کینیڈا کے بارے میں‌حیران کن معلومات

کینیڈا کا لفظ نارتھ امریکہ کی زبان Iroquoian (ایروکوئن ) کے لفظ ‘‘Kanata’’سے لیا گیا ہے جس کے معنی گاؤں کے ہیں۔کینیڈا دس صوبوں اور تین ریاستوں کا مجموعہ ہے۔ صوبوں میں البرٹا، برٹش کولمبیا، مینی ٹوبہ، نیو برنزوک، نیو فاؤنڈ لینڈ ، لیبریڈار، نووا سکوٹیا،اونٹاریو، پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ، کیوبیک اور سسکاشیوان ہیں۔ ریاستوں کے نام نارتھ ویسٹ ٹیراٹریز، نُناوُت Nunavut اور یوکون ہیں۔ صوبوں کو وفاق کی جانب سے اس حد تک خود مختاری حاصل ہے کہ ان کی اپنی اپنی صوبائی اور ریاستی علامات بھی ہیں۔
کینیڈا رقبے کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے جوکہ براعظم شمالی امریکا کے بڑے حصے پر محیط ہے۔اس کی سرحدیں امریکا کے ساتھ جنوب اور شمال مغرب کی طرف سے ملتی ہیں۔ یہ سرحد دنیا کی دو ممالک کے درمیان قائم سب سے طویل سرحدی پٹی ہےجوکہ دولاکھ کلومیٹر سے بھی لمبی ہے۔برطانوی اور فرانسیسی کالونی بننے سے قبل کینیڈا میں قدیم مقامی لوگ رہتے تھے۔ کینیڈا نے برطانیہ سے بتدریج آزادی حاصل کی۔یہ عمل 1867 سے شروع ہوا اور 1982 میں مکمل ہوا۔انگریزی اور فرانسیسی زبانوں کو یہاں سرکاری زبانوں کا درجہ حاصل ہے۔
کینیڈا ٹیکنالوجی کے لحاظ سے ترقی یافتہ اور صنعتی ملک ہے۔دنیا کے امیرترین ممالک میں اس کا سولہواں نمبر ہے۔اس کی معیشت کا زیادہ تر انحصار قدرتی وسائل اور تجارت بالخصوص امریکہ کے ساتھ تجارت پر ہے۔جس کے ساتھ کینیڈا کی طویل المدتی شراکت ہے۔کینیڈا میں خواندگی کی شرح دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں ۔سب سے زیادہ ہے۔ اس کے نصف سے زائد شہری کالج ڈگری رکھتے ہیں۔
کینیڈا کی تاریخ کا مینیمم ٹمپریچر مائنس 63 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔جوکہ 1947 میں کینیڈا کے گاؤں Snag میں ریکارڈ کیا گیا۔جنوری کے مہینے میں یہاں ایوریج ٹمپریچر منفی پندرہ رہتاہے۔
یہ تو آپ کو معلوم ہی ہوگا کہ دنیا کی ساٹھ فیصدجھیلیں کینیڈا میں پائی جاتی ہیں۔ اگر تعداد کی بات کریں تویہ پانچ سو ساٹھ سے زائد ہے۔
کینیڈا کے صوبے Manitoba میں ایک چرچل نامی ایسا قصبہ بھی ہےجس کے رہائشی کبھی بھی اپنے گھر اور گاڑیوں کو تالا نہیں لگاتے ۔ان کے خیال میں یہ عمل انہیں بھوکے قطبی ریچھوں سے بچنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
روس اور امریکہ کے بعد کینیڈا تیسرا ملک ہے جو خلا میں پہنچا۔
یونگی سٹریٹ نامی دنیا کی سب سے بڑی سڑک بھی کینیڈامیں ہی واقع ہے۔
ایک اوردلچسپ بات یہ ہے کہ پورے کینیڈا کی آبادی ٹوکیو شہر سے بھی کم ہے۔
جوکہ تین کروڑ ساٹھ لاکھ ہے جبکہ ٹوکیو میں تین کروڑ ستر لاکھ افراد آباد ہیں۔
کینیڈامیں اکثریت عیسائیوں کی ہے۔مسلمان صرف تین فیصد ہیں۔غیر ملکیوں کا ذکر ہوتوسب سے زیادہ انڈین سکھ یہاں موجود ہیں۔اس کے بعد پاکستانیوں کا نمبر آتاہے۔
آپ کو یہ جان کر بھی حیرت ہوگی کہ امریکہ میں غیر قانونی طورپر رہنے والےسب سے زیادہ باشندے بھی کینیڈا کے ہی ہیں۔ تقریبآ 93 ہزار کینیڈین ایسے ہیں جو کہ جنوبی سرحد کے ساتھ رہائش پذیر ہیں اور ان کے ویزوں کی مدتِ معیاد ختم ہوچکی ہے.
کینیڈا اتنا وسیع ملک ہے کہ اس کے اندر چھ ٹائم زون ہیں۔پاکستان سے یہ وقت کے لحاظ سے دس گھنٹے پیچھے ہے۔
کھیلوں کی بات کریں توباسکٹ بال کینیڈامیں تخلیق ہوا مگراس کا قومی کھیل آئس ہاکی ہے۔کینیڈا میں فٹ بال کو بھی بہت پسند کیا جاتا ہےاور اسکی فٹ بال لیگ دنی اکی دوسری بڑی لیگ ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

2 تبصرے

  1. Umar says:

    Your article helps me a lot... keep posting

  2. Ashfaq ahmed says:

    Aslmoelkum bhai jan kya hall hia ap ka . Ap ke canada visa ke malomat bahot he achi hia.or ap se mera sawal hia agr saudia ke travel histry ho tu canada ka visa ahsani se lag sakta hia

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »
error: Content is protected !!
%d bloggers like this: