سیاسی پناہ کے لئے پاکستانیوں کی ترجیحات

اٹلی میں غیرقانونی طریقے سے پہنچنے والے پاکستانی شہریوں کو آج کل سیاسی پناہ ملنے کے کس قدر امکانا ت ہیں؟ یہ ایک اہم سوال ہے جس کا جواب ملنے پر بہت سے لوگ اپنے دماغ کے کسی کونے کھدرے میں پناہ کے حوالے سے پائے جانے والے کسی منصوبے پر اہم فیصلہ لے سکتے ہیں۔ اس سوال کا جواب آپ کو ان اعدادوشمار سے مل سکتاہے کہ
گذشتہ 5 سالوں کے دوران یورپی یونین میں کل ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد پاکستانی شہریوں نے پناہ کی درخواستیں دیں۔جن میں سے37 ہزار نے اٹلی جب کہ36 ہزار نے جرمنی کا رخ کیا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستانی تارکین وطن نے سب سے زیادہ اٹلی میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ 2012 میں یہاں اپلائی کرنے والے پاکستانیوں کی تعداد صرف 2600تھی جو کہ2015 میں دس ہزار اور 2016 میں 14 ہزار تک جا پہنچی۔
اعدادوشمار کیا کہتے ہیں؟
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اٹلی میں دیگر یورپی ممالک کی نسبت پاکستانی شہریوں زیادہ پناہ ملی کیونکہ ان پانچ برسوں کے دوران اوپر بیان کردہ 37 ہزار میں 44 فیصد کو اٹلی میں مختلف کیٹیگریز میں پناہ مل گئی۔ امیگریشن حکام نے مجموعی طور پر قریب29ہزارپاکستانی شہریوں کی درخواستوں پر فیصلے سنائے جن میں سے ساڑھے بارہ ہزار کو پناہ دے دی گئی دیگر کی درخواستیں مسترد ہوئیں۔ واضح رہے کہ زیادہ تر کامیاب درخواست گذاروں کو انسانی بنیادوں پر پناہ دی گئی جبکہ میرٹ پر محض13فیصد، جنیوا کنونشن کے تحت مہاجر قرار دیئے گئے۔
اگر دوہزارسترہ کی بات کریں تو اس سال پاکستاینوں کو اٹلی میں پناہ دیئے جانے کی شرح میں دس فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے اور اس کے مزید کم ہونے کی توقع ظاہر کی جارہی ہے کیونکہ دیگر یورپی ملکوں کی طرح اب اٹلی نے بھی سختی برتنی شروع کردی ہے۔ یونان تک پہنچنے والے افراد کو اب آگے کسی ملک نہیں جانے دیا جارہا۔ جس سے پناہ گزینوں کی بڑی حد تک حوصلہ شکنی ہورہی ہے۔
پاکستانی پناہ گزینوں کی دوسری پسندیدہ منزل
اٹلی کے مقابلے میں برطانیہ میں اکیس فیصد، جرمنی تیرہ فیصد جب کہ یونان میں محض ایک فیصد کی درخواستیں منظور کی گیئں۔
اپلائی کرنے کے حوالے سے جائزہ لیں تو اٹلی کے بعد پاکستانی تارکین وطن کی پسندیدہ منزل جرمنی رہا جہاں 36 ہزار پاکستانی شہریوں نے قسمت آزمائی کی۔
اس کے بعدپاکستانیوں نے ہنگری، برطانیہ اور یونان کو ترجیح دی۔ ناروے، ہالینڈ، سپین اور سوئٹزرلینڈ میں ایک ہزار سے بھی کم پاکستانی پناہ کیلئے گئے۔
یہ بھی پڑھیں( برطانیہ میں‌ پناہ لینے کا طریقہ)
پاکستانی پناہ گزینوں سے ہونے والا سلوک
پاکستان کے اندر سرگرم انسانی اسمگلرز کے نیٹ ورکس لوگوں کو غیر قانونی طریقوں کے ذریعے باہر پہنچانے میں ہمیشہ ہی پیش پیش رہتے ہیں۔ وہ کم پڑھے لکھے افراد خصوصاً دیہات کے سادہ لوح لوگوں کو اس طرح کے سبز باغ دکھاتے ہیں کہ ان کو یقین ہوجاتا ہے کہ بس کشتیوں اور بارڈر کراسنگ کے ذریعے یورپ کی سرحد تک پہنچنے کی دیر ہے۔ پھر ان کی زندگی بن گئی۔ ایجنٹ حضرات کے مطابق ان لوگوں کو یورپ کے بارڈر پر پہنچتے ہی پناہ مل جائے کی۔ لاکھوں میں وظیفہ بھی لگ جائے گا جس کے بعد کام نہ کرکے بھی ڈیڑھ دو لاکھ روپے پاکستان بجھوا سکیں گے۔ مگر وہاں پہنچ کر سبھی خواب کرچی کرچی ہوجاتے ہیں۔ سخت سردی میں ٹینٹوں کے اندر رہنے اور ناکافی خوراک کے باعث اکثریت بیمارپڑ جاتی ہے۔
گذارہ الاؤنس تو کیا وہاں کئی کئی ماہ تک کوئی پوچھتا بھی نہیں۔ اس جانوروں جیسی زندگی سے تنگ آکر پھر ہمارے پاکستانی بھائی بھی دیگر پناہ گزینوں کی طرح ایک ہی صدا دیتے ہیں کہ خدا کیلئے ہمیں گھر واپس بجھوادو۔ مگرسفری دستاویزات نہ ہونے کے باعث یہ بھی کئی ماہ تک ممکن نہیں ہوپاتا۔
انسانی اسمگلرز کے خلاف کارروائیاں
یہ سارے حالا ت اب میڈیا کے ذریعے پاکستان تک پہنچتے ہیں اور آئے روز کشتیاں ڈوبنے سے ہونے والی ہلاکتوں سے بھی لوگوں کی آنکھین کھل رہی ہیں۔ اور جب یہ سب کچھ میڈیا پر اجاگر ہوتاہے تو حکومتی اداروں کو بھی مجبوراً حرکت میں آنا پڑتاہے۔ ان تمام تر فیکٹرز کے بعد انسانی اسمگلرز کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے اور لوگوں کے غیرقانونی طریقے اپنانے میں واضح کمی ہورہی ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »
error: Content is protected !!
%d bloggers like this: