمل مکمل کرنے کےلئے پانچ سے دس دن درکار ہوتے ہیں اور یہ طریقہ کار تمام نان امیگرنٹ کیسوں کےلئے یکساں ہے۔ س: میں اپنا ویزا اور پاسپورٹ کہاں سے حاصل کروں گا؟ ج: آپ کو کامیاب ہونے پر ایک ٹوکن جاری کیا جائے گا اور آپ انٹرویو کے بعد 5سے 10روز کے درمیان امریکن ایکسپری سے ٹوکن دے کر اپنا ویزا لگا پاسپورٹ حاصل کر سکیں گے۔ س: کیا میری جگہ کوئی دوسرا میرا پاسپورٹ وصول کر سکتا ہے؟ ج: سفارتخانہ اس بات کی سختی سے تاکید کرتا ہے کہ اپنا پاسپورٹ خود وصول کریں‘ تاہمکسی خاص مجبوری کے باعث آپ امریکن ایکسپریس تک نہیں جا سکتے تو کسی شخص کو ٹوکن اور اپنی طرف سے اتھارٹی لیٹر دے کر بھیج دیں۔ اس کے پاس اپنا اور آپ کا قومی شناختی کارڈ ضرور ہونا چاہئے۔

امریکہ میں حصول تعلیم

US study visa امریکہ میں تعلیم حاصل کرنا ہر سٹوڈنٹ کا خواب ہوتا ہے۔آپ ایفورڈکرتے ہیں تو اپنے اخراجات پر وہاں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ بصورت ِدیگر کسی سکالر شپ کے لیے اپلائی کیا جاسکتاہے۔ زیادہ تر نوجوان چاہتے ہیں کہ انھیں ٹوفل کا امتحان نہ دینا پڑے اور امریکی تعلیمی اداروں میں داخلہ مل جائے۔ مگرکوئی امریکی کالج اور یونیورسٹی ٹوفل کے بغیر داخلہ نہیں دیتی تاہم ٹوفل امتحان میں سکور کا لیول مختلف تعلیمی اداروں کے لیے مختلف ہے۔ اگر آپ کو انگریزی زبان پر اتنا عبور نہیں کہ آپ ٹوفل کا امتحان دے سکیں تو آپ کو امریکی اساتذہ یا پروفیسرز کے لیکچرز کی سمجھ بالکل نہیں آئے گی۔اس لیے امریکہ جانے کے خواہشمند ہیں تو ٹوفل کی تیاری کریں۔ آپ سٹڈی ویزے پر امریکہ جاکر پیسے کمانا چاہتے ہیں تو پہلے آپ کو یہ سمجھنا ہو گا کہ امریکہ سٹڈی کے لیے دو طرح کے ویزے جاری کرتا ہے۔ جب آپ سکالر شپ یا کسی کی سپانسرشپ پر امریکہ جائیں گے تو جے ون (J-1) ویزہ کیلئے اپلائی کریں گے۔ اور اگر اپنے خرچے پر جانا ہے تو آپ کو ایف ون (F-1) ویزہ ملے گا۔ جے ون ویزہ پر آپ نوکری نہیں کر سکتے اور نہ کوئی آپ کو نوکری دے سکتا ہے۔ جبکہ ایف ون ویزہ پر آپ ہفتے میں تقریبا اکیس گھنٹے کام کر سکتے ہیں۔ عام طور پر فی گھنٹہ ساڑھے سات سے دس ڈالر فی گھنٹہ معاوضہ دیا جاتا ہے۔ اب یہ جان لیں کہ امریکہ میں سٹڈی ویزے کی غرض سے گئے ہیں تو آپ کو پڑھنا پڑے گا۔ امریکہ میں کلاس میں نوے فیصد حاضری لازمی ہوتی ہے۔ امریکہ کے سٹڈی ویزہ کے لیے آپ کو ہوسٹ انسٹی ٹیوشن کی طرف سے ایک خصوصی دستاویز (I-20 یا DS-2019) درکار ہوتی ہے۔جس پر دراصل سکیورٹی سافٹ ویئر کا مخصوص نمبر درج ہوتا ہے۔ اس سکیورٹی سافٹ ویر پر آپ کی مکمل معلومات درج ہوتی ہیں۔ جب آپ کالج سے مخصوص ٹائم تک غیر حاضر ہو جائیں تو کالج اس سافٹ ویر میں آپ کا سٹیٹس تبدیل کر دیتا ہے۔ اب آپ غیر قانونی تصورکئے جائیں گے اور ہوم لینڈ سکیورٹی آپ کی تلاش شروع کر دے گی۔ امریکہ میں رہائش، ٹرانسپورٹ، ٹیکس (کسی کو ٹیکس میں چھوٹ نہیں)، خوراک، تعلیم اور میڈیکل کے اخراجات آسان نہیں۔ اس لیے آپ کو بہت محنت سے پیسے کمانا پڑتے ہیں جب کہ آپ مقررہ حد سے زیادہ کام بھی نہیں کر سکتے، کیونکہ تمام نظام کمپیوٹر سے منسلک ہونے کی وجہ سے آپ کہیں بھی چھپ نہیں سکتے۔ ان تمام تر معلومات کے حاصل کرنے کے بعد بھی آپ پیسے کمانے کی غرض سے سٹڈی ویزے پر امریکہ آنا چاہتے ہیں تو یہ کوئی معقول فیصلہ نہیں ہو گا۔ اگر آپ پاکستان میں اچھی مالی حثییت رکھتے ہیں تو اپنے اخراجات پر امریکہ میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ دوسری صورت میں امریکہ میں آپ کو سکالرشپ پروگرام بھی بآسانی مل جاتے ہیں۔ اور اس کے لیے نہ کسی جھوٹی بینک سٹیٹمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ کسی کنسلٹنٹ کی۔ تو سب سے پہلے اپنی نیت نیک بنائیں۔۔ کوئی ٹھوس اور مثبت فیصلہ لیں۔۔پھر ویزے کے حصول کا عمل شروع کریں۔۔کوئی رکاوٹ آپ کو روک نہیں پائے گی۔

تعلیمی ویزا کی اقسام:

تعلیمی ویزا کی 2 اقسام ہیں۔ (i) سٹوڈنٹ ویزا (F-1): یہ ان طلباءکےلئے ہے جو کہ باقاعدہ کسی تسلیم شدہ امریکی ادارے میں کل وقتی تعلیم حاصل کرنا یا تحقیق کرنا چاہتے ہیں۔ (ii) سٹوڈنٹ ویزا (M-1): یہ ویزا غیر نصابی یا پیشہ وارانہ تعلیم کےلئے ہے جس کےلئےکسی غیر نصابی ادارے کا بھی انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ اہلیت: .1 کسی امریکی کالج میں بیچلر کورس میں داخلہ کےلئے ضروری ہے کہ پاکستان میں تعلیم کے 12سال مکمل کئے ہوں یعنی کہ انٹرمیڈیٹ پاس ہوں۔ ماسٹر ڈگری کےلئے 16سالہ پاکستانی تعلیم مکمل ہونی چاہئے کیونکہ ہمارے ہاں بیچلر ڈگری (ڈاکٹرز اور انجینئرز کے علاوہ) دو سال میں ہوتی ہے جبکہ امریکی نظام تعلیم میں یہ مرحلہ کم از کم 4 سال پر محیط ہوتا ہے۔ 2 اکیڈمک ریکارڈ اچھا ہونا چاہئے۔ .3 مالی پوزیشن مضبوط ہو یعنی وہاں کے تعلیمی اخراجات برداشت کر سکتے ہوں۔
  • 4انگلش لینگوئج پر عبور ہو اور ٹوفل کم از کم 250 پوائنٹس کے ساتھ پاس کیا ہو سٹڈی ویزا کےلئے مختلف مراحل . سب سے پہلے طے کریں کہ آپ نے کون سا کورس کرنا ہے اور اس کےلئے کون سا کالج/ یونیورسٹی بہتر ہے۔ اس مقصد کےلئے آپ مختلف تعلیمی اداروں کی ویب سائٹس وزٹ کریں اور ان کے تعلیمی پروگراموں کے ساتھ ساتھ فیسوں کا بھی جائزہ لیں۔ اس سلسلہ میں درج ذیل ویب سائٹس آپ کےلئے انتہائی مفید ثابت ہونگی۔ www.collegesource.com یہ ایک سرچ ٹول ہے جس پر آپ تعلیمی کورس اور دیگر ضروریات لکھیں گے تو یہ مطلوبہ تعلیمی اداروں کی فہرست بنا دے گا۔ www.collegeboard.com یہ سائٹ بھی آپ کےلئے موزوں ادارے ڈھونڈنے میں مددگار ثابت ہو گی۔ www.petersons.com اس سائٹ سے کالج/ یونیورسٹی کے انتخاب اور داخلہ سمیت دیگر مفید معلومات مل سکیں گی۔ www.utexas.edu/word/univ مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں کی ویب سائٹس تک پہنچنے میں یہ سائٹ آپ کی مدد کرے گی۔ www.newslink.org مختلف کالجز کے نیوز پیپرز اور جرائد تک اس سائٹ کے ذریعے رسائی ہو سکتی ہے جس سے آپ ان اداروں کے بارے میں بہت کچھ جان سکیں گے۔ www.campustours.com یہ سائٹ بھی مختلف یونیورسٹیوں کی ویب سائٹس تک پہنچنے میں کارآمد ثابت ہو گی۔ .2 تعلیمی ادارہ کے انتخاب کے مرحلہ کے دوران ہی آپ لینگوئج/ ایڈمیشن ٹیسٹ کی تیاری بھی شروع کر دیں جس کےلئے مکمل معلومات ان سائٹس سے حاصل کریں گے۔ یہیں پر لینگوئج ٹیسٹ کےلئے انٹری سمیت دیگر معاملات ہوں گے۔ (i Toefl (Test of English as a Foreign Language)کےلئے www.toefl.org (ii SAT (ScholasticAchievementTest) کےلئے www.collegeboard.com (iii ACT (American College Test) کےلئے www.act.org (iv GRE (Graduate Record Examination) کےلئے www.gre.org (v GMAT (Graduate Management Admission Test) کےلئے www.gmat.org (vi USMLE (U.S Medical Licensing Examination) کےلئے www.usmle.org .3 کم از کم تین تعلیمی اداروں میں بذریعہ میل “Admission Request” بھیجیں اور انرولمنٹ کرائیں اس کےلئے ادارے کو مطلوب تعلیمی سرٹیفکیٹس اور کوائف میل کریں۔ بعض کالج اور یونیورسٹیاں “Recommendation letter” بھی مانگتی ہیں۔ .4 اس مرحلہ پر ہی آپ کو امریکہ میں رہائش کا فیصلہ بھی کرنا ہے آیا “On campus housing” اختیار کرنی ہے یعنی تعلیمی ادارہ کے ہاسٹل میں رہیں گے یا “Off campus” یعنی کہ کالج/ یونیورسٹی کے باہر رہنا ہے۔ تعلیمی ہاسٹل میں رہائش کےلئے آپ کو فیسوں کے ساتھ ہی اس کے چارجز بھی جمع کرانا ہوں گے بصورت دیگر وہاں جا کر انتظام کریں گے۔ آپ کو مطلوبہ ادارہ داخلہ دینے پر رضامند ہو گیا تو I-20 یا DS-2019 فارم جاری کرے گا جس کی بناءپر ویزا کےلئے اپلائی کریں گے۔ بعض ادارے صرف داخلہ فیس جمع کر کے I-20 جاری کر دیتے ہیں جبکہ بعض پہلے سال کی مکمل فیس لیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی آپ نے 200 امریکی ڈالر “SEVIS FEE” الگ سے www.fmjfee.com پر آن لائن جمع کرانی ہے۔.6 اب آپ ویزے کےلئے اپلائی کرینگے۔ یاد رہے کہ یہ سارا عمل آپ نے متعلقہ تعلیمی پروگرام شروع ہونے سے کم از کم 3ماہ قبل شروع کرنا ہے۔ ویزا اپلائی کرنے کا جنرل طریقہ پیچھے بیان کیا جاچکاہے ۔ اضافی فارموں کی تفصیل بھی دی گئی ہے۔ اس کے مطابق اپلائی کریں اور انٹرویو کا وقت لیں۔
  • ویزا انٹرویو

  • ویزا انٹرویو کےلئے سٹوڈنٹس اپنے تمام اصل کاغذات ہمراہ لے کر جائیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔ ٭ تمام تعلیمی اسناد اور ڈپلومے (جن لفافوں میں بورڈ یا یونیورسٹی نے پوسٹ کئے ان کے ساتھ) ٭ متعلقہ امریکی تعلیمی ادارے کے مطلوبہ ٹیسٹ مثلاً TOEFL‘ SAT یا GMAT میں حاصل کردہ سکورز کا رزلٹ۔ ٭ ایک سال کے تعلیمی ورہائشی اخراجات برداشت کرنے کی اہلیت ثابت کرنے کےلئے بنک سٹیٹمنٹ یا دیگر ثبوت۔ ٭ غیر کفیل طلباءجس فرد کی سٹیٹمنٹ پیش کریں گے اس کے ساتھ رشتہ ثابت کرنے کےلئے دستاویزات (مثلاً فارم ب‘ برتھ سرٹیفکیٹ وغیرہ) ٭ پوسٹ گریڈ سٹوڈنٹس اپنا سی وی‘ چھپے ہوئے آرٹیکلز‘ تعلیمی ریکارڈ‘ جاب ہسٹری اور امریکہ کےلئے ریسرچ پلان کی تفصیلات بھی مہیا کریں گے۔ نوٹ: ویزا ملنے کی صورت میں آپ کلاسز شروع ہونے سے ایک ماہ پہلے امریکہ میں داخل ہوسکتے ہیں۔ ایک ماہ سے زائد عرصہ پہلے اجازت نہیں ہو گی۔ کلاسز کے اجراءکی تاریخ فارم I-20 میں درج ہوتی ہے۔ اہم سوالات اور ان کے جوابات س: ویزا حاصل کرنے کے عمل پر کتنا خرچہ ہو گا؟ ج: سٹوڈنٹ ویزا حاصل کرنے تک کے عمل میں مختلف فیسوں اور چھوٹے موٹے اخراجات کی مد میں تقریباً 60 سے 70ہزار روپے تک خرچ ہونگے۔ س: امریکہ میں تعلیم کےلئے سالانہ کتنا خرچہ ہے؟ ج: وہاں آپ کو 10 سے 15ہزار ڈالر سالانہ درکار ہونگے۔ جس میں ٹیوشن فیس‘ رہائشی اخراجات‘ کتب اور ذاتی اخراجات وغیرہ شامل ہیں۔ یہ ایک اوسط تخمینہ ہے کیونکہ بعض امریکی یونیورسٹیاں 30ہزار ڈالر سالانہ تک چارج کرتی ہیں اور کئی کے اخراجات 5ہزار ڈالرتک بھی ہیں۔ اوسط تخمینہ کے مطابق تفصیل اس طرح ہو گی۔Tuition fee (one year) = (3500 – 25000 dollar) Room & board = (4000 – 12000 dollar) Books & supplies = (500 – 1000 dollar) Health insurance = (400 – 600 dollar) Personal expenses = (1200 – 3000 dollar)نوٹ: پرائیویٹ کالج یا یونیورسٹی کی صورت میں ٹیوشن فیس ڈبل ہو جائے گی۔س: کیا میں دوران تعلیم کام کر سکتا ہوں؟ج: غیر ملکی طلباءکا امریکہ میں کوئی نوکری تلاش کرنا بہت مشکل ہے۔ آپ تعلیمی اخراجات پورے کرنے کےلئے اس پر انحصار نہیں کر سکتے۔ مزید برآں “Off Campus” ورکنگ غیر قانونی ہے جو کہ آپ کو ڈی پورٹ کرانے کا باعث بن سکتی ہے البتہ “On Campus” ہفتہ میں 20 گھنٹے تک کام کی اجازت ہے جس سے آپ سالانہ 3 ہزار ڈالر تک کما سکیں گے۔ طلباءکو کیمپس میں انٹرنیشنل سٹوڈنٹس آفس کے ذریعے چھوٹی موٹی پارٹ ٹائم نوکریوں کی پیشکشیں آتی رہتی ہیں۔س: کیا مجھے امریکہ میں تعلیمی اخراجات کےلئے قرض مل سکتا ہے؟ج: غیر ملکی طلباءکےلئے امریکی بنک یا کسی آرگنائزیشن سے قرضہ حاصل کرنا ایک مشکل کام ہے اور بعض دفعہ تو یہ ناممکن بھی ہو جاتا ہے تاہم گریجوایٹ کورسز کےلئے آپ کو وہاں رہائش پذیر رشتہ داروں یا فیملی فرینڈز کے توسط سے لون مل سکتا ہے۔

    رجسٹرڈ نرس ورک ویزا (H-1C)

    امریکہ میں نرسوں کی کمی کے باعث کانگریس نے نرسنگ ریلیف ایکٹ کے ذریعے 1999ءمیں نرسوں کےلئے خصوصی ویزا H-1C کی منظوری دی تاہم 13جون 2005 کو اس ایکٹ کی مدت پوری ہو گئی اور اب اس کیٹگری کے ویزے جاری نہیں کئے جاتے۔ نئے طریقہ کار کے مطابق کوالیفائیڈ نرسیں سکلڈ ورکر کے طور پر H-1B ویزا کےلئے اپلائی کر سکتی ہیں جس کا طریقہ کار پچھلے صفحات پر تفصیل کے ساتھ درج ہے۔ واضح رہے کہ اب بھی امریکہ میں نرسوں کی کمی محسوس کی جاتی ہے لہٰذا دیگر ورکرز کی نسبت ان کو آسانی سے ویزا جاری ہو جاتا ہے۔
  • اقوام متحدہ کے عملہ کےلئے ویزے

    مختلف مشنوں پر امریکہ جانے والے اقوام متحدہ کے عملہ کو عارضی قیام کےلئے ایک ماہ کا ویزا دیا جاتا ہے‘ مشن لمبا ہو تو 3سال تک کےلئے بھی ویزا جاری ہو جاتا ہے۔ ان کو C-1, C-2, C-3 کیٹگری کے ویزے کہا جاتا ہے۔ فضائی کمپنیوں کے ملازمین کےلئے ویزے ایئرلائنز کے عملہ کو امریکہ میں سیر وتفریح یا نجی دورہ کےلئے بھی متعلقہ کمپنی کی ضمانت پر 30دن تک کا ویزا مل جاتا ہے۔ اس کےلئے ریٹرن ٹکٹ کنفرم ہونے کی شرط ہے۔ اس نوعیت کے ویزوں کو ڈی کیٹگری میں شمار کیا جاتا ہے۔

    عالمی تنظیموں کا عملہ

    منظور شدہ عالمی تنظیموں جن کو امریکہ نے بھی تسلیم کیا ہو وہ امریکہ میں اپنا عملہ تعینات کرتی ہیں تو انہیں ملازمت کی مدت تک کا ویزا جاری کر دیا جاتا ہے۔ یہ ویزے G-1 اور G-2 کیٹگری کے ہوتے ہیں۔ ان ملازمین کے بیوی اور بچوں کو الگ الگ ویزے ملتے ہیں جو کہG-4, G-3 اور G-5 کہلاتے ہیں۔ ان کی مدت بھی عرصہ ملازمت جتنی ہوتی ہے۔
  • میرج ویزا

  • اگر آپ کی کسی امریکی شہری (مرد یا عورت) سے شادی ہونا ہے تو اس کےلئے دو طریقے ہیں۔ امریکی شہری پاکستان آئے اور یہاں شادی کرنے کے بعد آپ کےلئے نان امیگرنٹ ویزا اپلائی کیا جائے جو ملنے پر آپ دونوں امریکہ جائیں اور وہاں پہنچ کر امیگریشن کےلئے اپلائی کیا جائے۔ دوسری صورت میں اگر امریکہ میں شادی کرنا ہے تو امریکی منگیتر وہاں سے آپ کو سپانسر کرے پر آپ یہاں سے نان امیگرنٹ K-1 ویزا حاصل کریں اور وہاں جا کر امریکی قوانین کے مطابق رجسٹرڈ شادی کر لیں جس کے بعد امیگریشن کےلئے پٹیشن دائر کی جائے گی۔

    امریکہ میں داخلے اور انخلاءکےلئے سپیشل رجسٹریشن

    نائن الیون کے بعد امریکہ نے جہاں اور بہت سے سکیورٹی اقدامات کئے ہیں وہیں ملک میں آنے اور جانے والے غیر ملکیوں کی جانچ پڑتال کا سلسلہ بھی بہت سخت کر دیا ہے جس کے مطابق اب امریکہ میں داخلے کے وقت ایئرپورٹ پر موجود امیگریشن حکام رجسٹریشن کرتے ہیں۔ اگر 30روز یا اس سے زائد قیام کرنا ہو تو امیگریشن آفس میں باقاعدہ انٹرویو ہوتا ہے اور کاغذات کی جانچ کی جاتی ہے۔ فنگر پرنٹس اور تصاویر لی جاتی ہیں بعد ازاں اگر آپ نے اپنی رہائش‘ کام کی جگہ یا تعلیمی ادارہ بدلنا ہو تو 10 روز کے اندر مطلع کرنا ضروری ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ سپیشل رجسٹریشن تمام لوگوں کےلئے ضروری ہے اور اگر کوئی غیر ملکی اس طریقہ کار کے مطابق کارروائی سے انکار کرے تو اس کو ڈی پورٹ کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح اگر امیگریشن حکام انٹرویو اور کاغذات سے مطمئن نہ ہوں تو بھی ڈی پورٹ کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ فیملی کے ساتھ آئے ہیں تو آپ کو کچھ دیر کےلئے فیملی ممبرز سے الگ کر کے سارا عمل مکمل کیا جائے گا۔ رجسٹریشن کا یہی عمل دیگر فیملی ممبرز کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔

    امریکہ میں داخلہ کے بعد

    انٹری مل جانے پر 30روز کے بعد اور 40 دن سے پہلے قریب ترین INS ڈسٹرکٹ یا سب آفس جا کر رپورٹ کریں گے۔ اگر آپ نے ایک سال یا زیادہ قیام کرنا ہے تو ایک سال بعد پھر اسی آفس میں جا کر رپورٹ کرنا ضروری ہے اس کےلئے پہلے سے وقت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہاں ہر بار آپ کے فنگر پرنٹس لئے جائیں گے‘ کوائف چیک ہوں گے اور امریکہ میں قیام کےلئے ضروری ہدایات دی جائیں گی۔ اگر آپ سیر وتفریح کر رہے ہیں تو مقررہ تاریخوں میں جہاں بھی ہوں‘ قریب ترین آئی این ایس آفس جائیں گے اور اپنے وزٹ سے متعلق تمام تفصیلات بھی ان حکام کو دیں گے۔ (نوٹ: رپورٹ نہ کرنے کی صورت میں ہوم لینڈ سکیورٹی کے حکام آپ کو گرفتار کر سکتے ہیں جس کے بعد جرمانے کے علاوہ ملک بدر بھی کیا جا سکتا ہے۔
  • us immigration
  • امیگرنٹ ویزا

    امریکہ کے مستقل ویزا کے حصول کےلئے ضروری ہے کہ کوئی امریکی شہری (فیملی ممبر یا کمپنی مالک) آپ کو سپانسر کرے اور ہر قسم کی ذمہ داری لے۔ امیگریشن قوانین کے مطابق خونی رشتہ دار ہی ایک دوسرے کو سپانسر کر سکتے ہیں اور اس کی ایک حد مقرر ہے۔ امیگریشن ویزا کی اقسام درج ذیل ہیں۔ .1 فیملی امیگریشن .2 شادی کے ذریعے امیگریشن .3 مستقل نوکری کے ذریعے امیگریشن .4 بذریعہ سرمایہ کاری امیگریشن امیگرنٹ ویزا کے حصول کا طریقہ کار ٭ امریکی شہری جس نے ویزا سپانسر کرنا ہے وہ اپنے پاکستانی رشتہ دار یا ملازم کےلئے محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ میں ایک I-130 پٹیشن دائر کرے گا۔ ٭ پٹیشن کی فیس 355 امریکی ڈالر ہے۔ ٭ پٹیشن دائر کرنے والا (Petitioner) امریکی شہری 6ماہ تک پاکستان میں قیام کر کے آیا ہو۔ ٭ جس پاکستانی کےلئے پٹیشن دائر کی جا رہی ہے اس کی امریکہ میں اس وقت موجودگی ضروری نہیں۔ ٭ پٹیشن منظور ہونے کی صورت میں I-130 فارم نیشنل ویزا سنٹر بھیج دیا جائے گا جو کہ سب سے پہلے سپانسر سے ذمہ داری کا اشٹام (Affidavit of support) جمع کریں گے۔ ٭ نیشنل ویزا سنٹر پٹیشن کی مطلوبہ تاریخ آنے پر پاکستانی شہری (جس کےلئے پٹیشن دائر کی گئی تھی) کو Packet-3 لیٹر بھیجے گا جس میں مستقل ویزا کےلئے مطلوبہ کاغذات اور آئندہ کا لائحہ عمل تمام ہدایات سمیت درج ہو گا۔ ٭ تمام مطلوبہ کاغذات حاصل کرنے کے بعد امیدوار پیکٹ۔3 لیٹر کی پشت پر اپنے دستخط کرے گا اور اسے فارم OF-230 کے ساتھ ایمبیسی کے قونصلر سیکشن کو بھجوادے گا۔ ٭ اب امیدوار کو ویزا سنٹر سے فارمز‘ معلومات اور کاغذات کےلئے درخواست پر مشتمل ”پیکٹ:305“ بھجوایا جائے گا۔ ٭ امیدوار تمام فارم پر کرے گا اور مطلوبہ کاغذات کے ہمراہ اسے امریکن ایکسپریس کے ذریعے واپس بھجوائے گا۔ ٭ پیکٹ واپس ملنے پر ویزا سیکشن آئندہ چند روز میں انٹرویو کا وقت مقرر کرے گا۔ ٭ انٹرویو کے روز امیدوار حلف لینے اور انٹرویو دینے سے قبل IV پراسیسنگ فیس جمع کرائے گا جو کہ 400ڈالر ہو گی۔ ٭ انٹرویو کے روز امیدوار اپنے میڈیکل ٹیسٹوں کی رپورٹس سمیت تمام مطلوبہ اصل کاغذات ساتھ لے کر جائے۔ نوٹ: سرمایہ کاری کے ذریعے مستقل ویزا حاصل کرنے کےلئے امیدوار خود I-526 پٹیشن دائر کرے گا۔ واضح رہے کہ اس کیٹگری میں امریکہ ہر سال 10ہزار سرمایہ کاروں کو امیگرنٹ ویزے جاری کرتا ہے اس کےلئے امیدوار کی امریکہ میں کم از کم 10لاکھ ڈالر کی انویسٹمنٹ ضروری ہونی چاہئے اور اس کی کمپنی سے کم از کم 10روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہوں۔ مطلوبہ سرمایہ بلیک منی نہیں ہونا چاہئے۔ ان تمام شرائط کے دستاویزی ثبوت پیش کرنا ہونگے۔
  • امیگرنٹ ویزا سے متعلق اہم سوالات

      س: مجھے سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز سے پٹیشن منظور ہونے کا نوٹس مل چکا ہے
  • مگر کیس ابھی نیشنل ویزا سنٹر کیوں نہیں پہنچا؟
  • ج: نیشنل ویزا سنٹر کیس ضرور پہنچ چکا ہے تاہم آپ کو کم از کم 3ہفتے پٹیشن کی منظوری کے بعد انتظار کرنا پڑے گا کیونکہ اس دوران سنٹر نے کیس ریکارڈ بنانا ہے اور اس کو ایک کیس نمبر دینا ہے لہٰذا آپ 3ہفتے بعد سنٹر سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
  • س: میرا کیس نیشنل ویزا سنٹر پہنچ چکا ہے اب آگے کیا ہو گا؟
  • ج: یہ آپ کے کیس کی نوعیت پر منحصر ہے۔ اگر یہ قریب ترین رشتہ دار سپانسرڈ یا میرج کیس ہے تو یہ خودبخود اگلے مرحلہ میں چلا جائے گا یعنی کہ سنٹر آپ سے جلد رابطہ کرے گا۔ اگر آپ کی ویزا کیٹگری فیملی پریفرنس یا ملازمت ہے تو اس کےلئے ایک لمبی تعداد پہلے سے موجود ہو گی اور آپ کا نام ویٹنگ لسٹ میں شامل کر لیا جائے گا پھر نمبر آنے پر آپ کو مطلع کیا جائے گا۔
  • س: میں نیشنل ویزا سنٹر کو مطلوبہ فیسیں کیسے ادا کروں گا؟
  • ج: ویزا سنٹر آپ کو ویزا پراسیسنگ فیس اور ایفی ڈیوٹ آف سپورٹ فیس کا بل بھیجے گا جس کی آپ بذریعہ منی آرڈر یا چیک بتائے گئے بنک کے ذریعے ادائیگی کریں گے۔ اس کے علاوہ کسی کو کوئی فیس دستی جمع نہ کرائیں۔
  • س: یہ فیس کتنی ہو گی؟
  • ج: اشٹام فیس 70ڈالر جبکہ ویزا فیس (بشمول سکیورٹی فیس) 400 ڈالر ہے۔ س: میں امریکہ میں رہتے ہوئے ہی اپنا Status نان امیگرنٹ سے امیگرنٹ میں بدلنا چاہتا ہوں‘
  • اس کےلئے کیا کروں؟
  • ج: اس کےلئے آپ کو یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز (USCIS) کو آگاہ کرنا پڑے گا جو کہ نیشنل ویزا سنٹر کو سارا عمل امریکہ میں ہی مکمل کرنے کی ہدایت کر دے گا۔
  • س: میں نے اپنے پاکستانی رشتہ دار کےلئے پٹیشن دائر کی تو میں گرین کارڈ ہولڈر تھا اور
  • اب امریکی شہری بن چکا ہوں‘ پٹیشن کو کیسے اپ گریڈ کروں؟
  • ج: اس مقصد کےلئے شہریت سرٹیفکیٹ کی کاپی پٹیشن کے کوائف لکھ کر ایک لیٹر کے ہمراہ
  • نیشنل ویزا سنٹر کو بھجوانا ہو گی۔
  • س: میرا رشتہ دار سارا عمل مکمل کر کے ویزا انٹرویو کےلئے ایمبیسی گیا تو اس کی
  • درخواست مسترد کر دی گئی‘ نیشنل ویزا سنٹر میں اپیل ہو سکتی ہے؟ ج: جی نہیں‘ نیشنل ویزا سنٹر کے پاس اس کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ مزید معلومات کےلئے یو ایس قونصلر آفس رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
  • س: کیا میں پٹیشن دائر کرنے کے بعد منظوری سے قبل واپس لے سکتا ہوں؟
  • ج: جی ہاں‘ اس کےلئے آپ اپنے وکیل کے ذریعے یا خود تحریری بیان نیشنل ویزا سنٹر پر جمع کرائیں گے جس کے بعد ایک عمل مکمل ہونے پر کیس    واپس کر دیا جائے گا۔
  • یہ بھی پڑھیں کینیڈا ویزا انفارمیشن ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ All rights are reserved, no body can copy ,publish or reproduce this matter. Legal action will be taken, if any body do so. Author: Zafar A Bhatti (zafar.socialmedia@gmail.com)

4 thoughts on “امریکہ ،ویزا گائیڈ چیپٹر1”

  1. Pingback: Hong Kong visa information | Visa Guide

  2. Pingback: Changes in US visa policy for Pakistan | Visa Guide

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: