uk visa

برطانیہ، ویزا گائیڈ چیپٹر2

یوکے ویزااپلائی کرنے کا طریقہ

برطانیہ نے اب نان امیگرنٹ ویزوں کی مختلف ااقسام کی جگہ سٹینڈرڈ وزیٹرویزا کی ایک ہی کیٹگری متعارف کروادی ہے۔جسے اپلائی کرنے کیلئے حکومت برطانیہ کی ویب سائٹwww.gov.uk پرویزا فارم پر کریں اوراسے submitt کرنے کے بعد اس کا ایک پرنٹ نکال لیں۔ ویزافیس 89 پاﺅنڈ ہے یہ بھی اس سائٹ پر آن لائن جمع ہوگی۔ ویزا فارم کے پرنٹ پر دستحط کرکے دیگر دستاویزات کے ساتھ یوکے ویزا اپلیکیشن سنٹرز (UKVAC) پر جمع کرائیں گے جس کےلئے پہلے سے وقت لینا ضروری ہے۔ ورنہ آپ کو واپس بھیج دیا جائے گا۔
وقت لینے کےلئے سنٹر سے لینڈ لائن فون سے پیر تا جمعہ روزانہ صبح 8بجے سے دوپہر 1بجے تک 0900-10411 جبکہ موبائل فون کے ذریعے 8865 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
جیریز انٹرنیشنل کے زیراہتمام لاہور‘ اسلام آباد،میرپور اور کراچی میں ویزا اپلیکیشن سنٹر قائم ہیں جن کے ایڈریس درج ذیل ہیں۔

لاہور: 20کوئینز روڈ بالمقابل گنگارام ہسپتال

اسلام آباد: صادق پلازہ‘ جی نائن مرکز

کراچی: 43/1/D راضی روڈ شاہراہ فیصل

UK Visa

اپوائنٹمنٹ ملنے پر آپ خود مقررہ روز سنٹر پر جائیں اور وہاں کاﺅنٹر پر سروس چارجز وصول کئے جائیں گے۔ اب یہیں ویزا درخواست جمع ہو گی جس کے ساتھ درج ذیل دستاویزات منسلک کرنا ضروری ہیں جبکہ ہر کیٹگری کےلئے درکار اضافی کاغذات کی تفصیل اگلے صفحات پر الگ الگ بیان کر دی گئی ہے۔
ویب سائٹ پر جمع کرائے گئے و یزا فارم کا پرنٹ-
ایک عدد پاسپورٹ سائز تازہ تصویر (ہلکے نیلے رنگ کا بیک گراﺅنڈ )-
(پاسپورٹ (زائد المیعاد نہ ہو اور کم از کم ایک صفحہ ویزا لگانے کےلئے خالی ہو-

اصل شناختی کارڈ بمعہ ایک عدد کاپی-
چھ ماہ سے زائد قیام کی صورت میں ٹی بی کا تشخیصی سرٹیفکیٹ-
ادا شدہ فیس کی رسید-
ایڈریس اور ٹکٹ لگا ہوا لفافہ بھی جمع ہوگا جس میں دستاویزات واپس آئیں گی۔-

نوٹ: بیان کردہ تمام دستاویزات کا ایک عدد فوٹو کاپی سیٹ (اے فور سائز) بھی ساتھ دینا ہو گا‘ طلباءکےلئے اپنے کاغذات کے 2 فوٹو کاپی سیٹ جمع کرانا ضروری ہیں۔
٭ عارضی ویزوں کےلئے سب کو انٹرویو کےلئے نہیں بلایا جاتا تاہم جس کو بلایا جائے ان کا برٹش ہائی کمیشن اسلام آباد میں انٹرویو ہوتا ہے جس کے دوران امیدوار کو اپنی اہلیت ثابت کرنا ہوتی ہے۔
٭ عارضی ویزے کا عموماً 15روز میں فیصلہ ہو جاتا ہے تاہم لاہور اور کراچی میں رش کے باعث ایک ماہ سے زائد وقت لگ سکتا ہے۔
٭ کوئی فیصلہ ہونے پر ویزا سنٹر سے اطلاع آتی ہے جس پر وہاں جا کر پاسپورٹ وصول کیا جاتا ہے۔

ارجنٹ ویزاسروس

اگر گذشتہ دوسال کے دوران کم ازکم ایک بار یوکے کا ویزا لگا ہوا ہے تو ایسے امیدواروں کیلئے پریارٹی ویزا سروس بھی موجود ہے جس میں ویزا درخواست پر دو دن میں فیصلہ ہوتاہے اس کی تقریبا نو ہزار روپے اضافی فیس ہے ۔ اس آپشن کا انتخاب ویب سائٹ پر ویزا فارم پر کرتے وقت کیا جاتاہے۔ تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ ویزا لگا پاسپورٹ پاس موجود ہو۔

ویزا نہ ملنے کی صورت میں اپیل / شکایت

آپ کو برطانوی ویزا نہیں ملا‘ آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کا کیس بہت مضبوط ہے اور یہ فیصلہ بالکل غلط ہے تو آپ اس کےخلاف اپیل کر سکتے ہیں جس کےلئے رضاکارانہ تنظیم امیگریشن ایڈوائزری سروس سے مزید مشورہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ تنظیم آپ کی طرف سے اپیل بھی دائر کر سکتی ہے۔ ان کا ایڈریس درج ذیل ہے۔

Immigration Advisory Service
IIIrd Floor, Country House, 190 Great Dover Street,
London (SE1 4YB)
Ph: 004402088141559
Web: www.iasuk.org

واضح رہے کہ بہت سے اپیل کیسوں میں امیدواروں کے حق میں فیصلے آتے رہتے ہیں‘ اپیل اسلام آباد میں جمع ہو گی‘ ایڈریس یہ ہے۔
UK Border Agency Visa Application Center
British High Commission, Diplomate Enclave
Ramna-5, P.O.Box: 1122, Islamabad
اس سارے عمل میں ناقص سروس پرمتعلقہ ویزا سنٹر پر بھی شکایت کی جا سکتی ہے۔

جنرل و زیٹر (General Visitor)

وزٹ ویزا اپلائی کرنے کےلئے درج ذیل دستاویزات موجودہونی چاہئیں۔
(i اگر آپ کہیں ملازمت کر رہے ہیں تو ادارے سے وزٹ کےلئے منظور ہونے والی چھٹیوں سمیت ملازمت کی نوعیت اور مدت ملازمت سے متعلق سرٹیفکیٹ
(ii اگر اپنا کاروبار کرتے ہیں تو اس کے دستاویزی ثبوت
(iii پاکستان میں اگر کوئی جائیداد آپ کے نام ہے تو اس کی دستاویزات
(iv سٹوڈنٹ ہیں تو آپ کے جاری تعلیمی کورس سے متعلق معلومات اور چھٹیوں کا سرٹیفکیٹ
(v شادی شدہ ہیں تو میرج سرٹیفکیٹ اور تصاویر‘ بچے ہیں تو ان کے برتھ سرٹیفکیٹس
(vi ٹور سے متعلق کسی ٹریول کمپنی کا ٹریول پلان
(vii بنک سٹیٹمنٹ جو کہ حقیقی ہو کیونکہ اس کی تصدیق ہر صورت ہو گی
(viii کسی رشتہ دار ہے ملنے جا رہے ہیں تو اس کا دعوتی خط اور پاسپورٹ کی فوٹو کاپی
نوٹ: اگر آپ بزنس کے سلسلہ میں یو کے آتے جاتے رہتے ہیں تو ملٹی پل ویزا اپلائی کر سکتے ہیں جو کہ 5 – 2 اور 10 سال کی مدت کا ہوتا ہے۔

اہلیت

وزٹ ویزا کےلئے اہلیت یہی ہے کہ آپ درج ذیل باتیں دستاویزات اور دلائل کے ذریعے ثابت کر سکیں۔
٭ آپ صرف سیر وتفریح کےلئے جانا چاہتے ہیں اور آپ کا قیام ہر صورت 6ماہ سے کم عرصہ کےلئے ہو گا۔
٭ اس ٹور کےلئے درکار رقم سے کہیں زیادہ وسائل موجود ہیں۔
٭ وزٹ کے دوران وہاں کوئی چیز یا اپنی سروسز فروخت نہیں کریں گے۔
٭ کسی تعلیمی کورس میں داخلہ نہیں لیں گے۔
٭ سپورٹس اور پرفارمنگ آرٹس میں حصہ نہیں لیں گے۔
٭ برطانوی شہری (خاتون/ مرد) سے شادی نہیں کریں گے۔
٭ پرائیویٹ علاج معالجے کی کوشش نہیں کریں گے۔
٭ ویزا کی مدت ختم ہونے سے پہلے ہر صورت واپس آ جائیں گے اس کےلئے آپ کو پاکستان میں اپنے مضبوط معاشی وسماجی رشتے ثابت کرنا ہونگے جیسے کہ کوئی منافع بخش کاروبار‘ جائیداد‘ بیوی بچے اور دیگر رشتے جن کی وجہ سے واپس آنا پڑے۔

علاج معالجہ کےلئے ویزا

UK Medical Treatment visa

میڈیکل ٹریٹ منٹ کےلئے یو کے جانا چاہتے ہیں تو آپ کے پاس درج ذیل دستاویزات ہونی چاہئیں۔
٭ کسی منظور شدہ سپیشلسٹ ڈاکٹر کا جاری کردہ خط جس میں آپ کی بیماری کی ہسٹری اور کئے گئے علاج کی تفصیلات درج ہوں اور اس میں مزید علاج انگلینڈ میں کرانے کی سفارش کی گئی ہو۔
٭ یوکے میں کسی ہسپتال یا سپیشلسٹ سے رابطہ کا ریکارڈ‘ علاج کےلئے درکار وقت اور اخراجات کی تفصیل۔
٭ آپ کی بیماری سے برطانیہ میں عام لوگ متاثر نہ ہوتے ہوں۔ ٭ اخراجات برداشت کرنے کی صلاحیت کے دستاویزی ثبوت۔
٭ کمپنی / محکمہ کی جانب سے چھٹیوں کی منظوری کا لیٹر‘ اپنا کاروبار ہے تو اس کی دستاویزات۔
٭ وزٹ ویزا کےلئے درکار ضروری دستاویزات (جن کا پہلے ذکر کیا جا چکا ہے)۔

جنرل ڈاکٹرز اور ڈینٹل سرجنز کےلئے ویزے

برطانوی حکومت نے ڈاکٹروں کو اپنے میڈیکل سسٹم کے ساتھ منسلک ہونے کےلئے 6ماہ کے ویزا کی سہولت دی ہے جو کہ اس دوران خود علاج معالجہ نہیں کر سکیں گے اور نہ ان کو کوئی تنخواہ دی جائے گی۔ ان کی کلینکس کے ساتھ بطور ممبر یا ٹرینی attachment ہو گی تاہم 6ماہ گزار کر جب وہ برطانوی میڈیکل سسٹم سے واقفیت حاصل کر لیں گے تو ورک پرمٹ کےلئے اپلائی کر سکیں گے۔

مطلوبہ معیار

٭ صرف کوالیفائیڈ ایم بی بی ایس ڈاکٹر اور ڈینٹل سرجنز ہی اپلائی کرنے کے اہل ہیں۔
٭ یو کے میں کلینکس کے ساتھ منسلک ہو سکیں‘ بطور ڈینٹل آبزرور کام کر سکیں۔
٭ اپنے تجربہ کے دستاویزی ثبوت پیش کر سکیں۔
٭ ایک بار 6ماہ کی مدت ختم ہونے پر واپس آ جائیں‘ ورک پرمٹ جاری ہونے یا پریکٹس کی اجازت ملنے پر دوبارہ جا سکیں گے۔
نوٹ: اپنی اہلیت جانچنے کےلئے (www.ukba.homeoffice.gov.uk) وزٹ کر سکتے ہیں۔

سٹوڈنٹ وزیٹر ویزا

یہ کیٹگری ان طلباءکےلئے متعارف کرائی گئی ہے جو کہ برطانیہ میں 6ماہ تک کے شارٹ کورسز کرنے کے خواہشمند ہوں‘ جیسے کہ شارٹ ٹرم انگلش لینگوئج کورسز۔
مطلوبہ معیار ٭ ایسے طلباءجو صرف 6ماہ (ناقابل توسیع) میں کورس مکمل کر سکیں۔
٭ کورس ایسی آرگنائزیشن (تعلیمی ادارے) کا ہو جو کہ یوکے ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ پروائیڈرز میں رجسٹرڈ ہو۔
٭ طلباءکورس ختم ہوتے ہی یو کے سے روانہ ہو جائیں۔
٭ کورس کے دوران یا بعد میں کوئی جاب یا کاروبار کرنے کی کوشش نہ کریں۔
٭ کسی باقاعدہ کالج / یونیورسٹی میں داخلے کی بھی کوشش نہ کریں۔
٭ اپنے اور کورس کے اخراجات احسن طریقے سے پورے کر سکیں۔
٭ 18سال سے کم عمر کا کوئی بچہ نہ ہو۔

سٹڈ ی ویزا

برطانوی حکومت نے سٹڈی ویزا (جوکہ 6ماہ سے زائد عرصہ کا ہو گا) کےلئے طلباءکو 2 بنیادی کیٹگریز میں تقسیم کیا ہے۔ 4سال سے 17 سال تک کے طلباءکےلئے چائلڈ سٹوڈنٹ ویزا جاری کیا جاتا ہے جبکہ 17 سال سے زائد عمر کے طلباءجو بیچلر‘ ماسٹر ڈگری اور ہائیر ایجوکیشن کے خواہشمند ہوں کو ”آڈلٹ ویزا“ جاری ہو گا۔
نوٹ: برطانوی امیگریشن رولز کے تحت ”پوائنٹس بیسڈ سسٹم“ میں سٹڈی ویزا کو “Tier 2 General” کا نام دیا گیا ہے اور اس کےلئے اپلائی کرنے کےلئے 40 پوائنٹس ضروری قرار دیئے ہیں تاہم پاکستان میں ابھی یہ سسٹم نافذ نہیں ہو سکا۔ لہٰذا اب بھی مینول طریقے سے ہی اپلائی کیا جائے گا۔

ویزا اپلائی کرنے کا طریقہ کار

سب سے پہلے آپ اپنے کورس کا انتخاب کریں گے اور پھر متعلقہ برطانوی تعلیمی ادارے سے رابطہ کریں گے‘ اس کالج/ یونیورسٹی کے پاس انٹرنیشنل طلباءکو پڑھانے کا لائسنس موجود ہونا چاہئے۔
٭ انٹرنیٹ رابطہ کے دوران ہی آپ تعلیمی ادارے کو اپنے تعلیمی کاغذات بھجوائیں گے اور جملہ شرائط پوری کریں گے۔
٭ رجسٹریشن فیس اور دیگر واجبات کی ادائیگی کے بعد تعلیمی ادارہ آپ کو ویزا لیٹر جاری
کرے گا (ویزا لیٹر جاری کرنے والے ادارے کو سپانسر بھی کہا جاتا ہے)
٭ ویزا لیٹر کے ساتھ آپ یو کے ویزا اپلیکیشن سنٹر جا کر اپلائی کریں گے۔ جس کےلئے پہلے سے وقت لیا جانا ضروری ہے۔

انٹرویو

انٹرویو کےلئے آپ تمام مطلوبہ دستاویزات لے کر جائیں جن میں سے اہم درج ذیل ہیں۔
(i نصابی اور فنی تعلیم کی اصل اسناد
(ii اصل ویزا لیٹر
(iii بنک سٹیٹمنٹ جو کہ اخراجات برداشت کرنے کی اہلیت ظاہر کرے‘ واضح رہے کہ ایک سال کی فیس اور دیگر اخراجات کےلئے رقم آپ کے اکاﺅنٹ میں 28 روز پہلے سے موجود ہونی چاہئے۔
(iv اگر اپنے والد یا قریبی رشتہ دار کی بنک سٹیٹمنٹ دے رہے ہیں تو ان کی طرف سے ذمہ داری کا لیٹر اور رشتہ ثابت کرنے کےلئے مطلوبہ دستاویزات۔
(v شادی شدہ ہیں تو کمپیوٹرائزڈ نکاح نامہ اور تصاویر۔
(vi جائیداد ہے تو اس کے ملکیتی ثبوت۔

UK Visa requirements

اہم سوالات اور جوابات

س: نئے پوائنٹس بیسڈ سسٹم کے ذریعے ویزا اپلائی کریں یا پرانے طریقہ کار کے مطابق؟

ج: برطانیہ تاحال پاکستان میں پوائٹس بیسڈ سسٹم شروع نہیں کر سکا لہٰذا آپ عام طریقہ کار کے مطابق پرانے ویزا فارم پر ہی درخواست دینگے۔

س: سٹڈی ویزا کےلئے ”سپانسر شپ“ کیا ہے؟

ج: آپ جس برطانوی ادارے میں داخلہ لے رہے ہوں وہ آپ کو ویزا لیٹر جاری کرتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کالج / یونیورسٹی آپ کو داخلہ دینے پر رضامند ہے۔ اسی کو ”سپانسر شپ“ کہتے ہیں۔

س: “Course to prepare for study” کیا ہے؟ ج: یہ اصل تعلیمی کورس سے پہلے پڑھایا جانے والا شارٹ ٹرم کورس ہے جو آپ کو برطانوی ماحول اور زبان یعنی انگریزی میں مزید مہارت دے گا۔ یہ اصل کورس کے ساتھ اور اس سے پہلے دونوں صورتوں میں ہوتا ہے۔

س: میں تعلیمی کورس ختم ہونے کے بعد بھی وہاں قیام کر سکتا ہوں؟

ج: جی ہاں! ایک سال یا اس سے زائد مدت کے کورس کی تکمیل کے بعد 4ماہ تک برطانیہ میں رہ سکتے ہیں‘ سال سے کم عرصہ کا کورس ہو تو اس کے مکمل ہونے کے بعد 2 ماہ قیام کیا جا سکتا ہے۔

س: برطانیہ میں پڑھنے کےلئے اوسط خرچہ کتنا ہو گا؟

ج: اگر آپ لندن میں 9ماہ یا اس سے زائد مدت کا کورس کر رہے ہیں تو پہلے سال کی فیس کے علاوہ رہائش‘ خوراک اور دیگر اخراجات کےلئے پہلے 9ماہ میں تقریباً 7200 پاﺅنڈ درکار ہونگے جبکہ لندن کے علاوہ کسی علاقہ میں اخراجات 5400 پاﺅنڈ تک ہو سکتے ہیں۔

س: سٹوڈنٹ ویزا کےلئے فیس کتنی ہے؟

ج: پاکستان سے اپلائی کرنے کےلئے یہ 145 پاﺅنڈ ہو گی۔

س: کیا میں دوران تعلیم کام کر سکتا ہوں؟

ج: جی بالکل! آپ برطانیہ میں پڑھنے کے دوران ہفتہ میں 20 گھنٹے تک کام کر سکتے ہیں جبکہ چھٹیوں میں فل ٹائم اجازت ہو گی۔

انٹرنیشنل گریجوایٹس سکیم

برطانوی تعلیمی کونسل سے منظور شدہ ادارے سے گریجوایشن کرنے والے طلباءاس سکیم کے تحت ایک سال برطانیہ میں رہ کر حصول تجربہ کےلئے جاب کر سکتے ہیں۔ پہلے یہ سکیم صرف سائنس اینڈ انجینئرنگ کے طلباءکےلئے تھی اب تمام مضامین کو شامل کر لیا گیا ہے جس کے تحت یکم مئی 2007ءاور اس کے بعد گریجوایشن مکمل کرنے والے طلباءفائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
اہلیت
٭ ایسے طلباءجنہوں نے پچھلے ایک سال میں کورس مکمل کیا ہو۔
٭ سکیم کے تحت ملنے والی جاب ایک سال تک کر سکیں۔
٭ کسی ملک سے سکالر شپ کے تحت گریجوایشن کی ہے تو حکومت کی طرف سے اجازت نامہ۔
٭ ایک سال مکمل ہونے پر برطانیہ چھوڑ دیں گے۔

سکلڈ ورکر ویزا (Tier-2 General)

ورکر ویزا کےلئے آپ کو سپانسر شپ کی ضرورت ہو گی جو کہ کسی برطانوی فرم کی طرف سے جاب گارنٹی کی شکل میں ہونی چاہئے۔ فرم مذکورہ سپانسر لیٹر میں لکھے گی کہ اس جاب پر کام کےلئے ہمیں مقامی سطح پر موزوں سٹاف میسر نہیں ہے جس کےلئے غیر ملکی ورکر بلوانا چاہتے ہیں۔ اس کیٹگری میں زیادہ سے زیادہ 3 سال کا ویزا جاری ہوتا ہے جس میں وہاں رہتے ہوئے توسیع ممکن ہے۔

work in uk
پوائنٹس بیس سسٹم کے ذریعے درج ذیل خصوصیات کے نمبر رکھے گئے ہیں۔

i)- تعلیمی و پیشہ وارانہ قابلیت: 0 سے 15 پوائنٹس

ii)- مستقبل کی متوقع آمدن: 0 سے 20 پوائنٹس

iii)- سپانسر شپ: 30 سے 50پوائنٹس

iv)- انگریزی زبان میں مہارت: 10 سے 15 پوائنٹس

v)- موجودہ بنک بیلنس: 0 سے 10 پوائنٹس

٭ ورکر ویزا اپلائی کرنے کےلئے آپ کے کم از کم 50 پوائنٹس ہونے چاہئیں۔
٭ انگریزی زبان میں مہارت میں کم از کم 10پوائنٹس ضروری ہیں۔
٭ ویزا کے اجراءپر آپ کو جاب شروع ہونے سے 14 روز قبل انٹری مل سکے گی۔
٭ آپ کو ریاستی فوائد نہیں ملیں گے۔
٭ آپ کوئی کاروبار شروع نہیں کر سکتے۔
٭ ہفتے میں 20 گھنٹے تک کی پارٹ ٹائم جاب بھی کر سکیں گے۔
٭ اپنی نوکری کے خاتمہ کی صورت میں مزید ایک ماہ تک قیام کی اجازت ہو گی۔

ویزا انٹرویو (جنرل)

ویزا درخواست جمع کرانے کے بعد حصول ویزا کےلئے انٹرویو بہت اہم ہوتا ہے۔ یاد رکھیں کہ زیادہ تر ویزا افسران پاکستانی امیدواروں کے بارے میں مثبت رائے نہیں رکھتے۔ ان کے خیال میں اکثر پاکستانی شہریوں کی درخواستیں حقیقت پر مبنی نہیں ہوتیں۔ ان کے مطابق یہ راست گوئی سے کام نہیں لیتے یا پھر دستاویزات جعلی ہوتی ہیں۔
علاوہ ازیں ایسی مثالیں بھی سامنے ہیں کہ بہت سے لوگ جن کو سفارتخانے ویزا دے دیتے ہیں وہ مقررہ مدت کے اندر واپس نہیں آتے اور غیر قانونی طور پر مقیم ہو جاتے ہیں یا پھر قانونی سقم کا سہارا لیتے ہوئے کاغذی شادی اور سیاسی پناہ جیسے حربے استعمال کر کے اپنی واپسی کو موخر کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح سے کئی طلباءوطالبات تعلیم کا ویزا لے کر وہاں مقیم ہو جاتے ہیں لیکن اصل مقصد سے ہٹ کر روزگار شروع کر دیتے ہیں اور ایسا کرنے میں مجبوری کی بجائے ان کی نیت کا عمل دخل زیادہ ہوتا ہے۔ لہٰذا ویزا حکام نہایت باریک بینی سے ویزا درخواستوں کا جائزہ لیتے ہیں اور معمولی سے شک کی صورت میں بھی اپنے صوابدیدی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ویزا درخواست مسترد کر دیتے ہیں۔ لہٰذا کسی بھی درخواست گزار کےلئے ضروری ہے کہ وہ ویزا افسر کو یہ یقین دلا سکے کہ وہ ویزا لینے کا مکمل طور پر اہل ہے۔ اگر وہ سیروتفریح کےلئے جانا چاہتا ہے تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ وہ کن مقامات کو دیکھنے کا خواہشمند ہے۔
اگر کاروبار کا ارادہ ہے تو متعلقہ کاروبار کی پوری معلومات ہونی چاہئیں۔ تعلیم کے خواہشمند افراد کو انگریزی زبان پر کم از کم مطلوبہ حد تک عبور حاصل ہونا چاہئے۔ تعلیمی ورہائشی اخراجات کےلئے مالی استعداد اور بنیادی تعلیمی سطح کا حامل ہونا بھی ضروری ہے۔ ویزا افسر درخواست کے ہر پہلو کو مدنظر رکھ کر ہی فیصلہ کرتا ہے اور اگر اس کو یقین ہو جائے کہ امیدوار نیک نیت ہے‘ مقررہ مدت سے زائد قیام کا ارادہ نہیں رکھتا اور سارے شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ واپس لوٹ آئے گا تو اسے ویزا دینے میں کوئی تامل نہیں ہوتا۔ آپ سے اس قسم کے سوالات پوچھے جا سکتے ہیں۔

٭ آپ کی وہاں لاٹری نکل آئی تو کیا کریں گے؟
٭ اگر کوئی اچھی ملازمت مل جاتی ہے یا کوئی خوبصورت خاتون شادی کی پیشکش کرتی ہے تو آپ کیا کرینگے؟
ایسے سوالات کا مقصد آپ کے پوشیدہ ارادہ کو بھانپنا ہوتا ہے۔ اگر آپ جواب میں یہ کہہ دیں کہ میں ملازمت اختیار کر لوں گا یا خاتون سے شادی کر لوں گا تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کا وہاں رک جانے کا ارادہ ہے لہٰذا آپ کی درخواست مسترد کر دی جائے گی۔ اس لئے آپ کےلئے از حد ضروری ہے کہ آپ انٹرویو کی پوری تیاری کریں۔ اکثر لوگوں کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ ویزا افسر نے ان سے کوئی سوال نہیں پوچھا اور نہ ہی کسی کاغذ پر نظر ڈالی اور ان کو ویزا دینے سے انکار کر دیا۔ یہ محض ایک غلط فہمی ہے وگرنہ ویزا افسر اپنے کام میں پوری مہارت رکھتے ہیں اور اپنے کام کی انہیں پوری تربیت دی جاتی ہے۔ اپنے وسیع تجربہ کی بنیاد پر ویزا افسران کسی امیدوار کا پہلی نظر میں ہی جائزہ لے لیتے ہیں اور یہ بھی جان جاتے ہیں کہ درخواست میں یا دیگر کاغذات میں دی گئی اطلاعات درست ہیں یا اس کے برعکس۔ بعض معاملات میں ان کا علم مقامی لوگوں سے زیادہ اور تازہ ہوتا ہے۔
انٹرویو کی زیادہ سے زیادہ تیاری کر لیں توکامیابی کے امکانات روشن ہو جاتے ہیں‘ انٹرویو کی تیاری کے یہ مراحل ہو سکتے ہیں۔

٭ ویزا افسر کے خدشات کا جائزہ لیں اور ان کو دور کرنے کےلئے ٹھوس دلائل تیار کریں۔

٭ متوقع سوالات اور ان کے جوابات کی فہرست بنا لیں۔

٭ درخواست کے ہمراہ دیئے گئے کاغذات مثلاً آپ کے روزگار کا ثبوت‘ بنک سٹیٹمنٹ اور انکم ٹیکس ریکارڈ میں کسی قسم کی جعل سازی نہیں ہونی چاہئے۔ تمام کاغذات ایک فولڈر میں رکھیں تاکہ ویزا افسر کو پیش کرتے وقت آپ کو آسانی رہے۔

٭ انٹرویو کے وقت گھبراہٹ طاری نہ ہونے دیں اور پُراعتماد رہیں‘ ویزا افسر سے مسکرا کر ملیں اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں۔

٭ وقت کی پابندی کا خیال رکھیں۔

٭ لباس کے معاملے میں احتیاط برتیں‘ یہ آپ کے پیشے اور اصل شخصیت کے مطابق ہونا چاہئے۔

٭ آپ کا جواب مختصر‘ شفاف اور برمحل ہونا چاہئے ایسا جواب دینے سے گریز کریں جو غیر ضروری ہو۔ طویل اور غیر متعلق جواب دینے میں آپ ایسی تفصیل بھی بیان کر سکتے ہیں جو آپ کی درخواست کے خارج ہونے کا باعث بن سکتی ہے۔

٭ انٹرویو کے دوران تحمل اور اچھے اخلاق کا مظاہرہ کریں‘ ویزا افسر سے تکرار نہ کریں۔

٭ بات چیت کے دوران شائستگی کے پہلو کا خیال رکھیں اگر ویزا افسر کا لہجہ قدرے درشت بھی ہے تو آپ ایسا نہ کریں۔

٭ اگر کوئی سوال سمجھ میں نہیں آتا تو بلا جھجھک اس کی وضاحت مانگ لیں۔

٭ کاغذات کی تیاری میں اور انٹرویو کے دوران دیانت داری اور راست بازی سے کام لیں۔

٭ کسی بھی سوال کے جواب میں آپ کو تحریری ثبوت پیش کرنے کےلئے ہر وقت تیار رہنا چاہئے۔ مثلاً اگر ویزا افسر پوچھے کہ آپ کیا کام کرتے ہیں تو ملازمت کی صورت میں محکمانہ چھٹی اور کاروبار کی صورت میں رجسٹریشن سرٹیفکیٹ یا کوئی اور دستاویز آپ کے جواب کی تصدیق کرے۔

٭ درخواست ویزا میں درج کی گئی معلومات اور دوران انٹرویو کہی گئی سب باتوں کا بذریعہ کمپیوٹر اندراج رکھا جاتا ہے۔ اگر آپ کو ایک بار ویزا نہیں مل سکا تو دوسری بار درخواست دیتے وقت آپ کا سابقہ ریکارڈ بھی زیرغور آئے گا اور کسی بھی قسم کے تضاد کی صورت میں آپ کی درخواست کے دوبارہ مسترد ہونے کے امکانات اور زیادہ ہو جائیں گے۔

٭ آپ کی ظاہری حالت آپ کی شناخت کی غماز ہونی چاہئے۔ اگر آپ ایک طالب علم ہیں تو آپ کو طالب علم کی طرح نظر بھی آنا چاہئے۔ اگر کسی محکمہ کے ملازم ہیں تو اپنے عہدہ کی مناسبت سے آپ کو ایسا نظر بھی آنا چاہئے۔

٭ انٹرویو کے دوران تمام آداب ملحوظ خاطر رہنے چاہئیں۔

٭ درخواست ویزا کے ساتھ مہیا کی گئی دستاویزات کا بغور معائنہ کریں اور یقین کریں کہ کوئی کاغذ کم نہیں ہے۔ تمام دستاویزات کسی مناسب فولڈر میں رکھیں۔ بے ترتیبی سے رکھے گئے کاغذات تاثر کم کر دیتے ہیں۔

ویزا کے بعد سفر کا مرحلہ

ویزا ملنے پر تسلی کر لیں کہ سٹیکر پر آپ کے کوائف پاسپورٹ کے مطابق درست ہیں۔ ویزا کی تاریخ اجراءاور تاریخ اختتام بھی درست لکھی ہوئی ہیں۔ غلطی کی صورت میں سفارتخانہ یا ویزا اپلیکیشن سنٹر سے فوری رجوع کیجئے۔

٭ ٹکٹ خریدتے وقت یہ یاد رکھیں کہ چار ماہ کی مدت کا ریٹرن ٹکٹ ششماہی ٹکٹ سے ارزاں ملتا ہے۔ کرایہ کی شرح میں بھی بعض اوقات نمایاں فرق دیکھنے میں آتا ہے اس لئے ٹکٹ خریدنے سے پہلے مختلف ٹریول ایجنسیوں اور ایئرکمپنیوں کے ریٹ ضرور معلوم کریں۔

٭ بعض ٹریول ایجنٹ یہ باور کروانے کی بھی کوشش کرتے ہیں کہ ٹکٹ اور سفری انشورنس لازم وملزوم ہیں۔ یہ ایک غلط مفروضہ ہے جس کو ٹریول ایجنسیاں ذاتی فائدہ کا وسیلہ بناتی ہیں۔ انشورنس کا حصول صرف سفارتخانے کی صوابدید پر منحصر ہے اور بیرون سفر کا ہرگز لازمی تقاضا نہیں البتہ انشورنس کا فائدہ اپنی جگہ مسلمہ ہے کیونکہ بیرون ملک علاج کے اخراجات پاکستان کی نسبت بہت زیادہ ہیں۔

٭ باہر جاتے وقت زرمبادلہ کو ٹریول چیک کی صورت میں پاس رکھنا حفاظتی نقطہ نظر سے سودمند رہتا ہے۔ ٹریول چیک نقدی کی نسبت زیادہ محفوظ ہوتے ہیں‘ چیک کی خرید کا ثبوت اپنے پاس رکھیئے تاکہ گم ہو جانے کی صورت میں متعلقہ کمپنی کے کسی بھی مقامی دفتر سے اس کا متبادل نیا چیک حاصل کر سکیں۔ امریکن ایکسپریس چیک‘ ویزا ٹریولر چیک‘ ماسٹر کارڈ ٹریولر چیک عام طور پر زیادہ استعمال کئے جاتے ہیں۔ دوران سفر متفرق اخراجات کےلئے ایک پانچ دس اور بیس ڈالر کے چند چھوٹے نوٹ نقد کی صورت میں پاس رکھیں۔

٭ آپ چشمہ استعمال کرتے ہیں تو اس کا نمبر اپنے پاس رکھیں۔ سامان میں ایک فالتو چشمہ بھی ہونا چاہئے کیونکہ غیر ممالک میں ایسی اشیاءبہت مہنگے داموں دستیاب ہوتی ہیں۔ اگر آپ ادویات کا مستقل استعمال کرتے ہیں تو بیرون ملک قیام کے دروانیہ کی مناسبت سے دواﺅں کا اسٹاک ساتھ رکھیں کیونکہ باہر کے ملکوں میں دوائیں مہنگی ہوتی ہیں اور بعض اوقات مستند مقامی ڈاکٹر کے تجویز کردہ نسخے کے بغیر میڈیکل سٹور فروخت سے بھی معذرت کر لیتے ہیں البتہ سردرد‘ زکام اور بخار جیسے معمولی عارضوں کےلئے آپ کو ڈاکٹر کے طبی نسخے کی ضرورت نہیں ہوتی اور ان امراض کی دوائیں عام جنرل سٹور سے بآسانی مل جاتی ہیں۔ دوران سفر ساتھ رکھی جانے والی دواﺅں کے بارے میں اپنے ڈاکٹر سے سرٹیفکیٹ ضرور حاصل کریں تاکہ کسٹم کی پیچیدگیاں کسی پریشانی کا سبب نہ بنیں۔

٭ دوران سفر متلی‘ قے‘ سرداد‘ کان درد وغیرہ کی شکایت کا سامنا رہتا ہے تو روانگی سے بیشتر ڈاکٹر سے مشورہ کیجئے اور ضروری ادویات کا پیشگی بندوبست کر لیجئے۔

٭ جہاز کے ٹیک آف اور لینڈ کرتے وقت کیبن کے اندر ہوا کا دباﺅ برابر نہیں رہتا جس کی وجہ سے کان بند ہونے کے ساتھ ساتھ درد بھی محسوس ہونے لگتا ہے۔ اس تکلیف سے بچنے کےلئے چیونگ گم کا استعمال فائدہ مند ہوتا ہے۔ زکام کی شکایت دوران سفر شدید تر ہو سکتی ہے اس لئے ناک میں ڈالنے والے قطرے اور زکام کی دیگر دوائیں آپ کے پاس ہر وقت موجود ہونی چاہئیں۔

انٹری کا مرحلہ

یاد رہے کہ آپ کا ویزا متعلقہ ملک میں داخل ہونے کی ضمانت قطعاً مہیا نہیں کرتا ایئرپورٹ پر موجود امیگریشن حکام کی تسلی کے بعد ہی آپ کو اس ملک میں داخل ہونے کی اجازت مل سکتی ہے۔ ایئرپورٹ پر ویزا منسوخ کر کے ملک بدر بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب آپ کے سفر کی نوعیت اور جواز میں درخواست ویزا میں دی گئی معلومات کی مناسبت سے کوئی تبدیلی یا عدم یکسانیت نظر آرہی ہو۔ درخواست ویزا کے مندرجات ضمنی دستاویزات اور غیر ملکی ایئرپورٹ پر امیگریشن حکام کے سامنے بیان کردہ تفصیلات میں اگر تضاد کا پہلو نمایاں ہو جائے تو اس ملک میں داخلہ سے انکار کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن کی بناءپر کارآمد ویزا ہونے کے باوجود امیگریشن حکام کسی مسافر کی ملک بدری کا صوابدیدی اختیار استعمال کر سکتے ہیں۔

برطانوی شہریت

برطانوی شہریت کےلئے درج ذیل دو کیٹگریز میں اپلائی کیا جا سکتا ہے تاہم اس کےلئے برطانوی حکومت کا ” لائف ان یو کے“ٹیسٹ پاس کرنا ضروری ہے۔

 

(1) برطانیہ میں 5سال گزارنے کے بعد شہریت

یہ سب سے کامن کیٹگری ہے جسے Naturelisation کہا جاتا ہے اس کیٹگری کےلئے اپلائی کرنے والوں کےلئے ضروری ہے کہ

٭ 18 سال یا اس سے زائد عمر کے ہوں اور ذہنی حالت بالکل نارمل ہو۔

٭ اچھے کردار کے حامل ہوں۔

٭ انگریزی زبان بول اور سمجھ سکتے ہوں۔ لائف ان یوکے ٹیسٹ بھی پاس کرلیا ہو۔ ٭ یو کے میں رہتے ہوئے کوئی ملازمت وغیرہ کر رہے ہوں۔

٭ اپلائی کرنے تک 5 سال پورے ہو چکے ہوں۔

٭ 5 سالہ قیام کے دوران 450 روز سے زائد یوکے سے باہر نہ رہے ہوں۔

٭ یوکے میں 5سال مستقل رہائش رکھی ہو۔

٭ کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہ ہوں اور نہ امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی پر کوئی کیس بنا ہو۔

نوٹ: امیگریشن کیس کا فیصلہ 6 سے 7 ماہ میں کر دیا جاتا ہے اس کےلئے کوئی اچھا برطانوی وکیل کیا جانا چاہئے جو بہتر انداز میں کیس پیش سکے۔

(2) شادی کے بعد شہریت

کسی برطانوی شہری سے شادی کی صورت میں 3 سال پورے ہونے پر شہریت کےلئے اپلائی کیا جا سکتا ہے۔ اس کےلئے درج ذیل شرائط ہیں۔

٭ 3سال سے برطانیہ میں مستقل رہائش رکھی ہو۔

٭ اس دوران 270 روز سے زائد یوکے سے باہر نہ رہے ہوں۔

٭ آخری سال 90روز سے زائد باہر قیام نہ کیا ہو۔

٭ یوکے میں قیام کے دوران کسی قسم کا کیس نہ بنا ہو۔

(3) بزنس سکیم

آپ برطانیہ میں بزنس ویزا پر آئے ہیں اور 5 سال سے رہ رہے ہیں تو اس سکیم کے تحت مستقل سکونت کےلئے اپلائی کر سکتے ہیں۔ جس کی فیس 950 پاﺅنڈ مقرر ہے۔

All rights are reserved, no body can copy ,publish or reproduce this matter.
Legal action will be taken, if any body do so.
Author: Zafar A Bhatti
(zafar.socialmedia@gmail.com)

1 thought on “برطانیہ، ویزا گائیڈ چیپٹر2”

  1. Pingback: UK farm worker visa Pilot Program | Visa Guide

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: