شاہدخان کاامریکہ میں‌برتن دھونے سےامیرترین پاکستانی بننے تک کا سفر

یورپی دانشوروالٹئیر کا کہنا ہے کہ اس نے دنیا کے زیادہ تر بڑے لوگوں کوجھونپڑیوں سے نکلتے دیکھا۔ یہ وہ لوگ تھے۔۔جو کوئی سونے کا چمچ منہ میں لیکرپیدا نہیں ہوئے مگر انہوں نے اپنے جذبے اورلگن سے ناممکنات سے ممکنات تک کا سفر طے کیا۔انہی لوگوں میں ہم شاہد خان کا نام بھی شامل کرسکتے ہیں جو امریکہ پڑھنے کیلئے گئے تو انہیں شروع میں ہوٹلوں میں برتن تک دھونے پڑے۔ یہ ان کے سفر کا آغاز تھا. اب وہ پاکستانی نژادا ارب پتی امریکی شہری ہیں۔
فوربز کی 2018 کی رپورٹ کے مطابق شاہد خان امیر ترین پاکستانی ہیں۔ امریکا کے امیر ترین افراد کی بات کی جائے تو وہاں ان کا شمار73ویں نمبر پرہوتا ہے۔ فوربز کے مطابق شاہد خان کے اثاثوں کی مالیت 7ارب 40کروڑ ڈالر ہے۔وہ آج جوگرز سمیت درجن سے زائد کمپنیوں، امریکا کی نیشنل فٹ بال لیگ(NFL)کے ’جیکسن ویل جیگوارزکلب، لندن کے فٹ بال کلب فلہیم (Fulham) ، تین نجی چارٹر طیاروں، 14کروڑ پاونڈز مالیت کی دنیا کی منفرد لگژری کشتی اور اسی لاکھ ڈالر کے عالیشان گھر کے مالک ہیں۔حا ل ہی میں انہوں نے انگلینڈ فٹ بال ایسوسی ایشن کے لندن میں واقع یادگار’ویمبلے اسٹیڈیم‘۔۔ کو بھی خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
shahid khan
ففٹی اورسکسٹی کے عشرے میں شاہد خان کاخاندان لاہورمیں رہائش پذیرتھا اور اس کا متوسط طبقے میں شمار ہوتا تھا۔ان کے والد تعمیرات کے شعبے سے وابستہ تھے جبکہ والدہ یونیورسٹی میں پڑھایا کرتی تھیں۔
شاہد خان بچپن سے ہی کاروباری ذہن رکھتے تھے۔ ان کے کلاس فیلوز بتاتے ہیں کہ ٹین ایج میں وہ ریڈیو بنا کر بیچا کرتے تھے۔۔اپنی کتابیں دوستوں کو کرائے پر دے کر بھی۔۔کچھ آمدن حاصل کرلیا کرتے تھے۔
1967ء میں 16سال کی عمرمیں وہ آرکی ٹیکٹ بننے کا خواب لے کر امریکا روانہ ہوئے۔ اس وقت ان کے پاس صرف 500ڈالر تھے۔ چند ہفتوں میں یہ رقم ختم ہوئی تو شاہد خان کو بہت کٹھن حالات کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کے پاس نہ تو اچھا کھانا خریدنے کے پیسے ہوتے تھے اور ناہی اپنے روم کا کرایہ دینے کی سکت۔ مگر وہ ہمت نہیں ہارے اور حالات کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی۔
مالی معاملات سنبھالنے کے لیے انھوں نے ایک ہوٹل میں برتن دھونے کی نوکری کرلی جہاں انھیں فی گھنٹہ 1.2ڈالر معاوضہ دیا جاتا تھا۔ شاہد خان کا کہنا ہے کہ انہیں برتن دھونے کے جتنے پیسے ایک گھنٹے میں ملتے تھے اس سے وہ خود کو روئے زمین کا خوش قسمت ترین انسان سمجھنے لگے کیوں کہ وہ پاکستان کے 99.9فی صد لوگوں سے زیادہ پیسے کما رہے تھے۔
آرکیٹیکٹ کی تعلیم حاصل کرنے کو ابھی ایک سیمسٹر ہی گزرا تھا کہ شاہد خان کو محسوس ہوا کہ ایک آرکی ٹیکٹ بہت زیادہ پیسے نہیں بنا پاتا۔ اس کے بعد انھوں نے یونیورسٹی آف ایلینوئے میں انجینئرنگ میں داخلہ لے لیا۔ ساتھ میں انھوں نے’فلیکس اینڈ گیٹ‘ نامی اسپیئر پارٹس بنانے والی کمپنی میں پارٹ ٹائم نوکری بھی شروع کر دی۔یونیورسٹی آف ایلینوائے سے1971ء میں انہوں نے انڈسٹریل انجنیئرنگ میں بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ انجنیئرنگ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد شاہد خان کو ’فلیکس اینڈ گیٹ‘ میں انجنیئرنگ ڈائریکٹر کے مقام پر ترقی دے دی گئی۔
shahid khan
پھر چھبیس سال کی عمر میں 16 ہزار ڈالر جمع ہوجانے کے بعد انھیں احساس ہوا کہ اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے یہی موزوں ترین وقت ہے۔ فلیکس اینڈ گیٹ‘ سے مستعفی ہوکر انھوں نے 50ہزار ڈالر کا قرضہ لیااور اس میں اپنے جمع کیے ہوئے 16ہزار ڈالر شامل کرلیے۔
شاہد خان نے تحقیق کے بعد اندازہ لگا لیا تھا کہ امریکا میں کوئی کمپنی ’پِک اَپ‘ ٹرکوں کے لیے ’وَن پیس‘ بمپر نہیں بنا رہی۔ تمام کمپنیاں دو یا تین ٹکڑوں میں بمپر بنا تی تھیں۔۔، جنھیں ٹکڑوں میں ہی ٹرک کے ساتھ جوڑا جاتا تھا۔اس میں قباحت یہ تھی کہ سفر اور وزن کی وجہ سے بہت جلد ان بمپرز کے جوڑ کھل جاتے تھے۔
شاہد خان کو’وَن پیس‘ بمپر بنانے کے آئیڈیا میں جان نظر آئی یوں 1978ء میں انھوں نے ایک پیس میں بمپر بنانے والی پہلی کمپنی ’بمپر ورکس‘ کی بنیاد رکھ دی۔ترکیب اچھی تھی اور خوش قسمتی سے یہ کام بھی کر گئی۔
پھر دن بہ دن زیادہ منافع اور خوش حالی شاہد خان کا مقدر بنتی چلی گئی اور صرف 2سال بعد شاہد خان نے وہ کر دِکھایا، جوہم صرف فلموں میں ہی دیکھتے چلے آئے ہیں۔ شاہد خان نے1980میں اسی ’فلیکس اینڈ گیٹ‘ کمپنی کو خرید لیا، جس میں وہ زمانہ طالب علمی سے ملازمت کیا کرتے تھے اور جہاں سے مستعفی ہوکر انھوں نے اپنا وَن پیس بمپر بنانے کا کام شروع کیا تھا۔ اب وہ امریکا کی بڑی کارساز کمپنیوں جیسے جنرل موٹرزاور فورڈ کو اسپیئر پارٹس فراہم کررہے تھے۔ 1984ء میں شاہد خان سے ٹویوٹا کمپنی نے اپنے پک اپ ٹرکوں کے لیے محدود تعداد میں بمپر زخریدنا شروع کیے۔ یہ شاہد خان کی بڑی کامیابی تھی۔ 1987ء تک ٹویوٹا کے پک اپ ٹرکوں کے لیے تمام بمپرز شاہد خان فراہم کررہے تھے، جب کہ 1989تک وہ امریکا میں ٹویوٹا کی تمام گاڑیوں کے واحد بمپر سپلائربن چکے تھے۔
ٹویوٹا کے انتظامی امور اور پیداواری رجحان کو اپنا کرشاہد خان نے اپنی کمپنی کی صلاحیتوں کو اس قدر بے مثال بنا دیا کہ وہ چند منٹ میں اس کا مینوفیکچرنگ پراسیس بدل سکتے تھے۔ اس وقت فلیکس اینڈ گیٹ کے دنیا بھر میں 64 پلانٹس ہیں، جہاں 24 ہزار ملازمین کام کرتے ہیں۔
shahid khan wife
شاہد خان نے دسمبر 2011ء میں 76 کروڑ ڈالر میں امریکا کی نیشنل فٹ بال لیگ(NFL)کے کلب ’جیکسن ویل جیگوارز‘ کو خرید لیا۔ اس کے بعد فوربز میگزین نے ستمبر 2011ء میں پہلی بار شاہد خان کو دنیا کے ارب پتی افراد کی فہرست میں شامل کر لیا۔ 2013میں انھوں نے لندن کے فٹ بال کلب فلہیم (Fulham) کو بھی خرید لیا۔ اب انھوں نے انگلینڈ فٹ بال ایسوسی ایشن کے لندن میں واقع یادگار’ویمبلے اسٹیڈیم‘ کو خریدنے میں دلچسپی ظاہرکی ہے جس کے لیے انھوں نے 50کروڑ پاونڈز کی ابتدائی پیش کش کی ہے۔ توقع ہے کہ شاہد خان اور انگلینڈ فٹ بال ایسوسی ایشن کے مابین قیمت پر گفت و شنید کے بعد، اس اسٹیڈیم کی خرید و فروخت کا معاہدہ آئندہ دو سے تین ماہ میں ہوجائے گا۔
امریکی شہر شکاگو میں شاہد خان کا ایک عالیشان گھر ہے، جس کی مالیت 80لاکھ ڈالرہے۔ شاہد خان کی بیوی این ایک سفید فام خاتون ہیں، جن سے ان کے دو بچے ہیں۔ شاہد خان کو امریکی شہریت 1991میں ملی۔
شاہد خان 2014میں ایک 300فٹ طویل پرتعیش کشتی (Yacht)کے بھی مالک بنے، جو انھوں نے اپنی پسند کے مطابق ڈیزائن کروائی تھی۔ ان کی یہ کشتی چھ سال میں تیار ہوئی، جس کی مالیت14کروڑ پاونڈز (تقریباً 22ارب 35کروڑ روپے) ہے۔ اس کے علاوہ وہ تین نجی چارٹر طیارے بھی رکھتے ہیں۔

You may also like...

2 Responses

  1. scr888 download says:

    Everything is very open with a very clear explanation of the challenges.

    It was definitely informative. Your site is useful.
    Many thanks for sharing

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: