سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد روس کو دوبارہ عالمی طاقت بنانے والی شخصیت

روس میں سن 1917 سے قبل بادشاہت قائم تھی اور بادشاہ زار کہلاتا تھا۔ روسی صدر نے جس انداز میں اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کر رکھی ہے، وہ انداز کسی زارِ جیسا ہے۔ ولادیمیر پوٹن putin سابقہ سوویت یونین کے دور کی خفیہ ایجنسی کے جی بی کے ایک افسر تھے اور وہاں سے وہ ترقی کرنے کے بعد اب روس کے صدر بن چکے ہیں۔

ولادیمیر پوٹن (putin) کو اٹھارہ برس قبل اقتدار ملا تھا۔ رواں برس مارچ میں وہ چوتھی مدتِ صدارت کا الیکشن جیت چکے ہیں۔ وہ اپنی نئی مدتِ صدارت کا حلف پیر سات مئی کو اٹھائیں گے۔روسی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پوٹن نے روس کے طول و عرض پر اپنا اختیار اور عملداری بھرپور انداز میں قائم کر رکھی ہے۔ اُن کے خلاف اٹھنے والی اپوزیشن کی آوازیں بتدریج خاموشی ہوتی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ عالمی سطح پر ماسکو کی ’گم شدہ طاقت‘ کے طور پر حیثیت ایک مرتبہ پھر بحال ہوتی جا رہی ہے۔ اُن کا مجموعی امیج بھی ایک قوت بخش حکمران کا بن چکا ہے۔داخلی سطح پر اُن کی پالیسیوں میں تسلسل دیکھا گیا ہے اور اُن کے ملک میں بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود اقتصادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ کوئی توانا اور زوردار اپوزیشن کی تحریک دور دور تک اٹھتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہی۔ اپوزیشن رہنما موجود ہیں، جو اُن کے طریقہ? حکومت پر شاکی ہیں لیکن انتہائی بڑے ملک میں اِن لیڈروں کے حامیوں کی تعداد چھوٹے شہروں میں قدرے محدود خیال کی جاتی ہے اور وہ حکومتی اختیار کو پوری طرح چیلنج کرنے سے بھی قاصر دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ روس ميں پوٹن putin کے حکومتی انداز نے جمہوریت کو قدرے دیوار سے لگا دیا ہے اور حکومتی ڈھانچے کے مختلف شعبوں میں سابقہ خفیہ ادارے کے قابل اعتماد افسران ایک نئی حکومتی اشرافیہ کے طور پر سامنے آ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے روس عوام میں قوم پرستی کے جذبے کو ابھارنے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔ین الاقوامی منظر نامے پر وہ اس وقت تیسرے امریکی صدر کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ سے قبل سابقہ صدور جارج بُش جونیئر اور باراک اوباما تھے، جن کے ساتھ پوٹن نے معاملات آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ روس نے کریمیا کو اپنی جغرافیائی حدود میں ضم کرتے ہوئے یوکرائن کے ساتھ جو دشمنی مول لے رکھی ہے، اُس پر یورپ اور امریکا برہمی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے شام میں بشار الاسد حکومت کی ہر طرح سے کھل کر حمایت و معاونت کی ہے۔

فوربز میگزین مسلسل چار برسوں سے انہیں جدید دور کے با اثر اورانتہائی طاقت کے حامل افراد کی صف میں شمار کر رہا ہے۔ ایسی تصاویر بھی سامنے آتی رہتی ہیں جن سے اُن کے جسمانی و دماغی طور پر مضبوط ہونے کا پتہ چلتا ہے۔ جوڈو میں بلیک بیلٹ رکھنے والے پوٹن کی سائبیریا کے ٹھنڈے علاقے میں بغیر قمیض کے گھڑ سواری کرنے کی تصاویر بھی اُن کے امیج کو تقویت دیتی ہیں۔لادیمیر پوٹن putin سات اکتوبر سن 1952 میں سابقہ لینن گراڈ اور موجودہ سینٹ پیٹرزبرگ میں پیدا ہوئے تھے۔ اپنے شہر کے حوالے سے پوٹن نے سن 2015 میں کہا تھا کہ سینٹ پیٹرز برگ نے انہیں بچپن میں سکھایا ہے کہ اگر لڑائی ناگزیر ہو گئی ہے تو پہلا وار خود کرنا ہو گا۔ وہ سابقہ سوویت یونین کے دور میں سن 1985 سے سن 1990 تک اُس وقت کی کمیونسٹ ریاست ميں کے جی بے کے ايجنٹ کے طور پر مشرقی جرمنی کے شہر ڈریسڈن میں متعین رہے تھے۔

اقتدار کے ایوان میں داخل ہونے کا راستہ انہيں اُس وقت ملا جب سن 1999 میں پہلے جمہوری طور پر منتخب ہونے والے روسی صدر بورس یلٹسن نے پوٹن کو سینٹ پیٹرزبرگ سے ماسکو طلب کیا۔ اسی برس انہیں یلٹسن نے اپنا وزیراعظم مقرر کر دیا۔ اسی منصب سے ان کی مقبولیت روس کے عوام میں پھیلنا شروع ہوئی۔
خفیہ ایجنسی میں پہلی ملازمت
گریچویشن کے فوری بعد ہی پوٹن نے سابقہ سوویت خفیہ ایجنسی ’کمیٹی فار اسٹیٹ سکیورٹی‘ KGB میں ملازمت اختیار لی۔ بطور غیر ملکی ایجنٹ انہوں نے 1985ء تا 1990ء سابقہ مشرقی جرمنی کے شہر ڈریسڈن میں خدمات سر انجام دیں۔ 1990ء میں پوٹن لینن گراڈ اسٹیٹ یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی امور کے نائب ڈین بن گئے۔سیاست میں عملی قدم
جون سن 1991 میں پوٹن putin نے ’کے جی بی‘ سے مستعفیٰ ہوتے ہوئے عملی سیاست میں قدم رکھا۔ تب انہوں نے لینن گراڈ کے میئر اناطولی سابچک کے مشیر کے طور پر کام کرنا شروع کیا۔ اس وقت پوٹن کو سٹی ہال میں کام کرنے کا موقع ملا۔ اس دوران وہ بین الاقوامی امور کی کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر ذمہ داریاں نبھانے لگے۔
کریملن میں داخلہ
سن انیس سو ستانوے میں سابق صدر بورس یلسن نے پوٹن کو کریملن کا نائب چیف ایڈمنسٹریٹر بنا دیا۔ ایک سال بعد ہی پوٹن فیڈرل سکیورٹی سروس (ایف ایس بی) کے سربراہ بنا دیے گئے جبکہ انیس سو ننانوے میں انہیں ’رشین سکیورٹی کونسل‘ کا سیکرٹری بنا دیا گیا۔ یہ وہ دور تھا، جب سوویت یونین کے ٹوٹنے کے نتیجے میں روس میں اقتصادی اور سماجی مسائل شدید ہوتے جا رہے تھے۔
بطور وزیر اعظم
نو اگست انیس سے ننانوے میں ہی بورس یلسن نے پوٹن کو وزیر اعظم مقرر کر دیا۔ اسکنڈلز کی زد میں آئے ہوئے یلسن اسی برس اکتیس دسمبر کو صدارت کے عہدے سے الگ ہوئے گئے اور پوٹن کو عبوری صدر بنا دیا گیا۔
صدارت کے عہدے پر براجمان
چھبیس مارچ سن دو ہزار کے صدارتی الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد پوٹن نے سات مئی کو بطور صدر حلف اٹھایا۔ تب کسی کو معلوم نہ تھا کہ پوٹن کا دور اقتدار نہ ختم ہونے والا ایک سلسلہ بن جائے گا۔ پوٹن کے پہلے دور صدارت میں روس نے اقتصادی مسائل پر قابو پایا، جس کی وجہ سے پوٹن کی عوامی مقولیت میں اضافہ ہوا۔
دوسری مدت صدارت
پندرہ مارچ سن دو ہزار چار کے صدارتی الیکشن میں آزاد امیدوار کے طور پر مہم چلاتے ہوئے پوٹن نے دوسری مرتبہ بھی کامیابی حاصل کر لی۔ سات مئی کے دن انہوں نے دوسری مدت صدارت کے لیے حلف اٹھایا۔ تاہم پوٹن کی طرف سے اقتدار پر قبضہ جمانے کی کوشش کے تناظر میں عوامی سطح پر ان کے خلاف ایک تحریک شروع ہونے لگی۔
اسرائیل کا دورہ
ستائیس اپریل سن دو ہزار سات میں پوٹن putin نے اسرائیل کا دورہ کیا۔ یوں انہوں نے ایسے پہلے روسی رہنما ہونے کا اعزاز حاصل کیا، جس نے اسرائیل کا دورہ کیا ہوا۔ اسی برس برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر سے ملاقات کے دوران پوٹن لندن حکومت کے ساتھ انسداد دہشت گردی کے لیے تعاون میں بہتری کا اعلان کیا۔
صدر سے وزیر اعظم
دو مارچ سن دو ہزار آٹھ کے صدارتی انتخابات میں پوٹن بطور امیدوار میدان میں نہ اترے کیونکہ روسی آئین کے مطابق کوئی بھی شخص مسلسل دو سے زیادہ مرتبہ صدر نہیں بن سکتا۔ تاہم اس مرتبہ پوٹن وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہو گئے۔ تب پوٹن کے انتہائی قریبی ساتھی دمتری میدودف کو روس کا صدر منتخب کیا گیا۔
تیسری مرتبہ صدر کا عہدہ
چوبیس ستمبر سن دو ہزار گیارہ کو میدودف نے ولادیمیر پوٹن کو ایک مرتبہ پھر صدارتی امیدوار نامزد کر دیا۔ تب پوٹن نے تجویز کیا کہ اگر پارلیمانی الیکشن میں میدودف کی سیاسی پارٹی یونائٹڈ رشیا کو کامیابی ملتی ہے تو انہیں وزیر اعظم بنا دیا جائے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »
error: Content is protected !!
%d bloggers like this: