امریکہ کے بارے میں‌حیران کن حقائق

ریاست ہائے متحدہ امریکہ براعظم امریکہ کا دوسرا اور دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے جس کا کل رقبہ 96لاکھ 29ہزار 91مربع کلومیٹر اور آبادی 30کروڑ 35لاکھ 28ہزار ہے۔
یہ 50ریاستوں پر مشتمل ایک وفاقی آئینی مملکت ہے جہاں صدارتی نظام حکومت رائج ہے‘ اس کا درالحکومت واشنگٹن ڈی سی ہے اور اس کی 28 سے زائد ریاستوں میں انگریزی زبان کثرت سے بولی اور لکھی جاتی ہے تاہم اس کو قومی سطح پر باقاعدہ دفتری زبان قرار نہیں دیا گیا ہے۔ امریکہ کی کرنسی ڈالر ہے وقت میں یہ پاکستان سے 14گھنٹے آگے ہے۔ اس عیسائی ملک میں بڑی اقلیت یہودی ہیں۔ 3سے5 فیصد مسلمان بھی آباد ہیں۔ قومی شعار " In God We Trust " اور ترانہ " The Star - Spangled Banner" ہے۔ امریکہ کا سیاسی‘ فوجی اور معاشی اثر ورسوخ انیسویں اور بیسویں صدی میں بڑھا تاہم روس کے زوال کے بعد جب سرد جنگ کا خاتمہ ہوا تو یہ بلاشرکت غیرے دنیا کی سپرپاور کے طور پر ظاہر ہوا۔
وجہ تسمیہ
ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے عام ناموں میں یونائیٹڈ سٹیٹس‘ یو ایس‘ یو ایس اے‘ دی یو ایس اے‘ دی یو ایس آف اے‘ دی سٹیٹس اور امریکہ شامل ہیں۔ امریکہ نام کا پہلا استعمال 1507میں ہوا جب ایک جرمن نقشہ ساز نے گلوب بنا کر جنوبی اور شمالی امریکی براعظموں کو ظاہر کرنے کیلئے لفظ امریکہ چنا۔
امریکہ کو کولمبس کے حوالے سے کولمبیا کے نام سے بھی جانا جاتا تھا اور بیسویں صدی کے شروع تک امریکہ کے دارالحکومت کو کولمبیا کہتے تھے۔ بعدازاں اس کے استعمال کو ختم کیا گیا لیکن ابھی بھی سیاسی طور پر کولمبیا کا نام استعمال ہوتا ہے۔ کولمبس ڈے پر امریکہ میں عام تعطیل ہوتی ہے۔ جو کولمبس کے 1492میں امریکی سرزمین پر اترنے کے حوالے سے منایا جاتا ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو سب سے پہلے 4جولائی 1776 کو سرکاری طور پر اعلان آزادی میں استعمال کیا گیا۔
15نومبر 1777ء کو دوسری براعظمی کانفرنس نے کنفیڈریشن کے آرٹیکل کو قبول کیا جس میں "The Stile of this Confederacy shall be The United States of America" لکھا تھا۔ اس نام کو درحقیقت تھامس پائن نے تجویز کیا تھا۔ امریکی باشندوں کیلئے امریکی یا امریکن کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے, چاہے وہ شمالی امریکہ سے ہوں یا جنوبی امریکہ سے۔
جغرافیہ
رقبے کے لحاظ سے امریکہ کو دنیا کا تیسرا بڑا ملک مانا جاتا ہے‘ انفرادی رقبے کے لحاظ سے بھی روس اور کینیڈا کے بعد اس کا تیسرا نمبر ہے۔ اس کا زیادہ تر اکٹھا حصہ مشرق میں موجود ہے‘ میکسیکو اور خلیج میکسیکو جنوب میں ہیں اور کینیڈا شمال میں ہے۔ الاسکا کی سرحدیں بھی کینیڈا سے ملتی ہیں‘ بحر الکاہل جنوب میں اور بحر شمالی اس کے شمال میں ہے۔ الاسکا کے مغرب میں بیرنگ سٹریٹ یعنی بیرنگ نامی تنگ سی سمندری پٹی ہے جس کے پار روس ہے۔ ہوائی کی ریاست بحر الکاہل میں جزائر کی پٹی کی صورت میں موجود ہے جو براعظم شمالی امریکہ سے جنوب مغرب کی طرف ہے۔
تاریخ
پانچ صدیاں قبل تک مشرقی دنیا (یعنی براعظم یورپ‘ افریقہ اور ایشیا مغربی نصف کرہ کے ممالک) امریکہ‘ کینیڈا اور دیگر ممالک کے وجود سے بالکل بے خبر تھی۔ پندرہویں صدی کے اواخر میں یورپی مہم جوئی کا آغاز ہوا تو یکے بعد دیگرے مختلف ممالک اور خطے دریافت ہوتے چلے گئے۔
12اکتوبر کو کولمبس امریکہ کے مشرقی ساحل کے قریب بہاماز پہنچا۔ یہ مقام امریکہ کے جنوب مشرقی ساحل پر فلوریڈا کے قریب واقع ہے۔ امریکہ کی سرزمین پر کسی یورپی کا یہ پہلا قدم تھا۔ پھر یکے بعد دیگرے مختلف مقامات کی دریافت کا سلسلہ چل پڑا۔ 1524ء میں فرانسیسی مہم جو ”جیووانی ویرازانو“ (Giovanni Verra Zano) ایک مہم لے کر کیرولینا سے شمال کی طرف بڑھتا ہوا نیویارک میں داخل ہوا۔ 1579ء میں فرانسسز ڈریک (Francies Drake) مغربی ساحل پر سان فرانسیسکو کی خلیج میں داخل ہوا اور ایک برطانوی نوآبادی کی بنیاد رکھی۔ 1607ء میں کیپٹن جان سمتھ تین جہازوں میں 105سپاہی لے کر ورجینیا کے ساحل پر اترا اور جیمز ٹاؤن کے نام سے پہلی برطانوی نوآبادی قائم کی. 1624ء میں البانی اور نیویارک کے علاقوں میں ولندیزی نوآبادیاں ”نیونیدرلینڈز“ کے نام سے قائم ہوئیں۔ اس طرح مختلف یورپی ممالک کی نوآبادیاں بنتی چلی گئیں۔ ان نوآبادیوں میں آپس میں چپقلش اور بعض اوقات جنگ وجدل تک نوبت پہنچتی رہی۔ اس کے ساتھ ہی برطانوی حکومت نے اپنی نوآبادیوں سے واقعتا نوآبادیاتی سلوک شروع کر دیا۔ ان کا استحصال کرنے کیلئے آئے دن نت نئے ٹیکس عائد ہونے لگے جس کی وجہ سے ان میں بے چینی اور بغاوت کے آثار پیدا ہونے لگے جو آخرکار تحریک آزادی کی شکل اختیار کر گئے۔ سالہا سال کی جدوجہد آزادی اور تحریک کے بعد 5ستمبر 1774ء کو فلاڈلفیا میں پہلی براعظمی کانگریس منعقد ہوئی جس میں برطانوی حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی قرارداد منظور ہوئی۔ بعدازاں 23مارچ 1775ء کو ورجینیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پیٹرک ہنری نے یہ تاریخی الفاظ کہے۔
"Give me Liberty or give me Death" ”مجھے آزادی دو یا موت دے دو“
7جون 1776ء کو براعظمی کانگریس میں رچرڈ ہنری لی نے قرارداد پیش کی کہ ”ان متحدہ نوآبادیات کو آزاد اور خودمختار رہنے کا حق حاصل ہے۔“ 2جولائی کو یہ قرارداد منظور ہوئی اور 4جولائی کو اعلان خودمختاری (Declaration of Independence) پر دستخط ہو گئے۔ مارچ 1782ء میں برطانوی کابینہ نے امریکہ کی خودمختاری کو تسلیم کر لیا۔ 1789ء میں جارج واشنگٹن پہلے صدر منتخب ہو گئے جو 1796ء میں ریٹائر ہوئے۔ اس عظیم امریکی رہنما کے بارے میں "First in war, first in peace, first in the hearts of his countrymen" یعنی ”جنگ میں اوّل‘ امن میں اوّل اور اپنے ہم وطنوں کے دلوں میں بھی اوّل“ کا مقولہ بہت مشہور ہے۔
سیاسی نظام
ریاست ہائے متحدہ کی وفاقی حکومت تین شاخوں سے مل کر بنتی ہے جن کی تشکیل ایک دوسرے کے اختیارات پر چیک اینڈ بیلنس کی خاطر کی گئی ہے:
مقننہ: کانگریس جو کہ سینیٹ اور ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز سے مل کر بنتی ہے اور یہ وفاقی قوانین بناتی ہے‘ اعلان جنگ کرتی ہے‘ معاہدوں کی منظوری دیتی ہے اور مواخذے کا اختیار رکھتی ہے۔
ایگزیکٹوز: صدر‘ جو کہ سینیٹ کی رضامندی کے ساتھ کابینہ اور دیگر افسران کی نامزدگی کرتا ہے‘ وفاقی قوانین کی دیکھ بھال اور ان کی بالادستی قائم کرتا ہے‘ بلوں کو مسترد کر سکتا ہے اور فوج کا کمانڈر ان چیف بھی ہوتا ہے۔
عدلیہ: سپریم کورٹ اور زیریں وفاقی عدالتیں جن کے ججوں کا تعین صدر سینیٹ کی منظوری سے کرتا ہے‘ جو قوانین کی تشریح کرتے ہیں اور آئین کے تحت ان کی میعاد مقرر کرتے ہیں جو قوانین غیر آئینی ہو گئے ہوں‘ انہیں ختم بھی کر سکتے ہیں۔
امریکی کانگریس دو ایوانوں پر مشتمل مقننہ ہے۔ ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز کے اراکین کی تعداد 435 ہے‘ ہر ایک رکن اپنے ضلع کی دو سال کیلئے نمائندگی کرتا ہے۔ ہر ریاست کو اس کی آبادی کی شرح سے سیٹوں کی تعداد ملتی ہے اور آبادی کا ہر دس سال بعد ازسرنو تعین کیا جاتا ہے۔ ہر ریاست کو کم از کم ایک نمائندے کی اجازت ہوتی ہے۔ سات ریاستوں کے ایک ایک نمائندے ہیں‘ کیلیفورنیا کے نمائندگان کی تعداد سب سے زیادہ 53ہے۔ ہر ریاست کے دو سینیٹر ہوتے ہیں جو کہ ریاستی سطح پر چھ سال کیلئے منتخب ہوتے ہیں۔ ایک تہائی سینیٹ کے انتخابات ہر دوسرے سال منعقد ہوتے ہیں۔
معیشت
امریکہ کا معاشی نظام مخلوط سرمایہ دارانہ ہے جس میں کارپوریشنیں‘ پرائیویٹ فرمیں اور افراد مل کر زیادہ تر مائیکرو اکنامک فیصلے کرتے ہیں‘ حکومت اس سطح پر زیادہ مداخلت نہیں کرتی تاہمبحیثیت مجموعی تمام سطحوں پر حکومت کا عمل دخل بہت زیادہ ہے۔ زیادہ تر کاروبار اور تجارت کارپوریشنیں چلاتی ہیں اور وہ ذاتی ملکیت ہیں۔
امریکہ میں اوسط گھریلو آمدنی 46326ڈالر سالانہ ہے اور 25سے 64سال کی عمر کے افراد کی اوسط سالانہ انفرادی آمدنی 32611 ڈالر ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »
error: Content is protected !!
%d bloggers like this: