کچھ فرانس کے بارے میں‌

مغربی یورپ میں واقع جمہوریہ فرانس کا دارالحکومت پیرس، دفتری زبان فرانسیسی اور کرنسی یورو ہے۔ اس کے چند علاقے سمندر پار شمالی وجنوبی امریکہ‘ بحرالکاہل اور بحرہند میں بھی واقع ہیں۔ یورپ میں فرانس کے ہمسایہ ممالک میں بلجیم‘ لکسمبرگ‘ جرمنی‘ سوئٹزر لینڈ‘ اٹلی‘ مناکو‘ انڈورا اور سپین جبکہ یورپ کے باہر فرانس کی سرحدیں برازیل‘ سورینام اور نیدرلینڈز سے ملتی ہیں۔ فرانس کا کل رقبہ 551500 مربع کلومیٹر اور آبادی تقریباً ساڑھے چھ کروڑ افراد پر مشتمل ہے۔ وقت میں پاکستان سے 4گھنٹے پیچھے ہے۔ فرانس ترقی یافتہ ملک ہے جس کی شرح خواندگی 100فیصد ہے۔ یہاں 75فیصد عیسائی بستے ہیں جبکہ 2فیصد مسلمان بھی موجود ہیں۔
ریاست اور خارجہ تعلقات
فرانس ایک متحدہ‘ نیم صدارتی‘ جمہوری ریاست ہے۔ فرانس کی بنیادیں اس کا آئین اور ”آدمی اور شہری کے حقوق کا اعلان“ ہیں۔ فرانس ایک ترقی یافتہ ملک ہے جوکہ دنیا کی پانچویں سب سے بڑی معیشت ہے۔ فی کس سالانہ آمدنی 33800ڈالر ہے۔ فرانس یورپی یونین کے بانی ارکان میں سے ہے اور رقبے کے لحاظ سے اس کا سب سے بڑا رکن ہے۔ فرانس نیٹو اور اقوام متحدہ کے بانی ارکان میں سے بھی ہے اور سکیورٹی کونسل کا مستقل رکن ہے۔ فرانس دنیا کی سات ایٹمی طاقتوں میں سے ایک ہے۔ فرانس شینگن ممالک میں بھی شامل ہو چکا ہے۔ یونیسکو‘ او ای سی ڈی اور انٹرپول کے ہیڈ کوارٹرز فرانس میں واقع ہیں۔
1960ء میں فرانس نے برطانیہ کو یورپی یونین تنظیم سے نکالنے کی مہم چلائی۔ فرانس نیٹو (North Atlantic Treaty Organization) کا سرگرم ممبر ضرور ہے تاہمامریکی سیاسی پالیسیوں اور فوجی اثر سے نکلنے کیلئے اس نے خود کو مشترکہ کمانڈ سے الگ کر لیا ہے۔ 1990ء میں اسے ایٹمی دھماکوں کے باعث عالمی برادری کی خاطر خواہ تنقید کا نشانہ بننا پڑا مگر ترقی یافتہ ملک ہونے کے باعث عالمی برادری اس کو زیادہ دبا نہیں پائی۔ فرانس نے 2003ء میں عراق پر حملے کی سخت مخالفت کی تھی جس سے امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ تعلقات میں کھچاؤ کی صورتحال بھی پیدا ہوئی۔
فوجی طاقت
فرانس کی مسلح افواج کی کل تعداد 3لاکھ 60ہزار ہے اور یہ اپنے جی ڈی پی کا 2.6 فیصد دفاع پر خرچ کرتا ہے۔ یہ رقم برطانیہ کے علاوہ یورپ میں بھی تمام ممالک سے زیادہ ہے۔ فرانس جنگی سازوسامان دوسرے ممالک کو برآمد کرنے والا ملک ہے۔
معاشی حالات
فرانس دنیا میں جی ڈی پی کے حساب سے چھٹی بڑی معیشت ہے۔ یہاں 25لاکھ رجسٹرڈ پرائیویٹ کمپنیاں ہیں جن میں سے انفراسٹرکچر سے متعلق شعبوں پر حکومتی کنٹرول تھا تاہم اب آہستہ آہستہ فرانس ٹیلی کام‘ ایئر فرانس سمیت انشورنس‘ بینکنگ اور دفاعی سازوسامان کی انڈسٹریز کی بھی نجکاری کر رہا ہے۔ فرانس ایک صنعتی ملک ہے جو کہ اپنی توانائی کی ضروریات 59نیوکلیئر پاور پلانٹس سے پوری کرتا ہے۔ زرخیز زمین‘ جدید ٹیکنالوجی اور کسانوں کو دی گئی مراعات نے زرعی اجناس کی پیداوار میں بھی فرانس کو یورپی یونین میں سرفہرست بنا دیا ہے۔ گندم‘ پولٹری‘ ڈیری‘ گوشت‘ فوڈ اینڈ وائن انڈسٹری اس کی برآمدات میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
لیبر مارکیٹ
گو کہ فرانس میں اوسط فی کس آمدن دیگر یورپی ممالک جتنی ہے تاہم بیروزگاری کی شرح اب 9سے کم ہو کر 7.2فیصد ہوئی ہے جو کہ اب بھی دیگر یورپی ممالک کی نسبت زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی وجہ کم کام کے گھنٹے اور انفراسٹرکچر میں اصلاحات کی کمی ہے۔ جس پر موجودہ فرانسیسی حکومت نے کام شروع کر دیا ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »
error: Content is protected !!
%d bloggers like this: