آسٹریلیا، ویزا گائیڈ چیپٹر8

آسٹریلیا کا ویزا سسٹم

آسٹریلوی ہائی کمیشن پاکستانی شہریوں سے بذریعہ وی ایف ایس گلوبل/ فیڈیکس ویزادرخواستیں وصول کرتا ہے۔وی ایف ایس گلوبل اپنے چارجز گیارہ ہزارروپے لیتاہے جس مین بائیومیٹرک کی فیس بھی شامل ہے تاہم ویزا فیس جوکہ تقریباساڑھے گیارہ ہزارروپے ہیں اس کا آسٹریلوی ہائی کمیشن اسلام آباد کے نام ڈرافٹ بنوانا ہوگا جوکہ ایپلی کیشن کے ساتھ لگے گا۔
وی ایف ایس گلوبل سے رابطہ:
Website:
www.vfsglobal.com/Australia/Pakista

Email:

infoAUSpk@vfshelpline.com.

Helpline No:
For PTCL land lines: 0900 07860
mobile providers dial short code: 999

وی ایف ایس گلوبل کے دفاتر

Islam Abad:

14-B, Sadiq Plaza,G-9 Markaz

Lahore:

20 Ex American Centre Building,Opposite Ganga Ram Hospital Queens Road Lhr.

Karachi:

43/1/D,Razi Road PECHS, Shahr e Faisal

ویزوں کی اقسام

اسلام آباد میں آسٹریلوی ہائی کمیشن پاکستان اور افغانستان کے شہریوں کو درج ذیل قسم کی ویزا درخواستوں پر کارروائی کر کے ویزے جاری کرتا ہے۔
٭ وزیٹر ویزا درخواستیں
٭ سٹوڈنٹ ویزا درخواستیں
٭ ثقافتی و سماجی عارضی رہائشی ویزا کی درخواستیں
٭ انسانی حقوق کی بنیادوں پر مستقل انٹری اور فیملی مائیگریشن کی درخواستیں ٭ شہریت کی رجسٹریشن کی (قابل عمل) درخواستیں

australian visa application

ویزا درخواست جمع کرانے کیلئے جنرل دستاویزات

متعلقہ ویزا درخواست فارم آئندہ کم از کم 3 ماہ کے لیے قابل استعمال پاسپورٹ‘ جس کے 2صفحات ہر صورت خالی ہوں‘ آسٹریلوی ویزا سیکشن اضافی صفحات پر ویزا سٹکر نہیں لگاتا۔ اگر صفحات خالی نہیں ہونگے تو ویزا درخواست کی منظوری پر آپ کو فوری نیا پاسپورٹ فراہم کرنے کا کہا جائے گا اور اس دوران کیس زیر التواءرہے گا۔
٭ ایک عدد پاسپورٹ سائز تصویر (6 ماہ سے زائد پرانی نہ ہو)۔
٭ کریکٹر سرٹیفکیٹ جو کہ ضلعی پولیس افسر کا جاری کردہ ہو۔
٭ ویزا فیس جو کہ فیڈیکس سنٹر پر جمع کرائی جائے گی۔
٭ دورہ کے دوران اخراجات کے لیے رقم کی موجودگی کا ثبوت۔
٭ تمام متعلقہ دستاویزات کی کاپیاں جو کہ کیس کے لیے درکار ہوں (ان کی تفصیل اگلے صفحات پر ہر کیٹگری میں الگ بیان کی جائے گی)۔

دستاویزات سے متعلق ہدایات

درخواست کے ساتھ اصل دستاویزات مت جمع کرائیں۔ اصل اسی وقت پیش کریں جب ویزا سیکشن اس کے لیے کہے۔ کیس کو سپورٹ کرنے والے مکمل کاغذات ضرور ساتھ بھیجیں وگرنہ آپ کی درخواست التواءکا شکار ہو جائے گی یا پھر مسترد کر دی جائے گی۔ جو دستاویزات مثلاً نکاح نامہ‘ جنم پرچی وغیرہ اردو میں ہوں اس کا پروفیشنل ٹرانسلیٹر سے انگریزی ترجمہ کروا ئیں۔

ویزا درخواست جمع کرانے کے بعد

درخواست موصول ہونے کے بعد ویزا سیکشن اس کا ہر پہلو سے جائزہ لیتا ہے۔ اگر آپ کے مہیا کردہ کاغذات متعلقہ ویزا کی شرائط پر پورا اترتے ہوں یعنی کہ ویزا افسر کو یقین ہو جائے کہ آپ نے آسٹریلیا جانے کی جو وجہ بیان کی ہے وہ درست ہے اور آپ کے پاکستان میں مضبوط سماجی و معاشی تعلقات ہیں جن کے باعث آپ مقررہ مدت تک ضرور واپس آ جائیں گے نیز آپ کے پاس اخراجات کے لیے وافر رقم موجود ہے تو وہ مثبت رائے قائم کر کے مزید غور کرے گا۔ اگر کوئی دستاویز مشکوک لگے تو اسے متعلقہ اتھارٹی کے پاس تصدیق کے لیے بھیجا جا سکتا ہے جس کی فیس درخواست گزار ادا کرے گا۔ اس دوران کسی مزید دستاویز کی ضرورت ہوئی تو آپ سے رابطہ کر کے طلب کی جائے گی۔ وضاحت طلب امور کے لیے آپ کو انٹرویو کے لیے بھی بلایا جا سکتا ہے۔ اس سارے عمل کے دوران آپ کیس سے متعلق معلومات لینا چاہیں تو ٹیلیفون کے بجائے فیکس یا ای میل کے ذریعے رابطہ کریں کیونکہ ہائی کمیشن ان ذرائع کو ترجیح دیتا ہے اور انہی کے ذریعے آپ کو جواب دیا جائے گا۔
immigration.islamabad@afatt.gov.au

ٹریول/ہیلتھ انشورنس

آپ کو آسٹریلیا میں قیام کے دوران علاج معالجہ کی سہولت فراہم کرنا آسٹریلوی حکومت کی ذمہ داری نہیں ہو گی۔ اس کے لیے آپ کو ٹریول انشورنس کرانا ہو گی جس کے لیے ویزا لگنے سے پہلے آپ کو کہا جائے گا۔

پاسپورٹ کی واپسی

آپ کی ویزا درخواست کا فیصلہ ہونے کے بعد آپ کا پاسپورٹ (بمعہ دستاویزات اگر کوئی اصل منگوائی گئی ہوں تو) آپ کو فیڈیکس سے ہی واپس ملے گا۔

ٹورسٹ ویزا ,سب کلاس 676

آپ سیروتفریح‘ کسی عزیز کو ملنے‘ کاروباری دورہ‘ علاج یا دیگر مقاصد کے تحت قلیل مدت کے لیے آسٹریلیا جانا چاہیں تو آپ کو ٹورسٹ ویزا جاری کیا جائے گا جو کہ آپ کی ضرورت کے مطابق 3‘6 یا 12 ماہ کی مدت کا ہو سکتا ہے۔ اس دوران آپ کو وہاں 3 ماہ سے زائد مدت کے تعلیمی کورس میں داخلہ لینے اور کام کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ ویزا ختم ہونے کی تاریخ سے قبل پاکستان واپس روانہ ہونا ضروری ہو گا تاہم ویزا میں توسیع کے لیے مدت ختم ہونے سے 2ہفتے قبل وہیں درخواست دے سکتے ہیں۔ درخواست پر کارروائی کے دوران ویزا ختم ہونے کے باوجود آپ کا وہاں قیام قانونی تصور ہو گا۔ ٹورسٹ ویزا کے دوران آپ 3 ماہ سے زائد مدت کا تعلیمی کورس کرنا چاہیں تو اس کے لیے وہیں پر سٹڈی ویزا کی درخواست بھی دی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے الگ ویزا فیس جمع ہو گی۔ مزید برآں اگر آپ اپنے 18 سال سے کم عمر بچے جن کا آپ کے پاسپورٹ پر اندراج ہو‘ ان کو ساتھ آسٹریلیا لے جانا چاہتے ہیں تو ان کے لیے الگ ویزا کی درخواست جمع کرانے کی ضرورت نہیں ہے۔

ٹورسٹ ویزا کیلئے اہلیت

٭ آپ کے پاس آسٹریلیا کے دورہ کی معقول وجہ ہونی چاہیے جسے دستاویزات کے ذریعے ثابت بھی کر سکیں۔
٭ کسی سے ملنا درکار ہو تو وہ شخص دعوتی خط بھیجے یا سپانسر کرے۔
٭ سفر اور وہاں طعام و قیام کے لیے وافر رقم موجود ہو۔
٭ پاکستان کے ساتھ آپ کا مضبوط تعلق ہو جس سے ثابت ہو کہ آپ ضرور واپس آئیں گے۔
٭ اچھے کردار کے مالک ہوں۔
٭ اچھی صحت ہو (ویزا افسر ایکسرے سمیت کوئی بھی ٹیسٹ کرانے کا کہہ سکتا ہے)
٭ آسٹریلیا میں کسی ادارے کے ڈیفالٹر نہ ہوں۔
ویزا اپلائی کرنے کے لیے درکار دستاویزات
(i پر شدہ ٹورسٹ ویزا فارم 48 (فارم مکمل پر کریں‘ کوئی خانہ خالی مت چھوڑیں‘ کسی سے پر کروائیں تو بغور پڑھ لیں کیونکہ دستخط کرنے کے بعد اس کے ذمہ دار آپ ہونگے۔)
(ii ویزا فیس جو کہ فیڈیکس پر جمع ہو گی۔
(iii آپ شادی شدہ ہیں تو میرج سرٹیفکیٹ اور شادی کی تصاویر۔
(iv 18سال سے کم عمر کا کوئی بچہ ساتھ ہے تو رشتہ کا ثبوت‘ برتھ سرٹیفکیٹ اور ب فارم۔
(v ریٹرن ایئر ٹکٹ
(vi درخواست گزار کا پاسپورٹ۔
(vii وائٹ بیک گراﺅنڈ کے ساتھ 3 عدد پاسپورٹ سائز تصاویر۔
(viii کریکٹر سرٹیفکیٹ‘ پولیس کا جاری کردہ(فارن آفس سے تصدیق شدہ)
(ix رہائش کے لئے ہوٹل بکنگ
(x اخراجات کے لیے معقول رقم کی موجودگی کے ثبوت کے طور پر بینک سٹیٹمنٹ اور جائیداد کے کاغذات وغیرہ‘ اپنا کاروبار ہو تو اس سے متعلق معلومات یعنی رجسٹریشن اور ٹیکسیشن کے کاغذات اورکریڈٹ کارڈز کی فوٹو کاپیاں۔
(xi ملازمت کی صورت میں ادارے کے سربراہ کا جاری کردہ سرٹیفکیٹ جس میں عہدہ‘ مدت ملازمت اور تنخواہ وغیرہ کا اندراج ہو۔
(xii کسی رشتہ دار یا دوست سے ملنے جا رہے ہیں تو اس کی طرف سے بھیجا گیا دعوتی خط۔
نوٹ: مذکورہ بالا دستاویزات کے علاوہ آپ پاکستان میں اپنی حیثیت اور مضبوط سماجی و معاشی رشتے سے متعلق تحریری ثبوت ساتھ لگانا چاہیں تو لگا سکتے ہیں تاہم یاد رہے کہ غیراہم اور غیرمتعلقہ دستاویزات کا کیس پر منفی اثر مرتب ہو سکتا ہے۔

علاج کیلئے مختصر مدت کا ویزا,سب کلاس 675

اگر کوئی بیمار شخص آسٹریلیا میں علاج کرانا چاہتا ہے یا ڈاکٹروں سے مشورہ کرنا چاہتا ہے یا کوئی تیمارداری کے لیے اس کے ساتھ جانا چاہتا ہے یا پھر کوئی شخص جو اپنا کوئی عضو آسٹریلیا جا کر عطیہ کرنا چاہتا ہے تو اس کو اہلیت پر پورا اترنے پر ”میڈیکل ٹریٹمنٹ شارٹ سٹے ویزا“ جاری کیا جائے گا جس کی مدت 3 ماہ تک ہو سکتی ہے اور اس کے لیے کوئی فیس نہیں رکھی گئی تاہم طویل مدتی علاج کی ویزا فیس 55 آسٹریلوی ڈالر مقرر ہے۔ قیام کے دوران تعلیم کی بھی اجازت ہوتی ہے۔
اہلیت
(i پاکستانی ڈاکٹر مزید علاج کے لیے آسٹریلیا ریفر کریں۔
(ii آسٹریلوی ہسپتال یا کلینک آپ کی رپورٹس دیکھ کر علاج کی حامی بھرے۔
(iii کسی ایسی بیماری میں مبتلا نہ ہوں جس سے آسٹریلوی شہریوں کو خطرہ ہو۔
(iv پہلے سے گھریلو ورکر کلاس کا ویزا 426 حاصل نہ کیاہو۔
(v علاج معالجہ اور طعام و قیام کے لیے معقول رقم موجود ہو۔
(vi علاج کا مکمل پلان تیار کیا ہو اور وہاں انتظامات مکمل کر لیے ہوں۔
(vii ٹی بی نہ ہو‘ اس کا ٹیسٹ کرایا جائے گا۔
(viii امیدوار اچھے کردار کا مالک ہو‘ کیرکٹر سرٹیفکیٹ ویزا درخواست کے ساتھ لگے گا۔

نوٹ: اس ویزا کے لیے کسی سپانسر کی ضرورت نہیں ہے اور مریض کی حالت زیادہ خراب ہونے کی صورت میں کوئی نمائندہ مقرر کیا جا سکتا ہے جو اس کی جگہ ایمبیسی سے تمام معاملات کرے۔ علاج لمبا ہونے پر ویزا میں توسیع ملتی رہے گی۔

work in australia

ورک ویزے

آسٹریلوی حکومت تربیت یافتہ غیرملکیوں کو آسٹریلیا میں کام کرنے کے لیے عارضی اور مستقل ورک ویزے جاری کرتی ہے جس کے لیے مختلف کیٹگریز رکھی گئی ہیں۔
آجر کے سپانسر کردہ ورکرز
آسٹریلوی کمپنیاں یا اداروں کے مالکان جن غیرملکی ہنرمندوں کو سپانسر کر کے بلواتے
ہیں وہ اس کیٹگری میں آتے ہیں۔
پروفیشنلز
یہ پروگرام ان افراد کے لیے ہے جن کو سپانسر نہ کیا گیا ہو تاہم وہ اپنے شعبے کے ماہر اور باقاعدہ ڈگری یافتہ ہوں اور آسٹریلیا جا کر کام کرنا چاہیں۔
کاروباری افراد
جو لوگ آسٹریلیا میں سرمایہ کاری کے خواہشمند ہوں یا وہاں جا کر کوئی نیا کاروباری ادارہ بنانا چاہتے ہوں‘ اس سکیم میں وہ بزنس پروفیشنلز بھی شامل ہیں جو کسی چلتے ہوئے یا نئے کاروبار کو سیٹ کرنے کے لیے آسٹریلیا جانے کے متمنی ہوں۔
سپیشلسٹ انٹری
اس کیٹگری میں وہ ماہرین آتے ہیں جو کہ سماجی‘ ثقافتی اور دیگر مخصوص شعبوں میں ریسرچ ورک کے لیے آسٹریلیا جانا چاہتے ہوں۔
ڈاکٹرز اور نرسیں
پاکستانی ڈاکٹروں اور نرسوں کے لیے آسٹریلیا کے میڈیکل کے شعبے میں کام کے وسیع مواقع موجود ہیں اور ان کو ویزوں کے اجراءکے لیے یہ الگ کیٹگری رکھی گئی ہے۔
ریجنل ملازمتیں
یہ سکیم آسٹریلیا کے دیہاتی علاقوں میں خدمات سرانجام دینے والوں کے لئے ہے۔
ہنرمندوں کےلئے نمائشیں
آسٹریلیا ہنرمند افراد کی کمی پوری کرنے کے لیے دنیا بھر میں نمائشوں کا اہتمام کرتا ہے جن میں غیرملکیوں کی رجسٹریشن بھی کی جاتی ہے۔
فضائی و بحری شعبے
ہوائی اور بحری جہازوں میں کام کرنے والے ماہرین اور ہنرمندوں کے لیے یہ کیٹگری مخصوص ہے جس کے تحت وہ آسٹریلیا کے ان شعبوں میں خدمات سرانجام دینے کے لیے ورک ویزے حاصل کر سکتے ہیں۔
لیبر معاہدے
آسٹریلوی کمپنیاں بڑی تعداد میں غیرملکی ورکرز کو بھرتی کرنے کے لیے حکومت کے ساتھ معاہدے کرتی ہیں جس کے تحت ورکرز کو مستقل اور عارضی بنیادوں پر بلایا جاتا ہے۔ اس کی ضرورت اس لیے پیش آتی ہے۔
٭ انڈسٹری ایسوسی ایشن کو عارضی بنیادوں پر بڑی تعداد میں ہنرمندوں کی ضرورت پڑ جاتی ہے جس کے لیے متعلقہ وزارتوں سے باقاعدہ معاہدہ کرنا پڑتا ہے۔
٭ بعض پیشے مستقل ملازمتوں کی فہرست میں شامل نہیں ہوتے اور اس طرح ان پیشوں سے وابستہ ہنرمندوں کی قلت برقرار رہ جاتی ہے۔
٭ کئی منصوبوں کی سخت حالات اور کم ترین وقت میں تکمیل کرنا ہوتی ہے جس کے لیے مقامی مارکیٹ سے لیبر فورس دستیاب نہیں ہوتی۔
٭ معاہدے کے تحت کسی مخصوص انڈسٹری میں غیرملکی ہنرمندوں کی شمولیت کے اچھے نتائج نکلتے ہیں۔

عارضی ویزا

اس معاہدے کے تحت بھرتی ہونے والے اوور سیز کو درج ذیل سہولتیں ملتی ہیں:
٭ 4 سال تک آسٹریلیا میں کام کر سکتے ہیں۔
٭ اپنے ساتھ ایک سیکنڈری امیدوار بھی لا سکتا ہے جو کہ وہاں پڑھ اور کام کر سکے گا۔
٭ ا آسٹریلیا میںجتنی بار مرضی معاہدے کی مدت کے دوران آیا جایا جا سکتا ہے۔

مستقل ویزا

اس ویزا پر ہنرمند اپنی فیملی بھی ساتھ لا سکتا ہے اور مستقل قیام کے دوران اس کو درج ذیل سہولتیں میسر آئیں گی۔
٭ مستقل بنیادوں پر سکونت اور کام کی اجازت ہو گی۔
٭ کسی سکول/یونیورسٹی میں پڑھ بھی سکتے ہیں۔
µµ*میڈیکل سکیم کے تحت صحت کی سہولتیں دستیاب ہوں گی۔
٭ سوشل سکیورٹی کے تحت بھی مراعات ملیں گی۔
٭ کچھ سال قیام کے بعد شہریت کے لیے اپلائی کیا جا سکے گا۔
٭ دوسرے لوگوں کو مستقل سکونت کے لیے سپانسر کر سکیں گے۔

ویزا کے لیے اہلیت

٭ لیبر معاہدے کرنے والی کمپنی نامزد کرے۔
٭ متعلقہ شعبہ میں معقول تعلیم اور تجربہ رکھتا ہو‘ انگریزی زبان پر بھی عبور ہو۔
٭ اپنے شعبہ میں لائسنس یافتہ ہو اور متعلقہ اتھارٹی میں رجسٹریشن ہو۔
٭ عمر 45سال سے کم ہو۔
٭ صحت مند ہو اور تمام میڈیکل ٹیسٹ کلیئر کر سکے۔
٭ اچھے کردار کا حامل ہو‘ اس کے لیے ضلعی پولیس افسر کا کریکٹر سرٹیفکیٹ ضروری ہو گا۔
نوٹ: عمر کی حد کے سلسلہ میں متعلقہ کمپنی رعایت دے سکتی ہے۔

ڈاکٹروں اور نرسوں کےلئے مواقع

آسٹریلیا میں اس وقت ڈاکٹروں اور دیگر میڈیکل سٹاف کی کمی ہے۔ خصوصی طور پر چھوٹے شہروں اور دیہات میں بہت مواقع موجود ہیں جس کے لیے کوالیفائیڈ ڈاکٹرز اور نرسیں عارضی اور مستقل ورک ویزوں کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔
اہلیت
وہ ڈاکٹر جن کی ابھی آسٹریلوی میڈیکل بورڈ میں رجسٹریشن نہیں ہوئی وہ شروع میں کسی ہسپتال‘ کلینک یا علاقائی تنظیم کی جانب سے سپانسر شپ ملنے پر عارضی ویزا کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔ جن ڈاکٹروں کی آسٹریلوی میڈیکل بورڈ میں رجسٹریشن ہو چکی ہے وہ مستقل ویزے کے لیے اپلائی کرنے کے اہل ہیں۔ دیگر شرائط درج ذیل ہیں۔
٭ ڈاکٹرپاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن میں رجسٹرڈ ہو اور میڈیکل پریکٹشنر کا لائسنس رکھتا ہو۔
٭ آسٹریلیا میں ایم بی بی ایس کرنے والے غیر ملکی بھی اہل ہیں۔
٭ آسٹریلیا میں سپانسر شپ کے ذریعے ملازمت کی پیشکش ہو۔
٭ آسٹریلوی کلچر اور روایات کی پاسداری کا عہد کرنا ہو گا۔
٭ صحت اور کردار اچھا ہو۔

سٹڈ ی ویزا

آسٹریلوی تعلیمی اداروں کے اعلیٰ معیار کے باعث سالانہ 3لاکھ سے زائد انٹرنیشنل طلباءحصول تعلیم کے لیے جاتے ہیں۔ کم و بیش ڈیڑھ ہزار پاکستانی طلباءبھی آسٹریلوی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیرتعلیم ہیں۔ ہر سال ہزاروں پاکستانی سٹوڈنٹس سڈی ویزا کے لیے اپلائی کرتے ہیں جن کی اکثریت کم معلومات کی وجہ سے حصول ویزا میں کامیاب نہیں ہو پاتی۔
آسٹریلوی کالجز اور یونیورسٹیوں میں انگریزی زبان میں مہارت کے بغیر داخلہ ممکن نہیں ہے جس کے لیے “IELTS” پاس کرنا ضروری ہے۔ “TOEFL”بھی قابل قبول ہے۔ گریجوایٹ اور پوسٹ گریجوایٹ کورسز میں داخلہ کے لیے 5.5 بینڈز بھی قبول کر لیے جاتے ہیں۔ “IELTS” کا امتحان آسٹریلوی ایجوکیشن آرگنائزیشن (AEO) اور برٹش کونسل دونوں پر دیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں یاد رہے کہ موجودہ فیس تقریباً 9300 روپے ہے جبکہ حاصل کردہ سکورز 2 سال کے عرصہ تک Valid رہتے ہیں۔ کم سکورز کی صورت میں آپ کے لیے ایک آپشن ہے کہ اصل تعلیمی کورس سے پہلے آسٹریلیا میں انگلش لینگوئج کورس برائے اوورسیز طلباء(ELICOS) میں داخلہ لے لیں جس کی تکمیل پر اصل کورس شروع کر سکیں گے۔

study in Australia
آسٹریلوی تعلیمی اداروں میں داخلہ

داخلہ لینے کے لیے درج ذیل میں سے کسی کورس کا انتخاب کرنا ہو گا۔
٭ بیچلر ڈگری
٭ ایسوسی ایٹ ڈگری
٭ گریجوایٹ سرٹیفکیٹ
٭ ماسٹرز بائی کورس ورک
کورس کے انتخاب کے بعد تعلیمی ادارے کا چناﺅ کرنا ہے جس کےلیے ان کی ویب سائیٹس‘ ان کے پاکستان میں نامزد کردہ نمائندوں یا آسٹریلین ایجوکیشن انٹرنیشنل اسلام آباد ہائی کمیشن سے معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اکثر آسٹریلوی تعلیمی اداروں کے نمائندے پاکستان کا دورہ کر کے طلباءکے انٹرویو کرتے ہیں اور یہیں پر داخلہ کے لیے “Acceptance Letter” جاری کر دیا جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں وہ اخبارات میں اشتہار کے ذریعے اپنے دورہ کو مشتہر بھی کرتے ہیں۔ آپ داخلہ کے لیے متعلقہ ادارے میں براہ راست بذریعہ ای میل اپلائی کریں تو یہ طریقہ بھی معقول سمجھا جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں آسٹریلوی حکومت کی ویب سائٹ www.studyinaustralia.gov.au بھی بہت معاون ثابت ہو گی۔ آسٹریلوی ایمبیسی اسلام آباد میں پیر سے جمعرات صبح 8:00بجے سے دوپہر 12:30بجے اور 1:00بجے سے سہ پہر ساڑھے تین بجے کے دوران بذریعہ فون نمبر 051-2824345 پر فون کر کے (ایکسٹینشن 344سے) یا 01126873172 پر فیکس کر کے بھی آپ کو مطلوبہ معلومات حاصل ہو جائیں گی۔

سٹڈی ویزے کے لیے اہلیت

سٹڈی ویزا کے حصول کے لیے درج ذیل شرائط پوری کرنا ضروری ہے۔
٭ آسٹریلوی کالج یا یونیورسٹی کی کسی رجسٹرڈ کورس میں (فل ٹائم سٹڈی) داخلہ کے لیے رضامندی یعنی “Acceptance letter” آپ کے پاس موجود ہو۔
٭ مالی طور پر مستحکم ہوں‘ آپ‘ آپ کے والدین یا سرپرست آسٹریلیا میں آپ کے تعلیمی رہائشی و دیگر اخراجات برداشت کر سکیں۔ اس کے ثبوت کے طور پر بینک سٹیٹمنٹ/جائیداد کے کاغذات/بینک گارنٹی پیش کی جا سکتی ہے۔
٭ صحت مند ہوں‘ اس کے لیے طبی معائنہ ہو گا۔
٭ آسٹریلیا میں قیام کے عرصہ کے لیے سفارتخانہ کی منظورشدہ کمپنی سے ہیلتھ انشورنس کرانا ہو گی جس کی پالیسی ویزا درخواست کے ساتھ لگے گی۔
٭ ہائرایجوکیشن کے لیےتو IELTS میں 6 یا اس سے زائد سکور حاصل کئے ہوں۔
٭ پاکستان میں کم از کم 12 سالہ تعلیم مکمل کی ہو اور تمام اسناد موجود ہوں۔
٭ امیدوار اچھے کردار کا مالک ہو‘ اس کے لیے پولیس سے کریکٹر سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہو گا۔
٭ آسٹریلیا میں کسی ادارے کے نادہندہ نہ ہوں۔
٭ سٹڈی ویزا کی فیس مبلغ 22900/-روپے جمع کرائی ہو۔
٭ آسٹریلیا میں قیام کے دوران وہاں کے قوانین اور معاشرتی اقدار کی پاسداری کا بیان حلفی بھی دینا ہو گا۔
نوٹ: طالبعلم کے ساتھ اس کے بیوی بچے یا 18سال سے کم عمر ہونے کی صورت میں اس کا سرپرست بھی ویزا درخواست دے سکتا ہے۔ آسٹریلیا میں پڑھائی کے دوران ہفتے میں 20 گھنٹے پارٹ ٹائم کام کی اجازت ہے جبکہ چھٹیوں میں فل ٹائم کر سکتے ہیں۔

آسٹریلوی شہریت

آسٹریلیا میں مستقل رہائش پذیر (Permanent Resident) غیرملکی آسٹریلوی شہریت کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں تاہم ان کو اس سے پہلے شہریت ٹیسٹ پاس کرنا ہو گا۔
شہریت ٹیسٹ سے استثنیٰ
درج ذیل افراد کو ٹیسٹ نہیں دینا پڑے گا۔
٭ 18سال اور اس سے کم عمر کے افراد۔
٭ 80 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد۔
٭ سابق آسٹریلوی شہری کی اولاد۔
٭ بے وطن افراد جو آسٹریلیا میں پیدا ہوئے ہوں۔
نوٹ: ٹیسٹ کیلئے آپ کو انگریزی زبان پر عبور ہونا چاہیے۔ تھوڑے بہت مسئلہ کی صورت میں کوئی معاون مہیا کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ٹیسٹ میں آسٹریلیا کے بارے میں معلومات اور بطور شہری حقوق و فرائض سے متعلق سوالات ہوں گے۔

ٹیسٹ کےلئے اہل افراد

وہ لوگ جو یکم جولایء2007ءکو یا اس کے بعد مستقل رہائشی بنے وہ ٹیسٹ کے لیے اہل ہیں بشرطیکہ وہ اس دوران 1 سال سے زائد عرصہ ملک سے باہر نہ گئے ہوں جبکہ یکم جولائی 2007ءسے قبل مستقل رہائشی کا درجہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے ضروری ہے کہ 5 سال میں کم از کم 2 سال جبکہ 2سال میں1 سال آسٹریلیا میں رہا ہو اور تمام قوانین کی پابندی کی ہو۔

ٹیسٹ میں تبدیلی

تمام سوالات سادہ انگریزی میں دوبارہ لکھنے ہوں گے۔ کوئی ضروری سوال نہیں ہو گا سب کے ساتھ آپشن موجود ہوں گے۔ پاسنگ مارکس 60فیصد سے بڑھا کر 75فیصد کر دیئے گئے ہیں۔ پورا ٹیسٹ اس بات پر ہو گا کہ آسٹریلوی شہری بن کر کن مراحل
سے گزرنا پڑے گا اور حقوق و فرائض کیا ہوں گے۔

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

error: Content is protected !!
%d bloggers like this: