ویزاانٹرویو میں یقینی کامیابی حاصل کریں

موجودہ دور میں تیسری دنیا خاص کر پاکستان ، بھارت اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کے شہریوں کے لئے ویزوں کا حصول انتہائی مشکل ہوتاجارہاہے. تاہم اگر دوکام ٹھیک طریقے سے کرلئے جائیں تو یہ مشکل نہیں رہتا. پہلا کام ہے ایمبیسی کی ہدایات کے مطابق مطلوبہ کاغذات کی تیاری اور دوسرا ہے ایک کامیاب ویزا انٹرویو. ہم اپنی اس ویب سائٹ پر ہر ملک کے ویزوں کی مطلوبہ دستاویزات تمام تر جزیا ت کے ساتھ بتاتے ہیں. اس آرٹیکل میں کسی بھی ملک کیلئے ویزا انٹرویومیں کس طرح کامیابی حاصل کرنی ہے وہ بھی بتا رہے ہیں.
سب سے پہلے ہمیں غور کرنا ہوگا کہ لوگ عمومی طور پرویزا انٹرویو میں کون کون سی غلطیاں کرتے ہیں. ہم ان کو سدھارنے کے طریقے بتائیں گے ، یہی کامیابی کے ٹپس ہوں گے.
ویزے کے انٹرویو میں سب سے اہم بات یہ ہوتی ہے کہ آپ ویزا افسر کے پوچھے گئےسوالات کے بالکل درست اور اپنی دستاویزات کے مطابق جواب دیں. یہ وہ دستاویزات ہوں گی جو کہ آپ نے اپنی ویزا درخواست کے ساتھ لگائی ہیں. لہذا ضروری ہے کہ اپنے جمع کرائے گئے کاغذات کا کم ازکم دوتین بار بغور جائزہ لیں. یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کہ کوئی ماہر قانون دان اپنے کیس میں پیش ہونے سے قبل تیاری کرتاہے. وہ ہر ممکنہ سوال پر غور کرتاہے. اسے کیس سٹڈی کرنے کے دوران اندازہ ہوجاتا ہے کہ کہاں کہاں کمزوریاں ہیں اور اگر ان سے متعلق سوال کیا جاتاہے تو اس کا کیا جواب دیناہے. آپ دوسری مثال کسی لیکچرار کی بھی لے سکتے ہیں کہ جیسے وہ اپنے لیکچر سے پہلے تیاری کرتاہے. آپ سارے ڈاکومنٹس بار بار پڑھیں، تبھی ویزا افسر کے ہر سوال کا فوری، مفصل اور ٹودی پوائنٹ جواب دے پائیں گے.
آپ کسی سوال کا جواب نہیں‌دے پاتے یا اپنے کاغذات کے برعکس دیتے ہیں تو اس سے یقینی طور پر آپ کا کیس کمزور ہوگا جس نتیجہ ویزا درخواست مسترد ہونے کی صورت میں ہی نکلتاہے.
اس کے بعد جو خامی دیکھنے میں‌آتی ہے وہ ہے گبھراہٹ یا اعتماد کی کمی. اس کی وجہ کوئی خوف یا ویزا افسر کے کسی سوال سے لاجواب ہونا ہوتی ہے. خوف ہمشیہ کسی کمزوری کی وجہ سےہوتاہے اور یہ وہ کمزرویاں ہیں جو کہ آپ کے ویزا کیس میں رہ گئی ہیں. ان کا اندازہ آپ کو اپنا کیس باربار سٹڈی کرنے کے دوران ہوجائے گا. آپ نے بس اسے انٹریو میں کور کرنے کی منصوبہ بندی کرنی ہے. کونکہ ویزا افسر کی نظر بھی اسی بات پر ہوگی اور انہی کمزوریوں سے متعلق ہی سوال کرے گا. اگر آپ کی دستاویزات میں‌کوئی کمی و کوتاہی نہ ہوتی تو شائد آپ کو ویزا انٹرویو کے بغیر ہی ویزا مل گیا ہوتا. یہ ذہن نشین کرلیں کہ ان کمزوریوں کو آپ صرف باتوں سے نہیں‌چھپاسکتے اس کے لئے ساتھ دستاویزی ثبوت یعنی کہ ڈاکومنٹس بھی پیش کرنا ہوں گے. جو کہ آپ نے تیار کروانے ہیں .
ایک اہم پوائنٹ یہ بھی ذہن میں‌بٹھا لیں کہ ویزا افسر نے انٹرویو کے دوران صرف ایک بات کا جائزہ لینا ہے کہ آپ کو ویزا جاری کردیاجائے تو واپس پاکستان آ جائیں گے یا نہیں‌؟ آپ کی دستاویزات اور باتوں سے اگر اس کا ذہن مطمئین ہوجائے تو آپ کو فوری ویزا مل جائے گا. آپ واپس تبھی آئیں‌گے جب یہاں‌ آپ کے بیوی بچے ہوں گے، کوئی اچھا کاروبار یا نوکری ہوگی جسے آپ چھوڑ نہیں‌سکتے ، یا زمین جائیداد، دولت ، شہرت ہو. یعنی کہ آپ نے اپنے مضبوط تعلق ظاہر کرنے ہیں.
اب بات کریں گے گیٹ اپ کی . اکثر لوگ یہ غلطی بھی کرتے ہیں کہ اپنے پروفیشن کے مطابق ڈریسنگ کرکے نہیں‌جاتے. اگر آپ ڈاکٹر ہیں تو آپ پر سوبر سی ڈریسنگ ہی بھلی لگے گی. اگر طالب علم ہیں تو بزنس مین کی طرح مہنگا سا سوٹ پہن کر تو نہیں‌جائیں گے. کوشش کریں کہ اپنے حلیے سے وہیں نظر آئیں جو کہ آپ کے کاغذات بتارہے ہیں.
ویزا افسر اکثر کسی ڈاکٹر کا Visa Interview کرتے ہوئے کسی دوائی سے متعلق دریافت کرلیتے ہیں جوکہ وہ استعمال کرچکے ہوں یا کررہے ہوں. اگر کوئی آپٹیشن آجائے تو اپنا چشمہ سامنے رکھ کر اس کا نمبر بھی پوچھ لیا جاتاہے. یہ زیادہ تر اس وقت ہوتاہے جب آپ کا حلیہ آپ کے بتائے گئے پیشے کے مطابق نہ لگ رہاہو. اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ آپ کو اپنے پروفیشن سے متعلق پوراپورا علم ہو. ویزا افسران کو یہ پوائنٹ بھی متاثر کرتاہے کہ کوئی بندہ اپنے شعبے کا مکمل علم رکھتاہے اور اگر آپ کا اپنے شعبہ میں کوئی نام بھی ہو تو ویزے کا حصول بہت آسان ہوجاتاہے.
ہمارے پاس کئی ایک مثالیں موجود ہیں کہ کسی دوست نے خود کو کارباری ظاہر کرنے کے لئے تمام مطلوبہ دستاویزات بنوائیں اور اسی شعبے سے متعلق کسی نمائش یا کاروباری سرگرمی میں‌شرکت کا کیس تیار کیا تو اس کا ویزا لگ گیا. اس کی وجہ تھی اس کا متعلقہ شعبے میں تمام تر معلومات سے واقف ہونا. اس نوعیت کے کیسز میں‌ درخواست گذار عام طور پر زیادہ پڑھے لکھے بھی نہیں ہوتے مگر ویزا انٹرویو سمیت تمام تر مراحل سے گذرکر ویزا حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں . زیادہ تر کاروباری حضرات اب بھی ویزا انٹرویو دینا پڑ جائے تو ٹرانسلیٹر مانگتے ہیں‌جس کے ذریعے وہ ویزا افسر کی بات سمجھتے ہیں‌اور اپنی سمجھا پاتے ہیں. لہذا ویزا انٹرویو میں‌اپنے پروفیشن کا اچھا علم اور اعتماد بھی اہم رول پلے کرتے ہیں‌.
بہت سے کم پڑھے لکھے افراد یہ غلطی بھی کرتے ہیں کہ اپنی انگریزی کو بہتر ثابت کرنے کے چکر میں‌ٹرانسلیٹر یعنی مترجم کی سہولت نہیں‌ لیتے جس کے باعث وہ کئی سوالات ٹھیک طریقے سے سمجھ نہیں‌پاتے اور ویزا افسر بھی ان کی باتیں سمجھنے سے قاصر رہتاہے جس کا نقصان انہیں ہی ہوتاہے اور ویزا درخواست مسترد کردی جاتی ہے.ویزا انٹرویو سے قبل آپ سے مترجم کی بابت پوچھا جاتاہے اس وقت شرم مت کریں اور اس سہولت سے فائڈہ اٹھائیں.
ان چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو سدھار لیں اور آرٹیکل میں دی گئی گائیڈ لائینز کے مطابق کیس تیار کرلیں تو انشاءاللہ کامیابی آپ کی منتظر کھڑی ہوگی.

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »
error: Content is protected !!
%d bloggers like this: