ناروے، ویزا گائیڈ چیپٹر4

ںاروے کے ویزے

ناروے شینجن ممالک میں شامل ہونے کے بعد اس معاہدے میں طے شدہ امیگریشن قوانین کا پابند ہے۔ ناروے کے شہریوں کو شینگن ممالک میں بغیر ویزا آزادانہ نقل وحمل کی اجازت ہے۔ اسی طرح ویزا حاصل کرکے ناروے جانے والے غیر ملکی بھی شینجن ممالک میں آ جا سکتے ہیں اور ان کو مزید کسی ویزے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ مروجہ قوانین کے مطابق ناروے میں داخلے اور رہائش کےلئے درج ذیل ویزے اور پرمٹ جاری کئے جاتے ہیں۔

وزٹ ویزا (Visit Visa)

اگر آپ بطور سیاح‘ رشتے داروں سے ملاقات کےلئے‘ کسی سرکاری‘ کاروباری یا تعلیمی دورہ پر یا کسی دیگر ایسے مقصد کےلئے ناروے آنا چاہیں جس کےلئے کام یا اقامت کے اجازت نامہ کی ضرورت نہ ہو تو پھر آپ کو وزٹ ویزا مل سکتا ہے۔ ناروے اور دیگر شینجن ممالک کےلئے جاری کیا گیا ویزا زیادہ سے زیادہ 90 دن کےلئے کارآمد ہوتا ہے۔ اصولی طور پر شینگن ممالک میں داخل ہونے کے بعد اس ویزا کی مدت میں توسیع نہیں کی جاتی۔ اس اصول سے استثنیٰ اس صورت میں دیا جا سکتا ہے جب آپ کو شینگن ممالک میں داخلہ کے بعد کوئی غیر متوقع صورتحال پیش آ جائے اور آپ کا اصل ویزا 90 دن سے کم عرصہ کےلئے جاری کیا گیا ہو۔ ایسے حالات میں بھی شینجن ممالک میں آپ کے قیام کا مجموعی عرصہ پچھلے چھ ماہ کی مدت میں 90 دن سے زائد نہیں ہو سکتا۔ ناروے سے حاصل کیا گیا ویزا ان تمام یورپی ممالک کےلئے کارآمد ہو گا جو شینگن ممالک کے زمرے میں آتے ہیں۔

ویزا اپلائی کرنے کا طریقہ

ناروے کی سرکاری ویب سائٹwww.selfservices.udi.noپر اپنا اکاونٹ بنائیں اور ویزا فارم پر کر کے اسے submit کریں اور اس کا ایک پرنٹ نکال لیں۔ ویزا فیس ساٹھ یورو بھی آن لائن جمع ہوگی۔ ویزافارم کی رسید کا پرنٹ اور دیگر مطلوبہ دستاویزات لے کر وی ایف ایس گلوبل/ فیڈیکس آفس جانا ہوگا جہاں یہ جمع ہوں گے۔ اس کیلئے پہلے اپوائنٹمنٹ لینا ہوگی ۔ جوکہ ان کے ہیلپ سنٹر 0 51 843 9383 پر فون کر کے لے سکتے ہیں ۔ویزادراخواست جمع کرانے کے بعد دو ہفتے میں ویزے کا فیصلہ ہوگا جس کی اطلاع فون پر کی جائے گی۔ مزید معلومات درکار ہوں توآپ ان کی اس ویب سائٹ www.norwaypakistan.vfsglobal.com/ سے بھی لے سکتے ہیں۔

norway visa

مطلوبہ دستاویزات

٭ ویب سائٹ پرجمع کئے گئے ویزا فارم کی رسید کا پرنٹ۔
٭ سفید بیک گراﺅنڈ کے ساتھ 35x40mm سائز کی 3تازہ تصاویر۔
٭ اصل پاسپورٹ (جو کہ ویزا ختم ہونے کے بعد تین ماہ تک کارآمد رہے)۔ پرانے پاسپورٹ موجود ہیں تو وہ بھی ساتھ منسلک کریں۔
٭ پاسپورٹ کے صفحہ نمبر 1 سے 4تک کے 2 فوٹو کاپی سیٹ۔
٭ شناخی کارڈ کی دو فوٹو کاپیاں۔
٭ پچھلے 6 ماہ اور اس سے پچھلے سال کی اصل بنک سٹیٹمنٹ اور ایک ایک فوٹو کاپی۔
٭ جائیداد کے کاغذات‘ دو فوٹو کاپی کے سیٹ کے ساتھ بمعہ انگلش ٹرانسلیشن۔
٭ شادی شدہ ہونے کی صورت میں نکاح نامہ کی دو فوٹو کاپیاں (بمعہ ترجمہ)۔
٭ امیدوار ملازم پیشہ ہے تو ادارے کے سربراہ کا لیٹر جس میں وزٹ کےلئے چھٹیوں کا بھی ذکر ہو۔
٭ ہوٹل کی بکنگ کے کاغذات۔
٭ گزشتہ 3 ماہ کی سیلری سلپس۔
٭ اپنا کاروبار ہو تو اس کی رجسٹریشن کی کاپی (انگریزی ترجمے کے ساتھ)۔
٭ پچھلے دو سال کے ٹیکس ادائیگی کے کاغذات۔
٭ ناروے میں جو شخص آپ کا حوالہ بن رہا ہے اس کی طرف سے تحریری دعوت۔
٭ دعوت دینے والا شخص رشتہ دار ہے تو اس کا ثبوت (برتھ سرٹیفکیٹ اور ب فارم کی صورت میں)۔
٭ اگر امیدوار خود دورہ کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا ہے تو اس کو ناروے میں مدعو کرنے والے شخص کا گارنٹی لیٹر اور پاسپورٹ کی فوٹو کاپی۔

ویزا انٹرویو

ویزا درخواست جمع ہونے کے بعدضرورت ہو تو امیدوار کو انٹرویو کیلئے بلایا جاتاہے۔ ویزا افسر انٹرویو کے دوران وضاحت طلب باتیں ڈسکس کرے گا۔ویزا کال کے وقت کوئی اضافی کاغذات بھی منگوائے جاسکتے ہیں، جو کہ ساتھ لیکر جائیں۔ اگر امیدوار انگریزی لکھ اور بول نہیں سکتا تو ویزا سیکشن کی جانب سے اس کو ایک اسسٹنٹ مہیا کیا جائے گا۔

درخواست منظور ہونے پر

آپ کی ویزا درخواست منظور کر لی گئی تو آپ کو ویزا جاری ہونے سے پہلے کنفرمیشن کے ساتھ ریٹرن ایئر ٹکٹ اور ہیلتھ انشورنس کے کاغذات پیش کرنا ہونگے۔ انشورنس کم از کم 30ہزار یورو کی ہونی چاہئے جس کا نارویجن ایمبیسی نے درج ذیل کمپنیوں کو اختیار دے رکھا ہے۔

بزنس وزیٹرز کےلئے اضافی دستاویزات

بزنس وزٹ پر جانے والے افراد کو ویزا درخواست کے ساتھ درج ذیل اضافی کاغذات منسلک کرنا ہونگے۔
٭ نارویجن کمپنی جو کہ دعوت دے رہی ہے وہ دعوت نامہ سپانسر لیٹر براہ راست سفارتخانے کو فیکس کرے۔
٭ چیمبر آف کامرس کی منظوری کا خط۔
٭ نارویجن کمپنی کے ساتھ خط وکتابت کا ریکارڈ۔
رشتہ دار کے پاس جانے کےلئے درکار اضافی کاغذات ٭ نارویجن رشتہ دار پولیس سے محکمانہ گارنٹی لیٹر بنوا کر ایمبیسی کو فیکس کرے۔
٭ نارویجن رشتہ دار کے پاسپورٹ کی کاپی۔
٭ رشتہ داری کا ثبوت۔

عام پوچھے جانے والے سوالات

س: جب میں اقامت/ کام کے اجازت نامہ کی درخواست دوں تو کیا مجھے ویزا کےلئے بھی درخواست دینی ہو گی؟
ج: اگر آپ نے ناروے میں آباد ہونے کےلئے آنا ہو تو آپ کو ناروے/ شینگن ممالک کا ویزا نہیں مل سکتا تاہم کچھ درخواست گزاروں کو ان کی اقامت یا کام کے پرمٹ کی درخواست کا فیصلہ ہونے سے پہلے ہی ملک میں داخل ہونے کا ویزا (D-visum) مل سکتا ہے۔ یہ اس صورت میں ہوتا ہے جب آپ ناروے میں مستقل قیام کا ارادہ رکھتے ہوں اور آپ اقامت/ کام کا پرمٹ حاصل کرنے کی مطلوبہ شرائط پوری کرتے ہوں۔س: اگر میں نے ناروے میں شادی کرنی ہو تو پھر کس طرح درخواست دینی ہو گی؟
ج: اگر آپ کا مقصد ناروے میں شادی کر کے قیام پذیر ہونے کا ہو تو پھر آپ شادی کےلئے مخصوص چھ ماہ تک کے اقامتی پرمٹ کےلئے درخواست دے سکتے ہیں۔ اقامتی پرمٹ کےلئے درخواست کو اپنے ملک میں موجود نارویجن سفارتخانے یا اس ملک سے دینی ہو گی جس میں آپ گزشتہ چھ ماہ سے رہائشی پرمٹ کے ساتھ مقیم ہیں۔ اگر آپ کا مقصد منگیتر کو ملنا اور مل کر واپس لوٹ جانا ہو تو پھر آپ 90 دن کےلئے کارآمد ملاقاتی ویزا کےلئے درخواست دے سکتے ہیں۔
س: ویزا حاصل کرنے کےلئے مجھے کیا درکار ہو گا؟
ج: ناروے میں داخل ہونے کےلئے آپ کے پاس کارآمد پاسپورٹ ہونا لازمی ہے۔ جس مدت کےلئے ویزا دیا جا رہا ہو پاسپورٹ اس کے بعد کم از کم 90 دن کے اضافی عرصہ کےلئے کارآمد ہونا چاہئے۔ سفر اور ناروے میں قیام کے اخراجات کےلئے آپ کے پاس معقول رقم ہونا ضروری ہے۔ اگر آپ کے پاس مالی وسائل نہ ہوں تو ویزا ہونے کے باوجود آپ کو سرحد پر روکا جا سکتا ہے۔ کچھ صورتوں میں آپ کے میزبان کی جانب سے آپ کے قیام اور واپس جانے کی مالی گارنٹی کافی سمجھی جاتی ہے۔ گارنٹی کا یہ فارم ناروے میں اس شخص کو پُر کرنا ہوتا ہے جو آپ سے ملاقات کا خواہاں ہے (یہ شخص آپ کا حوالہ کہلاتا ہے) اور اس گارنٹی پر پولیس کی مہر لگوانی ہوتی ہے۔ یہ گارنٹی فارم سفارتخانے سے یا UDI کے انٹرنیٹ صفحات سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ گارنٹی فارم ویزا کی درخواست کے ساتھ جمع کرائیں۔
٭ یہ ضروری ہے کہ ویزا کی مدت ختم ہونے پر آپ ناروے سے رخصت ہونے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ اگر کسی وجہ سے نارویجن حکام یہ سمجھیں کہ آپ ناروے میں ویزا کی مدت سے زیادہ قیام کریں گے تو آپ کی درخواست مسترد کی جا سکتی ہے۔
٭ یہ ضروری ہے کہ آپ کا نام شینگن ممالک کے مشترکہ اطلاعاتی نظام (SIS) میں کسی بھی شینگن ملک کےلئے ناپسندیدہ فرد کے طور پر درج نہ ہو۔
س: کیا یہ ضروری ہے کہ میں اس ملک میں داخل ہوں جس کے ویزا کےلئے درخواست کی جا رہی ہے؟
ج: نہیں! ویزا ملنے کے بعد آپ شینگن علاقے کے کسی بھی ملک میں جا سکتے ہیں لیکن اگر آپ کا ارادہ بیشتر عرصہ ناروے کی بجائے کسی اور ملک میں گزارنے کا ہے تو پھر آپ پر لازم ہے کہ آپ اس ملک کے سفارتخانے کو ویزا کی درخواست دیں۔
س: دیگر شینگن ممالک کا سفر کرنے کےلئے کیا مجھے مزید ویزے حاصل کرنا ہونگے؟
ج: نہیں! ناروے کی جانب سے آپ کو دیا گیا ویزا تمام شینگن ممالک کےلئے کارآمد ہو گا۔
س: اگر میں زیادہ ممالک میں جانا چاہوں تو کیا مجھے تین ماہ سے زیادہ مدت کا ویزا مل سکتا ہے؟
ج: نہیں! آپ کو 90 دن یا اس سے کم مدت کےلئے ویزا دیا جا سکتا ہے اور ویزا کی میعاد ختم ہونے سے پہلے آپ کو شینگن ممالک سے نکلنا ہو گا۔ اگر آپ ویزا کی میعاد ختم ہونے پر باہر نہیں نکلتے تو یہ امر مستقبل میں آپ کے شینگن ممالک میں داخلے پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔
س: اگر میری درخواست مسترد کر دی جائے تو کیا میں فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتا ہوں؟
ج: جی ہاں! اگر آپ سفارتخانے کے فیصلے کے خلاف اپیل کرتے ہیں تو آپ کی اپیل کو بغرض کارروائی UDI کو بھیج دیا جاتا ہے۔ اگر آپ UDI سے بھی درخواست نامنظور کرنے پر اپیل کرتے ہیں تو آپ کا کیس غیر ملکیوں کی اپیلوں کی سماعت کرنے والے بورڈ (UNE) کے پاس بھیج دیا جاتا ہے۔ اپیل کےلئے کوئی فیس نہیں ہے۔

سٹڈ ی پرمٹ

STUDY IN NORWAY
ایسے غیر ملکی جو تعلیم حاصل کرنے کے خواہاں ہیں وہ ناروے کا رہائشی اجازت نامہ برائے تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ ناروے میں سکول یا اعلیٰ تعلیم کی غرض سے یہ رہائشی اجازت نامہ حاصل کرنے کےلئے آپ کو مندرجہ ذیل شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
٭ کسی یونیورسٹی‘ سائنس کالج‘ گورنمنٹ کالج‘ فائن آرٹس کالج‘ عوامی کالج یا ایک سال کی نظریاتی تعلیم دینے والے سکول میں آپ کا داخلہ ہو چکا ہو‘ بعض خاص صورتوں میں ہائر سیکنڈری سکول میں داخلے کو بھی منظور کر لیا جاتا ہے۔
٭ آپ اپنی تعلیم کے اخراجات برداشت کر سکتے ہوں۔
٭ تعلیمی عرصہ کے دوران آپ کے پاس رہنے کی جگہ ہو۔
٭ آپ کے پاس ناروے میں تعلیم کا ایک مکمل اور واضح منصوبہ ہو۔
٭ اگر تمام کاغذات مکمل ہوں تو سٹڈی پرمٹ کے اجراءمیں 2 سے 6ماہ لگتے ہیں کیونکہ سفارتخانہ ضروری کارروائی کے بعد کیس ڈائریکٹوریٹ آف امیگریشن کو بھجواتا ہے۔ عموماً شروع میں ایک سال کا پرمٹ جاری ہوتا ہے جس میں توسیع ہو جاتی ہے۔
اپلائی کرنے کےلئے درکار دستاویزات
سٹڈی پرمٹ اپلائی کرنے کےلئے آپ پہلے بذریعہ انٹرنیٹ/ ڈاک متعلقہ کالج یا یونیورسٹی سے رابطہ کر کے داخلہ حاصل کرینگے پھر طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ویزا اپلائی کریں گے۔اس کے لئے درج ذیل دستاویزات لے کر جائیں گے۔
٭ انگریزی میں ٹائپ شدہ دو درخواست فارم (سفارتخانہ یا اس کی ویب سائٹ سے فارم حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
٭ سفید بیک گراﺅنڈ والی پاسپورٹ سائز 2 تازہ تصاویر۔
٭ اصل پاسپورٹ‘ پہلے 2 صفحات کی دو دو فوٹو کاپیوں کے ساتھ۔
٭ اصل شناختی کارڈ بمعہ دو عدد فوٹو کاپی۔
٭ اصل برتھ سرٹیفکیٹ بمعہ ایک فوٹو کاپی۔ ٭ نادرا کا جاری کردہ والد کا اصل بی فارم + ایک کاپی۔
٭ اصل پرائمری اور میٹرک سکول سرٹیفکیٹس + ایک ایک کاپی۔
٭ تمام تعلیمی اسناد۔
٭ نارویجن تعلیمی ادارے کا ایڈمیشن لیٹر یا قبولیت کا خط (Acceptance Letter)۔
٭ آپ کا تعلیمی منصوبہ۔
٭ ناروے میں اپنے اور تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کی صلاحیت سے متعلق دستاویزات اخراجات خود برداشت کرنے ہیں تو پہلے سال کےلئے کسی نارویجن بنک میں 80ہزار کرون جمع کرانے کا ثبوت‘ سٹیٹ ایجوکیشنل لون فنڈ سے قرضہ لینا ہے تو لون اپلیکیشن کی کاپی منسلک کریں گے۔
٭ رہائشی بندوبست کا ثبوت (ہاسٹل یا کرائے کے گھر میں رہنے کےلئے کرایہ داری کا معاہدہ وغیرہ)
٭ 800 کرون ویزا فیس ادا کرنے کی رسید۔

اہم سوالات کے جوابات

س: اس پرمٹ کےلئے درخواست کہاں دینی ہو گی؟
ج: آپ کو اس پرمٹ کےلئے درخواست فیڈیکس آفس جمع کرائیں گے جہاں سے نارویجن سفارتخانہ میں جائے گی۔ درخواست پر کارروائی ڈائریکٹوریٹ برائے امور تارکین وطن (UDI) میں ہو گی۔ یورپی یونین اور یورپی مالیاتی زون EU-EOS کے شہریوں کےلئے اس سے استثنا موجود ہے۔ ان ممالک کے شہری ناروے میں داخل ہو سکتے ہیں اور یہاں آنے کے بعد درخواست دے سکتے ہیں۔ اس صورت میں آپ کی درخواست کو قریب ترین پولیس دفتر میں بھجوا دیا جاتا ہے جہاں اس پر کارروائی ہوتی ہے۔ نارویجن امدادی ادارے نوراد (NORAD) سے منسلک طالب علم بھی پہلے ناروے آ سکتے ہیں اور یہاں آ کر درخواست دے سکتے ہیں۔ اگر یہ طالب علم تمام شرائط پوری کرتے ہوں تو انہیں نارویجن سفارتخانہ سے ملک میں داخل ہونے کا ویزا جاری کیا جا سکتا ہے اور اس کے بعد پولیس ان کے رہائشی اجازت نامہ کی درخواست پر غور کرتی ہے۔
س: کیا ناروے میں طلباءکے رہائشی پرمٹ کی کوئی فیس ہے؟
ج: درخواست فیس آٹھ سو نارویجن کرون ہے جوکہ درخواست دیتے وقت ادا کرنا ہوتی ہے۔ اگر آپ پہلے ہی ناروے میں موجود ہیں یا اجازت نامہ کی تجدید کےلئے درخواست دیتے ہیں تو فیس نقد یا بنک کارڈ کے ذریعے بھی پولیس کو ادا کی جا سکتی ہے۔ فیس کی ادائیگی پیشگی طور پر بذریعہ بنک (اکاﺅنٹ میں منتقلی) بھی کی جا سکتی ہے۔ ایسی صورت میں ادائیگی کی رسید درخواست کے ساتھ لف کر کے درخواست بذریعہ پوسٹ یا پھر خود جا کر جمع کروائی جا سکتی ہے۔ اکاﺅنٹ نمبر آپ کو پولیس یا نارویجن سفارتخانہ سے مل سکتا ہے۔ فیس پولیس وصول کرتی ہے نہ کہ ڈائریکٹوریٹ برائے امور تارکین وطن (UDI)۔
اگر درخواست اوسلو میں دینی ہو تو پھر آپ پولیس کے شعبہ برائے تارکین وطن سے رابطہ کر کے اکاﺅنٹ نمبر حاصل کر سکتے ہیں۔ اوسلو پولیس کا فون نمبر 22342100ہے۔ یورپی یونین اور یورپی مالیاتی زون (EU/EOS) کے شہری فیس کی ادائیگی سے مستثنیٰ ہیں۔
س: اس درخواست پر فیصلہ ہونے میں کتنی دیر لگتی ہے؟
ج: مختلف کیسوں پر کارروائی میں مختلف وقت لگتا ہے۔ پاکستان میں 2 سے 6ماہ تک ہو سکتا ہے۔ اگر آپ کا پوسٹ کا پتہ ناروے کا ہے تو آپ کو حکام کی طرف سے خودبخود ایک خط بھیجا جائے گا جس میں آپ کی درخواست موصول ہونے کی تصدیق ہو گی۔ بتایا جائے گا کہ آپ کی درخواست پر کارروائی میں کتنا وقت لگنے کا امکان ہے۔
س: اگر میری درخواست مسترد کر دی جاتی ہے تو کیا میں فیصلہ کے خلاف اپیل کر سکتا ہوں؟
ج: جی ہاں! اپیل میں دلائل دینا ضروری ہے‘ اگر آپ کوئی اضافی معلومات دے سکتے ہوں تو اپیل میں ان کا ذکر کریں۔ اگر آپ اپیل کرتے ہیں تو آپ کی درخواست کو ڈائریکٹوریٹ برائے امور تارکین وطن (UDI) میں نئے سرے سے زیرغور لایا جائے گا اور اگر ڈائریکٹوریٹ اپنے پہلے فیصلے میں تبدیلی نہیں کرتا تو پھر اس اپیل کو غیر ملکیوں کی اپیلوں کی سماعت کرنے والی کمیٹی (UNE) کے پاس بھیج دیا جائے
گا۔ اپیل پر کوئی فیس لاگو نہیں ہوتی۔
س: کیا میں اپنے کنبے کو ہمراہ لا سکتا ہوں؟
ج: اگر ناروے میں آپ کی تعلیم کا بقیہ عرصہ ایک سال سے کم ہے تو اس صورت میں آپ اپنے کنبہ کو ہمراہ نہیں لا سکتے۔ اگر یہ عرصہ ایک سال سے زائد ہے تو آپ کے قریبی کنبے یعنی شریک حیات اور آپ کے جن بچوں کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہو انہیں بھی ناروے میں رہائش کا اجازت نامہ دیا جا سکتا ہے۔ آپ کے کنبہ کے افراد کو خود اپنے ملک میں قریب ترین نارویجن سفارتخانہ سے رابطہ کر کے رہائش کے اجازت نامہ کی درخواست دینی ہو گی۔ یہ ضروری ہے کہ آپ خود اپنے کنبہ کی کفالت کر سکتے ہوں اور ان کےلئے اپنے ساتھ رہائش کا بندوبست کر سکتے ہوں۔ یورپی یونین اور یورپی مالیاتی زون (EU/EOS) سے تعلق رکھنے والے طلباءکے کنبے کے افراد کےلئے علیحدہ قواعد ہیں۔ ان درخواست دہندگان کے کنبہ کے قریبی افراد ان کے ساتھ ناروے آ سکتے ہیں۔ کنبہ کے قریبی افراد کے زمرہ میں شریک حیات یا بغیر شادی کے پارٹنر (Samboer) جو کم از کم دو سال سے درخواست دہندہ کے ساتھ رہ رہا/ رہی ہو اور بچے آتے ہیں۔ اس کے علاوہ درج ذیل اصول بھی لاگو ہوتے ہیں:
٭ آپ اپنے کنبہ کے افراد کی کفالت کر سکتے ہوں۔
٭ کنبہ کے افراد کے پاس ہیلتھ انشورنس ہونا ضروری ہے۔
س: میں کتنا عرصہ ناروے میں قیام کر سکتا ہوں؟
ج: آپ کو رہائش کی اجازت ہر دفعہ ایک سال کےلئے دی جاتی ہے۔ ایک سال کے بعد رہائشی پرمٹ کی تجدید کروانا ہوتی ہے۔ اجازت نامہ کی تجدید کےلئے یہ شرط ہے کہ آپ تسلی بخش طریقہ سے تعلیمی ترقی کی منازل طے کر رہے ہوں۔
س: کیا میں ناروے میں تعلیم کے دوران کام کا اجازت نامہ حاصل کر سکتا ہوں؟
ج: جب آپ طالب علم کی حیثیت سے ناروے آتے ہیں تو آپ کو کام کا عام اجازت نامہ نہیں دیا جاتا۔ تاہم آپ جزوقتی کام کی اجازت حاصل کرنے کےلئے درخواست دے سکتے ہیں۔ (جزوقتی کام سے مراد ہفتہ میں زیادہ سے زیادہ بیس گھنٹے اور تعطیلات میں کل وقتی کام کی اجازت ہے) اس کےلئے ضروری ہے کہ تعلیمی ادارہ یہ تصدیق کرے کہ اس سے آپ کی تعلیمی پیش رفت میں رکاوٹ نہیں ہو گی۔ آپ کا شریک حیات بھی اسی نوعیت کے کام کے اجازت نامے کی درخواست دے سکتا ہے۔

ورک پرمٹ

ورک پرمٹ کےلئے درج ذیل اضافی دستاویزات کی ضرورت ہو گی۔
٭ نارویجن کمپنی کی طرف سے ملازمت کی پیشکش کا خط۔
٭ کمپنی کے سربراہ/ ذمہ دار افسر سے آپ کی خط وکتابت کا ریکارڈ۔
٭ پہلے کی گئی ملازمتوں سے متعلق دستاویزات/ تجربہ کے سرٹیفکیٹس۔
نوٹ: سٹڈی پرمٹ ہی کی طرح وقت لے کر اپلائی کرینگے، انٹرویو بھی ہو گا۔ ورک پرمٹ کےلئے فیس 1100کرون ہے۔ تعلیمی اسناد سمیت تمام اصل دستاویزات ہمراہ لے کر جائیں۔ انٹرویو کے بعد کیس ناروے میں ڈیپارٹمنٹ آف امیگریشن کو بھیجا جائے گا اور واپس آنے پر ایمبیسی بذریعہ خط آپ کو فیصلے سے آگاہ کرے گی اور آپ جا کر اپنا پاسپورٹ وصول کرینگے۔

آباد کاری پرمٹ

آباد کاری پرمٹ (مستقل اقامتی اجازت نامہ) ناروے میں مستقل قیام اور کام کی اجازت فراہم کرتا ہے۔ یہ پرمٹ کسی محدود مدت کےلئے نہیں ہوتا اس لئے اس کی تجدید کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔
اگر آپ ناروے میں مسلسل تین سال سے قیام پذیر ہیں اور آپ کے پاس رہائش یا کام کا ایسا پرمٹ ہے جو اس ملک میں مستقل رہائش کے خیال سے دیا گیا ہے اور جو آبادکاری پرمٹ کی بنیاد بن سکتا ہے تو آپ کو آبادکاری پرمٹ مل سکتا ہے۔ اس شرط پر وہ تمام لوگ بھی پورا اترتے ہیں جو پناہ حاصل کر چکے ہوں۔ انہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر یا تحفظ کی ضرورت کی بنیاد پر رہنے کی اجازت دی گئی ہو یا وہ کسے سے ملاپ کے ضمن میں ناروے آئے ہوں یا بحیثیت ہنرمند/ سپیشلسٹ انہیں ناروے میں کام کا پرمٹ دیا گیا ہو۔ پرمٹ پر ہمیشہ یہ وضاحت درج ہوتی ہے کہ یہ مستقل رہائش کی بنیاد بن سکتا ہے یا نہیں۔ آباد کاری پرمٹ کی درخواست کی منظوری کےلئے ضروری ہے کہ درخواست دینے کے وقت آپ کے موجودہ پرمٹ کی شرائط بدستور پوری پائی جائیں۔

اگر آپ یورپی یونین‘ یورپی مالیاتی زون یا یورپین مشترکہ مالی منڈی (EU/EOS/EFTA) کے کسی ملک کے شہری ہیں اور آبادکاری پرمٹ کےلئے درخواست دینا چاہتے ہیں تو آپ کےلئے بھی مذکورہ بالا شرائط پوری کرنا ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے پاس کوئی ایسا اجازت نامہ موجود ہونا ضروری ہے جو آبادکاری پرمٹ کا حقدار بناتا ہو (یاد رہے کہ یورپین یونین اور یورپی مالیاتی زون کےلئے قواعد کے تحت دیا گیا رہائش اور کام کا اجازت نامہ آبادی کاری پرمٹ کا حقدار نہیں بناتا)۔ ایک منظور شدہ آبادکاری پرمٹ کو منسوخ نہیں کیا جا سکتا‘ باوجود اس امر کے کہ آپ کام کے پرمٹ یا رہائشی پرمٹ کی شرائط کو اب پورا نہیں کر رہے‘ مثلاً طلاق یا بےروزگاری وغیرہ کی صورت میں۔

آبادکاری پرمٹ کےلئے درکار دستاویزات

٭ درخواست فارم بمعہ تصویر۔
٭ پاسپورٹ کی کاپی (اگر آپ ناروے میں کام یا قیام کے اجازت ناموں کے ساتھ رہائش کے دوران پہلے بھی کوئی پاسپورٹ رکھ چکے ہیں تو ان پرانے پاسپورٹوں کی کاپی بھی) ۔
٭ پچھلے سالوں کے دوران تمام بیرون ملک سفروں کی تفصیل۔
جب آپ آبادکاری پرمٹ کےلئے درخواست دیتے ہیں تو آپ کو بذریعہ ڈاک خودبخود اطلاع بھیج دی جاتی ہے کہ تارکین وطن کے ادارے کو آپ کی درخواست موصول ہو چکی ہے۔ اس خط میں آپ کی درخواست پر غور میں لگنے والے متوقع وقت کے متعلق بھی معلومات موجود ہوتی ہیں۔ اگر آپ آبادکاری پرمٹ ملنے کے بعد ناروے سے باہر جانا چاہتے ہیں تو ایسی صورت میں آپ کو اپنے پاسپورٹ میں آبادکاری پرمٹ کی کارآمد مہر (سٹکر) لگوا لینی چاہئے۔ یہ مہر تصدیق کرتی ہے کہ آپ کو آبادکاری پرمٹ حاصل ہے اور اس مہر کی تجدید صرف پولیس کے سامنے حاضر ہو کر کروائی جا سکتی ہے اور اس کےلئے درخواست کی ضرورت نہیں ہوتی۔
بنیادی قاعدہ یہ ہے کہ اگر آپ مسلسل دو سال تک یا چار سال کے عرصے میں کل ملا کر دو سال سے زیادہ ناروے سے باہر رہتے ہیں تو آپ کا آبادکاری پرمٹ منسوخ ہو جائے گا۔ اگرآپ دو سال سے زائد عرصہ کےلئے ناروے سے باہر جانا چاہتے ہوں تو کچھ خصوصی صورتوں میں آپ اپنے آبادکاری پرمٹ کو بحال رکھنے کےلئے درخواست دے سکتے ہیں۔ اس صورت میں آپ کو ناروے سے باہر پہلے دو سال کی مدت ختم ہونے سے کافی عرصہ پہلے درخواست دینی ہو گی۔ بعض استثنائی صورتوں کے علاوہ یہ شرط عائد ہوتی ہے کہ جن افراد کو اپنا پہلا کام یا قیام پرمٹ 01-09-2005 کے بعد ملا ہو ان کےلئے نارویجن زبان کی تعلیم مکمل کرنا ضروری ہے۔ جن افراد کو اپنا پہلا پرمٹ اس تاریخ سے پہلے ملا تھا ان کےلئے بالعموم یہ شرط پوری کرنا ضروری نہیں۔

عمومی سوالات

س: مجھے کب اور کہاں درخواست دینا ہو گی؟
ج: آبادکاری پرمٹ کی درخواست آپ کو ناروے میں مقامی پولیس کو دینی ہو گی اور یہ درخواست آپ اپنا رہائشی پرمٹ یا کام کا اجازت نامہ ختم ہونے سے کم از کم ایک ماہ قبل دیں گے۔ جب آپ بروقت درخواست دے دیتے ہیں تو پھر اس کا فیصلہ ہونے تک آپ کو بدستور قانونی طور پر پہلے والی شرائط پر ناروے میں قیام کا حق حاصل رہتا ہے۔
س: میری درخواست پر فیصلہ ہونے میں کتنی دیر لگے گی؟
ج: ان درخواستوں پر لگنے والا وقت کچھ مختلف ہو سکتا ہے۔ نارویجن اور انگریزی زبان میں تازہ ترین معلومات ڈائریکٹوریٹ کے شعبہ معلومات برائے درخواست دہندگان سے بذریعہ فون حاصل کر سکتے ہیں۔
س: کیا آبادکاری پرمٹ کی درخواست کے ساتھ کوئی فیس دینا پڑتی ہے؟
ج: درخواست کی فیس 1600 نارویجن کرون ہے۔ یہ فیس درخواست جمع کرواتے وقت پولیس کو (نقد یا بذریعہ کارڈ) ادا کرنا ہوتی ہے۔ فیس کی ادائیگی پیشگی طور پر بذریعہ بنک (اکاﺅنٹ میں منتقلی) بھی کی جا سکتی ہے۔ ایسی صورت میں ادائیگی کی رسید درخواست کے ساتھ لف کر کے درخواست بذریعہ پوسٹ یا خود جا کر جمع کروائی جا سکتی ہے۔ اکاﺅنٹ نمبر آپ کو پولیس سے مل سکتا ہے۔
س: اگر میری درخواست مسترد کر دی جائے تو کیا میں فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتا ہوں؟
ج: جی ہاں! اگر آپ اپیل کرتے ہیں تو آپ کی شکایت ڈائریکٹوریٹ برائے امور تارکین وطن (UDI) کارروائی کرے گا اور اگر ڈائریکٹوریٹ اپنے پہلے فیصلے میں تبدیلی نہیں کرتا تو پھر اس اپیل پر غیر ملکیوں کی اپیلوں کی سماعت کرنے والا بورڈ (UNE) کارروائی کرے گا۔ اپیل پر کارروائی کےلئے کوئی فیس ادا نہیں کرنا پڑتی۔
س: مجھے کونسی شرائط پوری کرنا ہوں گی؟
ج: عام اصول یہ ہے کہ آپ مسلسل تین سال سے ناروے میں قانونی طور پر رہائش یا کام کے اجازت نامہ کی بنیاد پر مقیم ہوں اور یہ اجازت نامہ آپ کو آبادکاری پرمٹ کا حقدار بناتا ہو۔ واضح رہے کہ بعض حالات میں تین سال سے زیادہ عرصہ رہائش کا تقاضا کیا جا سکتا ہے مثلاً اگر آپ کو کسی جرم کے نتیجے میں سزا ہو چکی ہو۔ ”مسلسل“ سے مراد یہ ہے کہ آپ کو تینوں سالوں میں ایک ہی پرمٹ ملتا رہا ہو اور پرمٹ کی شرائط اس تمام عرصے میں پوری ہوتی رہی ہوں۔ یہ ضروری ہے کہ تین سال کے دوران آپ نے پرمٹ کے بغیر (غلطی یا لاپرواہی کی وجہ سے) کل ملا کر تین ماہ سے زیادہ وقت نہ گزارا ہو۔ پرمٹ کے بغیر وقت اس طرح شمار کیا جاتا ہے جو پرمٹ ختم ہونے کے بعد تجدید کےلئے دی جانے والی درخواست تک گزرا ہو۔
اس کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ پچھلے تین سالوں میں آپ نے سات ماہ سے زیادہ عرصہ ناروے سے باہر نہ گزارا ہو۔ بعض گروپوں سے تعلق رکھنے والے درخواست دہندگان ناروے میں 15 ماہ تک قیام کر سکتے ہیں بغیر اس کے کہ ان کا آباد کاری پرمٹ حاصل کرنے کا حق ختم ہو جائے۔ یہ اصول پیشہ وارانہ اہلیت کی بنیاد پر کام کا پرمٹ پانے والے لوگوں کےلئے اور ان لوگوں کےلئے ہے جنہیں پروفیسر کے عہدے یا کسی اور عملی عہدے پر فائز ہونے کے سبب پرمٹ ملا ہو (غیر ملکیوں کے قانون 3S‘ حصہ دوم‘ حرف a یا d کی رو سے دیا گیا پرمٹ) ایسے کیسوں میں ایک شرط یہ ہے کہ پرائیویٹ سفر اور سیاحت کی مدت سات ماہ سے زیادہ نہ رہی ہو اور باقی سفر فرائض منصبی کے سلسلے میں کئے گئے ہوں۔ بعض استثنائی صورتوں کے علاوہ ایک تقاضا یہ لاگو ہوتا ہے کہ جن افراد کو اپنا پہلا کام کا پرمٹ یا آبادکاری پرمٹ یکم ستمبر 2005ءکے بعد ملا ہو ان کےلئے نارویجن زبان کی تعلیم مکمل کرنا لازمی ہے۔ جن افراد کو اپنا پہلا پرمٹ اس تاریخ سے پہلے ملا تھا ان سے عام طور پر یہ تقاضا نہیں کیا جاتا۔ یہ تقاضا صرف ان درخواست دہندگان کے ضمن میں ہے جن کےلئے انٹروڈکشن قانون میں درج قواعد کی رو سے لازمی نارویجن تعلیم مکمل کرنا ضروری ہے۔
س: رہائشی عرصہ کس تاریخ سے شمار کیا جاتا ہے؟
ج: بالعموم آپ کا رہائشی عرصہ اس تاریخ سے شمار کیا جاتا ہے جب آپ کو اپنا پہلا رہائشی اجازت نامہ ملا تھا۔ اگر یہ پرمٹ آپ کو ناروے آنے سے پہلے ملا تھا تو آپ کا عرصہ اس تاریخ سے شمار ہو گا جب آپ نے ناروے پہنچنے کے بعد پہلی مرتبہ پولیس کو اپنی آمد کی اطلاع دی تھی۔ پناہ کے ایسے درخواست گزار جن کو پناہ مل چکی ہے وہ اپنا عرصہ اس تاریخ سے شمار کر سکتے ہیں جب انہوں نے پناہ کی درخواست دی تھی۔ جبکہ پناہ کے ایسے درخواست گزار جنہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اقامت نامہ دیا گیا ہو ان کا عرصہ اس تاریخ سے شمار کیا جائے گا جب انہیں رہائش کا پرمٹ ملا۔ اگر آپ کے پرمٹ کی بنیاد تبدیل ہو جائے یا آپ کا کچھ وقت ایسا گزرا ہو جس میں پرمٹ کی بنیاد موجود نہ رہی ہو تو عام طور پر رہائشی عرصے کو نئے سرے سے اس وقت سے شمار کیا جائے گا جب آپ کو تازہ ترین بنیاد پر پرمٹ ملا یا اس وقت سے جب پرمٹ کی بنیاد دوبارہ قائم ہوئی۔
س: کیا میں اپنے آبادکاری پرمٹ سے محروم کیا جا سکتا ہوں؟
ج: اگرچہ آبادکاری پرمٹ ناروے میں مستقل قیام کا حق فراہم کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ یہ شرط وابستہ ہے کہ آپ درحقیقت ناروے میں ہی رہتے ہوں۔ اگر آپ چار سال کے عرصے میں دو سال سے زیادہ بیرون ملک رہتے ہیں تو آپ پرمٹ سے محروم ہو جائیں گے۔

فیملی امیگریشن

فیملی امیگریشن یا کنبے کے افراد کے ناروے آ کر بسنے کا مطلب ہے کہ ناروے کے باہر سے کوئی شخص اپنے کنبے کے ساتھ رہنے کےلئے ناروے آ جائے۔ بیرون ناروے رہنے والا کنبے کا فرد جس شخص کے پاس ناروے آنا چاہتا ہے اس شخص کےلئے ضروری ہے کہ ناروے یا کسی دوسرے نارڈک ملک کا شہری ہو یا اس کے پاس ایسا اجازت نامہ برائے روزگار/ اقامت ہو جو کنبے کو ناروے بلوانے کی بنیاد بن سکتا ہو۔ بنیادی طور پر کنبے کے انہی افراد کو ناروے رہنے کےلئے آنے کی اجازت دی جاتی ہے جو ناروے میں رہنے والے شخص کے قریبی رشتے دار ہوں۔ یہ اجازت نامہ ایک وقت میں ایک سال کےلئے دیا جاتا ہے۔ تین سال کے بعد آپ آبادکاری پرمٹ کی درخواست دے سکتے ہیں۔

قریبی رشتہ دار

٭ شوہر/ بیوی اور رجسٹرڈ ازدواجی پارٹنر۔
٭ بغیر شادی کے ساتھ رہنے والے جوڑے جن کے تعلق کو دو برس گزر چکے ہوں۔
٭ 18سال سے کم عمر کے بچے۔

دوسرے رشتہ دار جنہیں اجازت مل سکتی ہے

٭ ناروے میں رہنے والے شخص کا ایسا (بنا شادی کئے) ساتھی جو اس کے بچے کا باپ/ ماں ہے یا ان کا بچہ پیدا ہونے والا ہے (اس صورت میں خواہ ان کے باہمی تعلق کو 2سال پورے نہ ہوئے ہوں‘ تب بھی اجازت مل سکتی ہے)۔
٭ وہ شخص جو ناروے میں رہنے والے سے شادی کرنے کےلئے آئے اور آنے کے بعد چھ ماہ کے اندر اندر شادی کر لے۔
٭ تنہا رہ جانے والا باپ یا ماں جس کی عمر 60 برس سے زیادہ ہو اور اپنے وطن میں اس کا کوئی قریبی رشتے دار نہ ہو۔
٭ غیر شادی شدہ زیرکفالت بچے جن کی عمر 18سال سے اوپر ہو اور اپنے وطن میں کوئی ان کی دیکھ بھال کرنے والا نہ ہو یا ایسے بچے جنہیں (معذوری/ بیماری کے سبب) خصوصی دیکھ بھال کی ضرورت ہو۔
٭ 18 سال سے کم عمر کے سگے بہن بھائی جن کے وطن یا رہائشی ملک میں ماہ‘ باپ یا کوئی اور دیکھ بھال کرنے والا نہ ہو اور ماں یا باپ کسی اور ملک میں بھی نہ موجود ہوں۔
٭ انسانی ہمدردی کے خصوصی تقاضوں کی صورت میں بعض دوسرے رشتے داروں کو بھی اجازت مل سکتی ہے۔

کنبے کے افراد کو ناروے بلوانے کےلئے شرائط

٭ بنیادی اصول یہ ہے کہ ناروے میں درخواست گزار کی کفالت کا بندوبست ہو‘ کفالت کے بندوبست سے مراد یہ ہے کہ حکومت کے مقررہ تنخواہوں کے قواعد کے لحاظ سے گریڈ 8 کے برابر آمدنی رکھنا ضروری ہے۔ 21-07-2008 کو یہ رقم 215200نارویجن کرون سالانہ قبل از ٹیکس کٹوتی تھی۔
٭ اگر درخواست گزار قریبی رشتے دار نہ ہو تو جائے رہائش کا بندوبست کرنا ضروری ہے۔

درخواست کہاں دی جائے؟

جو لوگ اپنے قریبی رشتے دار کے پاس ناروے آ کر بسنا چاہتے ہیں ان کےلئے بالعموم لازمی ہے کہ وہ اپنے وطن سے یا اس ملک سے درخواست دیں جہاں وہ پچھلے چھ ماہ سے اجازت نامہ برائے روزگار واقامت کے ساتھ مقیم ہوں۔ درخواست گزار خود نزدیکی نارویجن سفارتخانے میں درخواست داخل کرے۔ ناروے میں رہنے والا شخص ان لوگوں کی طرف سے فیملی امیگریشن کی درخواست نہیں دے سکتا جو ناروے سے باہر رہتے ہیں۔ صرف انتہائی غیر معمولی حالات میں اس اصول سے استثناءدیا جا سکتا ہے۔

مطلوبہ دستاویزات

٭ درخواست فارم بمعہ فوٹو کاپی۔
٭ سرٹیفکیٹ پیدائش۔
٭ پاسپورٹ کی کاپی (تمام صفحات‘ غیر استعمال شدہ صفحے بھی کاپی کر کے دیئے جائیں)
٭ سرکاری سرٹیفکیٹ جس سے پتہ چلتا ہو کہ مذکورہ شخص ناروے میں مقیم شخص کا رشتہ دار ہے۔
٭ معاہدہ ملازمت/ روزگار جس سے ملازمت کے عرصہ اور تنخواہ کا علم ہوتا ہو۔ اس کے ساتھ پچھلے تین ماہ کی تنخواہ کا ثبوت بھی پیش کیا جائے۔
٭ کرایہ نامہ/ رہائش کا معاہدہ۔
٭ اگر والدین کی علیحدگی کے بعد دونوں والدین کو بچے کے سرپرستانہ حقوق حاصل ہوں اور والدین میں سے صرف ایک کے پاس ناروے کا اجازت نامہ برائے اقامت یا روزگار ہو تو ناروے بلوائے جانے والے بچے کے والدین میں سے دوسرے فریق کی طرف سے تحریری اظہار رضامندی‘ اگر ناروے میں رہنے والے فریق کو بلا شرکت غیرے سرپرستانہ حقوق حاصل ہوں تو اس کا تحریری ثبوت پیش کیا جائے۔
٭ جب شادی کرنے کےلئے اجازت نامہ برائے اقامت کی درخواست دی جا رہی ہو تو ناروے میں رہنے والے شخص اور درخواست گزار‘ دونوں کی ازدواجی حیثیت کا تصدیق نامہ پیش کیا جائے۔
٭ اصل دستاویزات پیش کی جائیں اور ساتھ ان کا انگریزی ترجمہ بھی فراہم کیا جائے۔

اہم سوالات کے جوابات

norway immigration
س: اگر میں نے ناروے میں شادی کرنی ہو تو پھر کس طرح درخواست دینا ہو گی؟
ج: اگر آپ کا مقصد ناروے میں شادی کر کے قیام پذیر ہونے کا ہو تو پھر آپ شادی کےلئے مخصوص چھ ماہ کے اقامتی پرمٹ کےلئے درخواست دے سکتے ہیں۔ اقامتی پرمٹ کےلئے درخواست آپ کو اپنے ملک میں موجود نارویجن سفارتخانہ یا پھر اس ملک سے دینی ہو گی جس میں آپ گزشتہ چھ ماہ سے اقامتی پرمٹ کے ساتھ مقیم ہیں۔ اگر آپ کا مقصد اپنے محبوب کو ملنا اور مل کر واپس لوٹ جانا ہو تو پھر آپ 90 دن کےلئے کارآمد ملاقاتی ویزا کےلئے درخواست دے سکتے ہیں۔
س: کیا فیملی امیگریشن منظور ہونے سے پہلے میں ناروے جا سکتا/ سکتی ہوں؟
ج: عام طور پر فیملی امیگریشن منظور ہونے سے پہلے آپ ناروے نہیں جا سکتے۔ تاہم بعض صورتوں میں آپ ناروے میں داخل ہو کر یہاں سے درخواست دے سکتے ہیں۔ ایسی صورتوں کی مثالیں مدرجہ ذیل ہیں۔

٭ اگر آپ کا شریک حیات ناروے یا کسی نارڈک ملک کا شہری ہو اور ناروے میں مقیم ہو یا یہاں مقیم ہونے کا ارادہ رکھتا ہو۔
٭ اگر آپ کے شریک حیات کے پاس آبادکاری پرمٹ ہو یا ایسا پرمٹ ہو جو آبادکاری پرمٹ کی بنیاد بن سکتا ہو۔
٭ آپ کے اپنے شوہر/ بیوی کے ساتھ مشترکہ بچے جو نارویجن شہری نہ ہوں‘ وہ بھی ناروے آ کر یہاں سے درخواست دے سکتے ہیں۔ یہی اصول آپ کے ان بچوں کےلئے بھی ہے جو سابقہ شوہر/ بیوی سے ہوں اور آپ بلا شرکت غیرے یا دوسرے فریق کے ساتھ مل کر بچوں کے سرپرستانہ حقوق رکھتے ہوں اور دوسرا فریق بچوں کے ناروے میں آباد ہونے پر رضامند ہو۔
اگر آپ پر ویزا حاصل کرنے کی پابندی ہے تو قریبی نارویجن سفارتخانہ سے رابطہ کر کے اپنے شوہر/ بیوی کے پاس آنے کےلئے محدود ویزا برائے داخلہ کی درخواست دیں۔ یہ ویزا صرف بعض مخصوص کیسوں میں دیا جاتا ہے اور درخواست دہندگان کے ایک گروپ تک محدود ہے۔ کیس کا فیصلہ ایمبیسی کرتی ہے تاہم درخواست مسترد ہونے کی صورت میں آپ UDI سے اپیل کر سکتے ہیں۔
س: کیا جتنا عرصہ میں فیملی امیگریشن کا جواب آنے کا انتظار کر رہا ہوں‘ اس کے دوران مجھے عارضی ورک پرمٹ مل سکتا ہے؟
ج: اگر آپ ان لوگوں میں سے ہیں جنہیں ناروے جا کر فیملی امیگریشن کی درخواست دینے کی اجازت مل جاتی ہے تو آپ عارضی ورک پرمٹ کی درخواست دے سکتے ہیں۔
س: کیا فیملی امیگریشن کی درخواست کے ساتھ فیس دینا پڑتی ہے؟
ج: پولیس/ ایمبیسی کو درخواست دیتے ہوئے ساتھ فیس ادا کرنا ہوتی ہے۔ 18 سال سے کم عمر کے بچوں کو فیس نہیں دینا پڑتی۔ فیس نقد یا کارڈ کے ذریعے ادا کی جا سکتی ہے۔ آپ یوں بھی کر سکتے ہیں کہ پیشگی فیس ادا کر کے (اکاﺅنٹ میں رقم بھیج کر) اس کی رسید درخواست کے ساتھ لگا دیں خواہ آپ بذریعہ ڈاک درخواست بھیج رہے ہوں یا خود آ کر درخواست دے رہے ہوں۔ پولیس/ سفارتخانے سے اکاﺅنٹ نمبر معلوم کیا جا سکتا ہے۔
س: اگر میری درخواست نامنظور ہو جائے تو کیا میں اپیل کر سکتا ہوں؟
ج: جی ہاں! اگر آپ اپیل کرتے ہیں تو UDI اپیل پر کارروائی کرے گا اور اگر UDI اپنے سابقہ فیصلے کو نہیں بدلتا تو غیر ملکیوں کی اپیلوں کی سماعت کرنے والا بورڈ (UNE) اپیل پر کارروائی کرے گا۔ اپیل پر کارروائی کےلئے کوئی فیس نہیں دینا پڑتی۔
س: مجھے اپنے اجازت نامہ برائے اقامت وروزگار کی تجدید کرانی پڑے گی جو مجھے فیملی امیگریشن کی بنیاد پر ملا ہے؟
ج: اصولی طور پر یہ اجازت نامہ ایک وقت میں ایک ہی سال کےلئے دیا جاتا ہے۔ اگر اجازت نامہ قابل تجدید ہے تو اس کی تجدید کےلئے درخواست دینا پڑتی ہے۔ اجازت نامے کی میعاد ختم ہونے سے پہلے تجدید کی درخواست دینا ضروری ہے۔ تجدید کرواتے وقت فیس دینا پڑتی ہے۔ (18سال سے کم عمر کے بچوں کےلئے کوئی فیس نہیں ہے) تین سال بعد آپ اقامتی پرمٹ کی درخواست دے سکتے ہیں۔

Norway Asylum

سیاسی پناہ

ایک مہاجر کےلئے پناہ سے مراد ایک غیر ملک میں قیام کی آزاد جگہ ہے۔ مہاجر ایک ایسا فرد ہے جسے اس کے اپنے ملک میں استحصال کا نشانہ بنایا گیا ہو جبکہ پناہ کا خواستگار ایک ایسا فرد ہے جو ازخود اور بغیر اطلاع کئے ناروے پہنچ جائے اور درخواست کرے کہ اسے تحفظ فراہم کیا جائے اور اسے مہاجر تسلیم کیا جائے۔ اگر اس کی درخواست منظور ہو جائے تو پناہ کا یہ خواستگار مہاجر کہلائے گا۔ اگر آپ کی پناہ کی درخواست مسترد کر دی جاتی ہے تو آپ کا ناروے سے رخصت ہونا ضروری ہے اور اس موقع پر آپ کسی دوسری قسم کے اجازت نامہ مثلاً کام یا رہائشی اجازت نامہ کےلئے درخواست نہیں کر سکتے۔ اگر ایک فرد اپنے ملک میں اپنے حقوق کی پامالی کے معقول خدشات رکھتا ہو تو اسے ناروے میں پناہ کا حق حاصل ہو سکتا ہے۔ فرد کے حقوق کی یہ پامالی درج ذیل وجوہات کی بنیاد پر ہوئی ہونی چاہئے۔ نسل‘ مذہب‘ قومیت‘ کسی مخصوص معاشرتی طبقہ سے تعلق یا سیاسی نظریات۔ حقوق کی یہ پامالی انفرادی طور پر ہونا ضروری ہے اور یہ خدشہ بھی ہونا ضروری ہے کہ ملک واپسی کی صورت میں متعلقہ فرد کے حقوق پامال کئے جائیں گے اور متعلقہ ملک کے حکام درخواست دہندہ کو تحفظ فراہم نہیں کرنا چاہتے یا تحفظ نہیں کر سکتے۔ جو افراد مذکورہ بالا شرائط میں سے کسی ایک یا زیادہ پر پورا نہیں اترتے انہیں ناروے میں پناہ کا حق حاصل نہیں ہے۔ وہ استحصال جو خاص طور پر عورتوں کو نشانہ بنائے اور جنسی بنیاد پر کیا گیا استحصال بھی پناہ کا حقدار بنا سکتا ہے۔ آپ کے آبائی ملک کے حکام کی طرف سے کیا گیا استحصال اور دیگر افراد کی طرف سے کیا گیا استحصال مثلاً آپ کے کنبہ یا کسی مسلح تنظیم کی طرف سے کیا گیا استحصال بھی آپ کو پناہ کا حقدار بنا سکتا ہے۔ اگر آپ کو اپنے ملک کے کسی حصے میں تحفظ فراہم ہو سکتا ہو یا اگر آپ کے آبائی ملک کے حکام آپ کو تحفظ فراہم کرتے ہوں تو عام طور آپ کو پناہ نہیں دی جاتی۔ آبائی ملک میں عام معاشی مسائل بھی ناروے میں پناہ کی بنیاد نہیں بن سکتے۔

تحفظ کی ضرورت کی بنیاد پر رہائشی اجازت نامہ

اگر آپ پناہ حاصل کرنے کی شرائط پوری نہیں کرتے لیکن آپ کے آبائی ملک کے حالات ایسے ہیں کہ آپ کا ملک واپس جانا آپ کےلئے خطرات کا باعث بن سکتا ہے تو آپ کو تحفظ کی ضرورت کی بنیاد پر رہائشی اجازت نامہ دیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ملک میں امن کا فقدان جو آپ کی جان کےلئے خطرہ کا باعث ہو یا پھر تشدد کا نشانہ بننے کا احتمال یا کسی دوسرے غیر انسانی سلوک کا نشانہ بننے کا احتمال ان خصوصی حالات کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہائشی اجازت نامہ

انسانی ہمدردی کی ٹھوس وجوہات کی موجودگی‘ مثال کے طور پر کسی شدید بیماری میں مبتلا ہونا یا پھر کمسن ہونے کی وجہ سے خاص مشکلات کا شکار ہونا بھی آپ کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہائشی اجازت نامہ کا حقدار بنا سکتی ہیں۔ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہائشی اجازت نامہ کا فیصلہ کرتے وقت عموماً آپ کے ملکی حالات کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر جنگ کے بعد پیدا ہونے والی مشکل صورتحال اس سلسلے میں اہمیت کی حامل ہو سکتی ہے۔

درخواست پر کارروائی

ناروے آنے کے بعد بہت جلد درخواست گزار کو انٹرویو کےلئے طلب کیا جاتا ہے۔ درخواست گزار پناہ کا حقدار ہے یا نہیں اس کا فیصلہ اس کی درخواست‘ بیان حلفی اور انٹرویو میں دی گئی معلومات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ اگر آپ پناہ کے حقدار نہیں ٹھہرتے تو نارویجن حکام ازخود اس امر کا جائزہ لیتے ہیں کہ آیا کوئی اور ایسی وجوہات موجود ہیں جو آپ کو تحفظ کی ضرورت یا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہائشی اجازت نامہ کا حقدار بنا سکیں۔ تحفظ کی ضرورت یا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہائشی اجازت نامہ ٹھوس وجوہات کی موجودگی کی صورت میں دیا جاتا ہے۔

پناہ کی درخواست مسترد ہونے پر اپیل

اگر ڈائریکٹوریٹ برائے امور تارکین وطن (UDI) آپ کی پناہ کی درخواست مسترد کر دیتا ہے تو آپ فیصلہ کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں۔ اپیل درخواست گزار کے وکیل کو ڈائریکٹوریٹ برائے امور تارکین وطن (UDI) کا فیصلہ موصول ہونے کے بعد تین ہفتے کے اندر اندر دائر کی جاتی ہے۔ اپیل پہلے ڈائریکٹوریٹ برائے امور تارکین وطن (UDI) میں زیرغور لائی جاتی ہے جو اس امر کا جائزہ لیتا ہے کہ کیس میں کوئی نئی معلومات سامنے لائی گئی ہیں یا نہیں۔ اپیل پر کارروائی میں لگنے والے عرصہ کے دوران عام طور پر آپ کو ملک میں قیام کی اجازت دے دی جاتی ہے تاہم اگر ڈائریکٹوریٹ برائے امور تارکین وطن (UDI) کی نظر میں آپ کے پاس ناروے میں تحفظ حاصل کرنے کا کوئی واضع جواز موجود نہیں تو ایسی صورت میں آپ کو اپیل پر کارروائی میں لگنے والے عرصہ کے دوران ملک میں رہنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اگر ڈائریکٹوریٹ اپنے پہلے فیصلے میں تبدیلی نہیں کرتا تو پھر اس اپیل کو غیر ملکیوں کی اپیلوں کی سماعت کرنے والی کمیٹی (UNE) کے پاس بھیج دیا جائے۔

ملک سے روانگی

اگر آپ کی پناہ درخواست مسترد کر دی جاتی ہے اور آپ کو تحفظ کی ضرورت کے تحت یا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھی رہائشی اجازت نامہ نہیں دیا جاتا تو ایسی صورت میں آپ کو ملک چھوڑنا ہو گا۔ رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑنے کے معاہدے کےلئے آپ کو پولیس سے رابطہ کرنا چاہئے یا پھر اس سلسلے میں مدد کے حصول کےلئے آپ بین الاقوامی تنظیم برائے امداد تارکین وطن (IOM) سے بھی رابطے کر سکتے ہیں۔ یہ تنظیم آپ کی خواہش پر آپ سے آپ کی اپنے ملک آمد پر بھی رابطہ کر سکتی ہے۔ اگر آپ رضاکارانہ طور پر ملک نہیں چھوڑتے تو پولیس آپ کو آپ کے آبائی ملک چھوڑ کر آئے گی۔ اس سلسلے میں ضرورت پڑنے پر پولیس زبردستی کرنے کی بھی مجاز ہے۔ آپ اس ضمن میں نارویجن حکومت کے تمام اخراجات کے بھی ذمہ دار ہوں گے۔

اڑتالیس گھنٹے کا طریقہ کار

وہ ممالک جو ڈائریکٹوریٹ برائے امور تارکین وطن (UDI) کی دانست میں محفوظ ممالک تصور کئے جاتے ہیں ان ممالک سے تعلق رکھنے والے پناہ کے درخواست دہندگان کی درخواستیں نمٹانے کےلئے یکم جنوری 2004ءسے 48 گھنٹے کا طریقہ کار نافذ ہے۔ پناہ کے وہ درخواست دہندگان جن کے متعلق ابتداءہی سے یہ باور کیا جاتا ہے کہ وہ پناہ پانے کا جواز نہیں رکھتے ان میں سے بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو ناروے میں رہائشی اجازت نامہ حاصل کرتے ہیں۔ آپ کی درخواست کو انفرادی بنیاد پر زیرغور لایا جاتا ہے لیکن اس پر عام درخواستوں کے برعکس فوری کارروائی کی جاتی ہے اور یہ کارروائی ایک طریقہ کار کے تحت 48 گھنٹوں کے اندر اندر ہوتی ہے۔

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!
%d bloggers like this: