جرمنی، ویزا گائیڈ چیپٹر9

جرمن ویزے

جرمن ایمبیسی پاکستانی شہریوں کو جرمنی کے سفر کےلئے شینجن ویزا جاری کرتی ہے جو کہ آسٹریا‘ بلجیئم‘ چیک ری پبلک‘ ڈنمارک‘ فن لینڈ‘ فرانس‘ یونان‘ ہنگری‘ آئس لینڈ‘ اٹلی‘ لکسمبرگ‘ مالٹا‘ نیدرلینڈز‘ پولینڈ‘ پرتگال‘ سلوواکیہ‘ سپین‘ سویڈن سمیت بالٹیک ممالک ایسٹونیا‘ لیٹویا‘ اور لیتھوانیا کےلئے بھی کارآمد ہو گا۔

ویزا درخواست کہاں جمع ہو گی؟

جرمن ویزے کےلئے پنجاب‘ سرحد اور وفاقی دارالحکومت کے رہائشی جرمن ایمبیسی اسلام آباد جبکہ سندھ اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے امیدوار جرمن قونصلیٹ جنرل کراچی میں درخواست جمع کرائیں گے۔ ویزا اپلائی کرنے کےلئے ضروری ہے کہ پہلے آپ فون کر کے وقت لیں پھر اس مقررہ وقت پر جا کر براہ راست ویزا درخواست جمع کرائیں۔

اسلام آباد ایمبیسی کا نمبر: 051-2279441 اور قونصلیٹ جنرل کراچی کا نمبر: 021-5873782-83 ہے۔ واضح رہے کہ فیکس اور ای میل کے ذریعے فنی وجوہات کے باعث وقت نہیں دیا جاتا۔ اپنے ویزا کیس کے بارے میں دستخط شدہ تحریر بذریعہ ڈاک یا فیکس بھیج کر معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ ویزا سیکشن کا فیکس نمبر: 051-2278917 ہے۔

ویزا اپلائی کرنے کےلئے درکار جنرل دستاویزات

٭ ٹائپ رائٹریا کمپوٹر سے مکمل پُرشدہ 2فارم۔
٭ 3ہلکے بیک گراﺅنڈ کے ساتھ پاسپورٹ سائز تصاویر۔
٭ کم از کم 3ماہ کےلئے کارآمد پاسپورٹ۔
٭ آخری دو پرانے پاسپورٹ (اگر موجود ہوں)۔
٭ شادی شدہ ہیں تو بچوں کی فہرست۔
٭ بیرون ملک رہنے والے رشتہ داروں کی فہرست۔
٭ حقیقی کوائف درج کرنے کا بیان حلفی (نمونے کا عکس دیا جا رہا ہے)۔

٭ شینگن ممالک کےلئے کارآمد کم از کم 30ہزار یورو مالیت کی ٹریول ہیلتھ انشورنس پالیسی

٭ ایئر ٹکٹ (مختصر قیام کے ویزہ کےلئے ریٹرن اور کنفرمیشن کے ساتھ)۔
٭ پچھلے بیرونی دوروں سے متعلق بیان حلفی۔
٭ ویزا فیس کی رسید۔
نوٹ: انشورنس کےلئے آدم جی انشورنس کمپنی‘ اے سی ای‘ اے آئی جی‘ عسکری جنرل انشورنس‘ سنچری انشورنس‘ پکک انشورنس‘ آئی جی آئی‘ یونیورسل اور یونائیٹڈ انشورنس کمپنی منظور شدہ ہیں۔
75سال سے زائد عمر کے سینئر شہریوں کو مندرجہ بالا کمپنیاں ہیلتھ انشورنس نہ کریں تو کسی عزیز یا دوست کے ذریعے جرمن کمپنیوں اے ڈی اے سی‘ اے ایکس اے‘ ایلیئنز‘ ایلویا اور امادیوس سے کرائی جا سکتی ہے۔

german visa

ویزا فیسیں

جرمن سفارتخانہ ویزا فیس پاکستانی روپے میں جمع کرتا ہے لہٰذا یورو کا پاکستانی روپے میں حساب لگا کر روپے ساتھ لے جائیں۔ جرمنی نے قلیل مدتی/ طویل مدتی تمام ویزوں کی یکساں فیس 60یورو مقرر کی ہے۔ 6سال سے کم عمر بچے فیس سے مستثنیٰ ہوں گے۔

اہم ہدایات

ایمبیسی میں ویزا درخواست جمع کرانے کےلئے خود جائیں کسی دوسرے کے ذریعے درخواست جمع نہیں کی جائے گی۔
٭ مقررہ وقت سے پہلے پہنچیں تاکہ جلدبازی میں غلطی کا احتمال نہ رہے۔
٭ ویزا فارم ایمبیسی سے مفت حاصل کئے جا سکتے ہیں‘ ایمبیسی کی ویب سائٹ سے ڈاﺅن لوڈ بھی کئے جا سکتے ہیں۔
٭ فارم ٹائپ رائیٹر سے پُر کرنے کے بعد دستخط کرنے نہ بھولیں۔
٭ مختصر مدت کے ویزے 2سے 3ہفتوں میں جاری ہوتے ہیں لہٰذا اپنے طے شدہ پروگرام سے ایک ماہ قبل ویزا کےلئے اپلائی کریں۔

ٹورسٹ / وزٹ ویزا

جرمنی کے وزٹ ویزا کےلئے بھی بنیادی شرط سپانسر شپ ہے اور ساری ذمہ داری جرمنی میں مستقل رہائش پذیر سپانسر یا شہری پر عائد کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ امیدوار کی مالی حیثیت اور سماجی مقام کو بھی جانچا جاتا ہے تاکہ اس کی مقررہ مدت میں پاکستان واپسی کا اندازہ ہو سکے۔ پاکستان میں مضبوط معاشی اور سماجی رشتے رکھنے والے افراد بلاشبہ وزٹ مکمل کر کے واپس آئیں گے لہٰذا آپ کا اچھا ذاتی کاروبار ہو یا کوئی اعلیٰ عہدہ رکھتے ہوں تو اس بات کا شبہ تقریباً ختم ہو جاتا ہے کہ آپ وزٹ کےلئے جائیں گے اور واپس نہیں آئیں گے۔ اسی طرح شادی شدہ لوگوں کی نسبت سنگل افراد پر زیادہ شک ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ واپس نہیں آئیں گے۔ اگر آپ ویزا افسر کو اپنے دستاویزات اور رویے سے یقین دلانے میں کامیاب ہو جائیں کہ آپ جس مقصد کےلئے جرمنی جانا چاہتے ہیں مقررہ مدت میں اسے پورا کر کے واپس آ جائیں گے تو یقینا آپ کو ویزا جاری کر دیا جائے گا۔ ویزا درخواست کے ساتھ جنرل کاغذات کے علاوہ درج ذیل دستاویزات لگائیں۔
٭ سپانسر کی جانب سے دعوتی خط/ سپانسر لیٹر بمعہ ذمہ داری کا حلف نامہ بمطابق جرمن ریذیڈنٹ ایکٹ۔
٭ دورہ کے دوران اخراجات کےلئے معقول رقم کی موجودگی کا ثبوت یعنی کہ 6ماہ کی بنک سٹیٹمنٹ اور جائیداد وغیرہ کے ملکیتی ثبوت۔
٭ اپنا کاروبار ہے تو انکم ٹیکس کے کاغذات‘ رجسٹریشن اور چیمبر آف کامرس کی رکنیت کا سرٹیفکیٹ۔
٭ نوکری کی صورت میں 3ماہ کی سیلری سلپ اور متعلقہ اتھارٹی سے منظور شدہ چھٹی کا سرٹیفکیٹ۔
٭ ہوٹل کی بنگ یا سپانسر کی طرف سے رہائشی بندوبست کا لیٹر۔

سپانسر کےلئے شرائط

سپانسر کےلئے ضروری ہے کہ جرمنی کے مستقل رہائشی کا درجہ یا شہریت رکھتا ہو اور کسی سرکاری ونیم سرکاری ادارے کا ڈیفالٹر نہ ہو۔ مالی حیثیت بھی اچھی ہو کہ میزبانی کر سکے سپانسر تمام متعلقہ کاغذات کے ساتھ جرمن محکمہ خارجہ کو درخواست دے گا جہاں سے منظوری کے بعد ایک کاپی جرمن ایمبیسی میں آ جائے گی۔

بزنس ویزا

کاروباری افراد کو لین دین کے معاہدے‘ مشینری دیکھنے‘ کاروبار کےلئے مارکیٹ کا جائزہ لینے یا کسی نمائش میں شرکت کرنے کےلئے جانا ہو تو بزنس ویزا کے اجراءکی درخواست دیں گے۔ اس کےلئے ضروری ہے کہ آپ دستاویزات سے اپنی کاروباری حیثیت ثابت کر سکیں اور آپ کو جرمنی سے متعلقہ کمپنی یا بزنس مین نے مدعو کیا ہو۔ ویزا درواست کے ساتھ جنرل کاغذات کے علاوہ درج ذیل اضافی دستاویزات لگانا ہوں گی۔
٭ جرمن بزنس مین کی طرف سے دعوتی خط جس میں دورے کا مقصد اور مدت بیان کی گئی ہو۔
٭ کاروباری کمپنی کی طرف سے بزنس ٹور ہے تو اس کا لیٹر جس میں عہدہ‘ مدت ملازمت اور تنخواہ وغیرہ کا اندراج ہو۔
٭ بنک سٹیٹمنٹ (6ماہ کی)۔
٭ کاروباری ادارے کی رجسٹریشن اور انکم ٹیکس کے کاغذات۔
٭ جرمن کمپنی یا بزنس مین کے ساتھ کاروبار یا خط وکتابت کا ثبوت۔
٭ مقامی چیمبر آف کامرس کی رکنیت اور سفارشی لیٹر۔
٭ ہوٹل کی بکنگ کے کاغذات۔
نوٹ: ویزا سیکشن ان دستاویزات کے علاوہ ضروری محسوس ہونے پر مزید کاغذات بھی طلب کر سکتا ہے۔ مکمل درخواست پر ہی غور کیا جائے گا‘ نامکمل ہونے پر مسترد کر دی جائے گی۔ ویزا کے اجراءکا عمل 2سے 3ہفتوں پر محیط ہو سکتا ہے لہٰذا اپنے طے شدہ شیڈول سے ایک ماہ قبل ویزا کےلئے اپلائی کریں۔

ٹرانزٹ ویزا

آپ براستہ جرمنی کسی اگلے ملک جا رہے ہوں اور اس کا آپ کے پاس باقاعدہ ویزا اور کنفرم ایئرٹکٹ موجود ہو تو آپ کو 24گھنٹے سے 7 روز تک جرمنی میں قیام کا ویزا مل سکتا ہے۔ یہ ویزا صرف مین فرینکفرٹ‘ ہیمبرگ اور منچن ایئرپورٹس پر جاری ہو سکتا ہے۔ امیگریشن حکام ویزا اور ایئر ٹکٹ کے علاوہ بھی کوئی دستاویز طلب کر سکتے ہیں۔

علاج معالجے کا ویزا

جرمنی میڈیکل کے شعبہ میں بھی اپنی شناخت رکھتا ہے اور اپنے شہریوں کو پیدائش کے فوری بعد سے میڈیکل کی معیاری سہولیات کی فراہمی یقینی بناتا ہے۔ غیر ملکی جو جرمنی جا کر اپنا علاج کرانا چاہتے ہوں ان کو سپانسرشپ کی ضرورت نہیں ہو گی البتہ درج ذیل اضافی دستاویزات ضروری ہیں۔
٭ میڈیکل سرٹیفکیٹ جس میں بتایا گیا ہو کہ مریض کا پاکستان میں علاج ممکن ہے یا نہیں یا جرمنی میں بہتر طریقے سے ہو سکتا ہے۔

اس مقصد کےلئے جرمن ایمبیسی نے اسلام آباد اور لاہور میں ان 3 ڈاکٹروں کو بااختیار کر رکھا ہے آپ کو سب سے پہلے ان سے رابطہ کرنا ہو گا۔

(i ڈاکٹر محمد ارشد
سٹریٹ نمبر 1‘ ہاﺅس نمبر 20‘ سیکٹر F-6/3
اسلام آباد۔ فون: 051-2274368
(ii ڈاکٹر احمد شہاب
سٹریٹ نمبر 63‘ہاﺅس نمبر 4‘ سیکٹر F-7/3
اسلام آباد۔ فون: 051-8255891
(iii ڈاکٹر محمد اقبال
14مین گلبرگ لاہور۔ فون: 042-5755588 / 5716639

٭ پاکستان میں پہلے سے کرائے گئے علاج کے کاغذات۔٭ کسی جرمن ہسپتال یا ڈاکٹر کا جاری کردہ سرٹیفکیٹ جس میں علاج کی حامی بھری گئی ہو اور مدت کے علاوہ متوقع اخراجات بھی بتائے گئے ہوں۔
٭ میڈیکل فیس کی پیشگی ادائیگی کا ثبوت۔
٭ جرمنی میں قیام کے دوران اخراجات کےلئے معقول رقم کی موجودگی کا ثبوت (یہ بنک سٹیٹمنٹ اور جائیداد کے کاغذات کی صورت میں ہو گا)۔

فیملی ملاپ ویزا

آپ کا شوہر‘ اہلیہ‘ والد‘ والدہ یا بھائی بہن جرمنی میں مستقل رہائشی یا شہری کا درجہ رکھتے ہیں تو آپ بھی ان کے ساتھ جا کر قیام پذیر (Settle) ہو سکتے ہیں۔ اس کےلئے آپ کو فیملی ملاپ ویزا اپلائی کرنا ہو گا جس کےلئے پیر سے جمعہ صبح 8بجے سے دوپہر 1بجے کے دوران ایمبیسی میں فون نمبر 051-2279441 پر فون کر کے وقت لیں اور بذات خود جا کر ویزا درخواست جمع کرائیں۔

German family reunion visa
یاد رہے کہ کم از کم 18سال کے افراد اس ویزا کےلئے اپلائی کرنے کے اہل ہیں۔ درج ذیل کاغذاتبیان کردہ ترتیب میں تمام کی دو دو فوٹوکاپیوں کے ساتھ منسلک کریں۔ تمام کاپیاں اے فور سائز کاغذ پر ہونی چاہئیں۔
(i 3عدد ویزا فارم جو کہ ٹائپ رائٹر یا کمپیوٹر پر مکمل پُر شدہ ہوں۔
(فارم ایمبیسی سے یا اس کی ویب سائٹ www.islamabad.diplo.de سے حاصل کئے جا سکتے ہیں)۔
(ii 3عدد اپنی تازہ تصاویر+ اپنے شوہر‘ بیوی یا متعلقہ رشتہ دار کی 3تصاویر جو کہ جرمنی میں ہے۔
(iii جرمن زبان سے متعلق بنیادی علم کا ثبوت (صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ ماہرین‘ سائنسدانوں اور پناہ گزینوں کی بیگمات اور شوہر مستثنیٰ ہیں)۔
(iv جرمن رشتہ دار کا رجسٹریشن لیٹر۔
(v آپ کا موجودہ اور پرانا پاسپورٹ۔
(vi جرمن رشتہ دار کے پاسپورٹ کی فوٹو کاپیاں۔
(vii آپ کا برتھ سرٹیفکیٹ‘ انگریزی ترجمہ کے ساتھ اور مجسٹریٹ درجہ اول سے تصدیق شدہ۔
(viii نادرا آفس کا جاری کردہ فارم ب جو کہ انگریزی یا جرمن میں ترجمہ شدہ اور مجسٹریٹ درجہ اول سے تصدیق شدہ ہو۔ تصدیق اور ترجمہ شدہ نکاح نامہ۔
(x اگر آپ یا آپ کا / کی شریک حیات پہلے سے شادی شدہ تھے تو تصدیق شدہ طلاق نامہ۔
(xi ویزا فیس کی رسید (فیس 30یورو ہے)۔
(xii پاکستانی دستاویزات کی تصدیق کےلئے میزان بنک سے 20ہزار پاکستانی روپے کا ڈرافٹ بنوا کر ساتھ جمع کرانا ہو گا۔ بنک اس کےلئے 500روپے الگ سے اپنے چارجز وصول کرے گا۔

سٹڈ ی ویزا

سائنس وتحقیق اور روایتی تعلیم میں جرمنی کی ایک اپنی تاریخ ہے۔ امریکہ اور برطانیہ کے بعد جرمنی غیر ملکی طلباءکو تعلیم دینے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ کم وبیش 700پاکستانی طلباءاس وقت جرمنی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ جرمن تعلیمی اداروں نے انٹرنیشنل طلباءکےلئے فیس میں بھی نمایاں کمی کی ہے۔ گزشتہ چند سالوں سے جرمن یونیورسٹیاں انتظامی اور سوشل سکیورٹی چارجز بھی 60سے 200یورو تک فی سمسٹر وصول کرتی ہیں۔ طلباءکو ہیلتھ انشورنس بھی کرانا ہوتی ہے جس کا ماہانہ پریمیم 50سے 100یورو تک ہوتا ہے۔

ایجوکیشن میڈیم

جرمنی میں ذریعہ تعلیم جرمن زبان ہے تاہم ہائیر ایجوکیشن کے کچھ کورسز انگریزی زبان میں بھی دستیاب ہیں۔ آپ جرمنی میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہاں ہیں توپاکستان میں رہتے ہوئے ہی بنیادی جرمن زبان سیکھ لینی چاہئے۔ اس کےلئے سفارتخانے نے “Goethe Institute کو منظور کیا ہوا ہے۔ جرمن تعلیمی ادارے ڈی ایچ ایس لینگوئج ٹیسٹ کا مطالبہ کرتے ہیں۔
انگریزی میں پڑھائے جانے والے کورسز میں داخلہ کےلئے آپ کو کم از کم ٹوفل کا تحریری امتحان 550پوائنٹس یا کمپیوٹرائزڈ امتحان 213پوائنٹس کے ساتھ پاس کیا ہوا ہو۔ متبادل کے طور پر 6بینڈ کے ساتھ IELTS بھی قابل قبول ہوتا ہے۔

German study visa

داخلہ کیسے ہو گا؟

جرمن یونیورسٹی میں داخلے کےلئے یہ بات ذہن میں رہے کہ موسم سرما کے داخلوں کےلئے 15جولائی آخری تاریخ ہوتی ہے جبکہ ستمبر میں کلاس شروع ہوتی ہے۔ موسم گرما کے داخلے 15جنوری تک کئے جاتے ہیں اور کلاسوں کا آغاز اپریل میں ہوتا ہے۔ مذکورہ شیڈول کو مدنظر رکھتے ہوئے www.studyingermany.com اور دیگر متعلقہ ویب سائٹس کے ذریعے اپنے کورس کے مطابق یونیورسٹی یا کالج منتخب کریں اور داخلے کےلئے مطلوبہ شرائط جاننے کےلئے اس ادارہ کے ”فارن سٹوڈنٹ آفس“ سے رابطہ کریں۔

ویزا کےلئے درکار دستاویزات

جرمن تعلیمی اداروں میں داخلہ یا اینرولمنٹ ہو جانے کے بعد درج ذیل دستاویزات کے ساتھ ویزا اپلائی کریں جس کے اجراءمیں 4سے 8ہفتے تک لگ سکتے ہیں۔
٭ 3مکمل ٹائپ شدہ ویزا فارم (ایمبیسی اور ویب سائٹ پر دستیاب ہیں)۔
٭ 6ماہ تک کارآمد اصل پاسپورٹ۔
٭ ہلکے بیک گراﺅنڈ کے ساتھ 4پاسپورٹ سائز تازہ تصاویر۔
٭ کسی جرمن یونیورسٹی کا داخلہ کےلئے “Acceptance Letter” (اصل+دو کاپیاں)۔
٭ امیدوار کا سی وی (اصل+دو کاپیاں)۔
٭ گریجوایشن تک کی تعلیمی اسناد (اصل+دو کاپیاں)۔
٭ تعلیم‘ رہائش اور دیگر اخراجات کےلئے معقول رقم کے انتظام کا ثبوت۔
(اگر آپ سکالرشپ پر ہیں تو اس کا سرٹیفکیٹ منسلک کریں‘ خود اخراجات برداشت کرنے ہیں تو کسی جرمن بینک میں پہلے سال کےلئے کم از کم 7716یورو اس خصوصی شرط کے ساتھ جمع کرانا ہونگے کہ ہر ماہ صرف 643یورو نکلوانے کی اجازت ہو گی)۔
٭ انگریزی یا جرمن زبان کے ٹیسٹ کا سرٹیفکیٹ۔
نوٹ: آپ ذریعہ تعلیم جرمن منتخب کریں اور اس کا ٹیسٹ پاس کیا ہو تو اس کا ویزا افسر ہمیشہ مثبت اثر لیتے ہیں۔

ورک ویزا

یورپ میں بیروزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح کے باعث جرمنی اور یورپی یونین میں شامل دیگر ممالک روزگار کے مواقع یورپی یونین تک محدود کرتے چلے جا رہے ہیں۔ نئے جرمن امیگریشن قوانین کے مطابق غیر یورپی ممالک کے شہری اس صورت جرمنی میں کام کر سکتے ہیں کہ پہلے رہائشی پرمٹ حاصل کریں۔
پرائیویٹ کمپنیاں اور ایمپلائمنٹ ادارے مخصوص شعبوں کےلئے تربیت یافتہ ورکرز یا ماہرین کی ڈیمانڈ پیدا کر کے سنٹرل پلیس منٹ آفس سے منظوری لیتے ہیں اور ورک پرمٹ جاری کرواتے ہیں۔ ورک پرمٹ ملنے پر پاکستانی امیدوار ویزا کےلئے اپلائی کریں گے۔

ویزوں اور امیگریشن بارے اہم سوالات

س: کوئی وجہ بیان کئے بغیر میری ویزا درخواست مسترد کر دی گئی ہے اب میں کیا کر سکتا ہوں؟
ج: جرمن سفارتخانہ بغیر کوئی وجہ بیان کئے کسی بھی ویزا درخواست کو مسترد کرنے کا حق رکھتا ہے
تاہم آپ وجوہات جاننے کےلئے ویزا سیکشن کو تحریری درخواست کر سکتے ہیں اس کو “Remonstration” کہا جاتا ہے۔
س: مجھے جرمن ایمبیسی سے ویزا ملا ہے کیا میں دیگر یورپی ممالک میں جا سکتا ہوں؟
ج: جی ہاں! جرمن ایمبیسی وزٹ کےلئے شینگن ویزا جاری کرتی ہے جس پر آپ تمام شینگن ممالک میں جا سکتے ہیں اور تقریباً دوتہائی سے زائد یورپی ممالک شینگن معاہدے میں شامل ہو چکے ہیں۔
س: شینگن ممالک کون کون سے ہیں؟
ج: لکسمبرگ کے قصبہ شینگن میں یورپی ممالک کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت تمام ممالک کے باشندے ایک دوسرے ملک میں بغیر ویزا کے جا سکتے ہیں نیز ایک ملک کا وزٹ ویزا لے کر تمام شینگن ممالک میں داخلہ کی اجازت ہو گی۔ شینگن معاہدے میں درج ذیل ممالک شامل ہو چکے ہیں۔
جرمنی‘ آسٹریا‘ بلجیم‘ ڈنمارک‘ فرانس‘ یونان‘ ہنگری‘ اٹلی‘ ناروے‘ لکسمبرگ‘ سوئٹزر لینڈ‘ سویڈن‘ سپین‘ سلووینیا‘ پرتگال‘ پولینڈ‘ نیدر لینڈ‘ مالٹا‘ لیتھوانیا‘ لیٹویا‘ آئس لینڈ‘ فن لینڈ‘ اسٹونیا‘ چیک ری پبلک۔
س: وزیٹر ویزا پر میں جرمنی اور دیگر شینگن ممالک میں کتنی مدت تک رہ سکتا ہوں؟
ج: آپ کے قیام کی مدت آپ کے وزٹ ویزا سٹیکر پر درج ہو گی جو کہ زیادہ سے زیادہ 90روز تک ہو سکتی ہے۔
س: میں وزٹ پر ہوں اور جرمنی میں مزید ٹھہرنا چاہتا ہوں‘ کیا ویزا میں توسیع ممکن ہے؟
ج: یہ بہت اہم قسم کے معاملات میں ہی ممکن ہے اور اس کا فیصلہ صرف جرمنی کی فارنرز اتھارٹی کرتی ہے۔
س: میں آئندہ چند ماہ کے دوران کئی بار جرمنی اور شینگن علاقے میں جانا چاہتا ہوں‘ کیا میں لمبے عرصے تک کارآمد رہنے والے ویزا کےلئے اپلائی کر سکتا ہوں؟
ج: آپ کے اپلائی کرنے کے بعد ایمبیسی آپ کے کاغذات کے مطابق فیصلہ کرے گی کہ آپ کو کس نوعیت کا ویزا جاری کیا جا سکتا ہے جو کہ ایک یا دو سال کا ملٹی پل ویزا بھی ہو سکتا ہے جس پر آپ بار بار ٹریول کر سکتے ہیں تاہم ملٹی پل ویزا ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو کہ پہلے کئی بار جرمنی جا چکے ہوں۔
س: میں ایک جرمن شہری سے شادی کرنے کےلئے جرمنی جانا چاہتا ہوں‘ اس کےلئے کیا کروں؟
ج: سب سے پہلے آپ کا جرمن پارٹنر وہاں رجسٹری آفس سے مطلوبہ کاغذات کے بارے میں معلومات حاصل کرے جب کاغذات پورے ہو جائیں تو آپ جرمن سفارتخانے میں شادی کےلئے ویزا اپلائی کریں جس پر جرمنی جا کر شادی کریں گے اس کے بعد آپ کو رہائشی پرمٹ اور کام کا اجازت نامہ مل جائے گا اور آپ مستقل وہاں رہ سکیں گے۔
س: میری بیوی جرمن شہری ہے اور میں اس کے پاس جا کر رہنا چاہتا ہوں‘ کیا کروں؟
ج: پاکستان میں جرمنی کی ایمبیسی میں فیملی ملاپ کے ویزا کی درخواست دیں جسے ویزا سیکشن ضروری کارروائی کے بعد فارنرز اتھارٹی جرمنی کو بھجوائے گا اور منظوری آنے پر آپ کو ویزا جاری کر دے گا جس کے بعد جرمنی میں آپ کو ریذیڈنٹ اور ورک پرمٹ مل جائیں گے۔
س: کیا میں جرمنی میں پڑھائی کے دوران کام کر سکتا ہوں؟
ج: اکیڈمک سال میں 3ماہ آپ کام کر سکتے ہیں‘ لینگوئج کورسز میں اس کی اجازت نہیں ہو گی۔
س: کیا میں جرمنی میں پڑھتے ہوئے اپنی فیملی کو یہاں بلا سکتا ہوں؟
ج: بنیادی طور پر نہیں‘ طلباءکے فیملی ملاپ میں یہ تین قسم کے گروپ زیر غور آتے ہیں۔
(i پوسٹ گریجوایٹ طلبائ۔
(ii سکالر شپ ہولڈرز۔
(iii یورپی ممالک کے علاوہ آسٹریلیا‘ انڈورا‘ کینیڈا‘ آئس لینڈ‘ اسرائیل‘ جاپان‘ نیوزی لینڈ‘ ناروے‘ سان مرینو‘ سوئٹزر لینڈ اور امریکہ کے طلبائ۔
س: میں جرمنی میں حصول تعلیم کےلئے سکالر شپ لینا چاہتا ہوں‘ کہاں رابطہ کروں؟
ج: فیڈرل فارن آفس سکالر شپ کے سلسلہ میں کچھ نہیں کر سکتا یہ آزاد تنظیمیں ہیں جو وفاقی بجٹ میں مختص کردہ رقوم کو مستحق طلباءتک سکالرشپ کی شکل میں پہنچاتی ہیں۔ اس سلسلہ میں آپ کو جرمن اکیڈمک ایکسچینج (DAAD) سے رابطہ کرنا ہو گا۔

درج ذیل تنظیمیں بھی سکالر شپس دیتی ہیں۔
i) German Research Foundation.
ii) Friedrich-Ebert-Stiftung (Friedrich Ebert Foundation).
iii) Friedrich-Naumann-Stiftung (Friedrich Naumann Foundation).
iv) Hanns-Seidel-Stiftung (Hanns Seidel Foundation).
v) Heinrich-Boll-Stiftung (Heinrich Boll Foundation).
vi) Katholischer Akademischer Auslanderdienst (Catholic Academic Exchange Service).
vii) Konrad-Adenauer-Stiftung (Konrad Adenauer Foundation).
viii) Rosa-Luxemburg-Stiftung (Rosa Luxemburg Foundation).
ix) Deutscher Famulantenaustausch (German Medical Student Exchanges).

س: ورک ویزا اپلائی کرنے کا کیا طریقہ ہے؟

ج: غیر ملکیوں کو جرمنی میں کام کرنے کےلئے قانونی طور پر ریذیڈینس پرمٹ کی ضرورت ہے جس کےلئے ایمبیسی میں اپلائی کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد جرمنی کا رہائشی ہونے کے باعث لیبر مارکیٹ تک بھی رسائی ممکن ہو گی۔
س: جرمنی میں ملازمتوں کے بارے میں کہاں سے معلومات ملیں گی؟
ج: فیڈرل ایمپلائمنٹ ایجنسی ایک معلوماتی کتابچہ شائع کرتی ہے جس میں ملازمتوں‘ ان کےلئے درکار قابلیت اور اپلائی کرنے کا طریقہ کار وغیرہ سے متعلق تمام معلومات موجود ہوتی ہیں۔
س: ورکنگ ہالی ڈے پروگرام کیا ہے؟
ج: جرمنی نے آسٹریلیا‘ نیوزی لینڈ اور جاپان کے ساتھ دوطرفہ معاہدے کئے ہیں جن کے تحت دونوں طرف کے 18سے 30سال تک عمر کے نوجوان ایک سال تک ایک دوسرے ملک کے کلچر‘ تاریخ اور روزمرہ زندگی سے واقفیت حاصل کر سکتے ہیں۔ ورکنگ ہالی ڈے پروگرام کے تحت دورہ کے اخراجات سے نمٹنے کےلئے ایک سالہ ملازمتیں بھی دستیاب ہوتی ہیں۔
س: میں جرمنی میں پیدا ہوا تھا مگر میرے والدین جرمن نہیں ہیں‘ کیا مجھے جرمن پاسپورٹ مل سکتا ہے؟
ج: جرمنی میں پیدا ہونے والا بچہ جرمن شہریت لے سکتا ہے چاہے اس کے والدین جرمن نہ بھی ہوں تاہم اس کی پیدائش یکم جنوری 2000ءسے پہلے کی نہیں ہونی چاہئے۔
س: میں جرمنی میں نہیں رہ رہا کیا اس کے باوجود میں جرمن شہری بن سکتا ہوں؟
ج: ہاں یہ ممکن ہے‘ آپ جرمن زبان میں ماسٹر ہوں‘ جرمنی کے ساتھ کوئی گہرا تعلق ہو اور آپ کو یہاں رہائش کےلئے حکومت سے کسی قسم کی امداد کی ضرورت نہ ہو تو آپ ویزا لے کر آئیں اور شہریت اپلائی کر دیں۔
س: ہم میاں بیوی جرمن شہری نہیں ہیں مگر برسوں سے یہاں رہ رہے ہیں کیا ہمارا بچہ جرمن شہریت حاصل کر سکتا ہے؟
ج: جی ہاں! اگر آپ دونوں میں ایک قانونی طور پر کم از کم 8سال سے جرمنی میں رہا ہے تو آپ کا بچہ شہریت کا حقدار ہے تاہم یہ 18اور 23سال کی عمر کے درمیان فیصلہ ہو گا کہ بچہ کسی اور ملک کا شہری بننا چاہتا ہے یا پیدائش سے ہی جرمن شہریت کا خواہشمند ہے۔
س: میں نے ایک جرمن شہری سے شادی کی ہے کیا خود بخود مجھے شہریت مل جائے گی؟
ج: نہیں! شادی کے ذریعے جرمن شہریت خودبخود نہیں ملتی‘ شادی کے کم از کم 2 سال بعد آپ شہریت کا حق رکھتے ہیں بشرطیکہ پہلے سے جرمنی میں 3سال قانونی طریقے سے رہے ہوں۔
س: جرمن شہریت کس طرح کھو سکتی ہے؟
ج: ایک جرمن شہری جو کہ یورپی یونین کے کسی ممبر ملک اور سوئٹزر لینڈ کے علاوہ کسی اور ملک کی شہریت قبول کر لے وہ جرمن شہریت کھو بیٹھے گا۔ جرمنی شہریوں کےلئے 9ماہ فوج میں خدمات سرانجام دینا ضروری ہے ایسا نہ کرنے والا بھی اپنی شہریت کھو دیتا ہے۔

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!
%d bloggers like this: