دنیا کا سب سے امیر، خوبصورت اور پراسرارگاؤں

اگرہم کوئی کہے کہ دنیا میں‌ ایک ایسا بھی گاؤں ہے جس میں ایفل ٹاور سے بھی بلند 72 منزلہ فلک بوس ہوٹل، ہیلی کاپٹروں کی آمدورفت ، ایک دلکش تھیم پارک، ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت گھر اور ہرفرد کے اکاونٹ میں پندرہ کروڑ روپے سے زائد بیلنس ہے. توکیا آپ اسے دنیا کا سب سے امیر اورخوبصورت گاوں مانیں گے؟ جواب اگر ہاں میں ہے تو اسے پراسرارترین بھی ماننا ہوگا. کیونکہ اس کی امارت کی وجہ ہرکوئی نہیں جانتا۔
اس گاؤں کا نام "ہوآکسی" ہے اوریہ چین کے مشرقی صوبہ جیانگسومیں واقع ہے۔ یہاں دولت کی اتنی ریل پیل ہے کہ اسے دنیا کا امیر ترین گاؤں" کہا جاتا ہے۔ اس کے دو ہزارسے زائد مکینوں میں ہر شخص کے اکاؤنٹ میں ایک ملین یوآن موجود ہیں، ہر خاندان کو یہاں منتقلی پر حکومت کی طرف سے گاڑی اور بنگلہ ملتا ہے۔ لیکن ایک مسئلہ ہے، اگر آپ اس گاوں کوچھوڑیں گے تو سب کچھ واپس لے لیا جائےگا۔ گاؤں کا انتظام جیانگ ین شہر کی انتظامیہ کے پاس ہے جو کہ اپنے زرعی وسائل اور خوبصورت مناظر کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ چین کے سب سے بڑے شہر شنگھائی سے دو گھنٹے کی ڈرائیو پر موجود ہے۔ سالوں تک ہوآکسی کو چین کی کمیونسٹ حکومت کی کامیابی کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ جس کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک غریب گاؤں کونصف صدی میں خطے کاسب سے امیر علاقہ بنا دیا ہے۔
شہر کے داخلی دروازے پر لکھا ہے "آسمان تلے موجود دنیا کے نمبر ون گاؤں میں خوش آمدید". گاؤں نے چند سال قبل اس وقت سرخیوں میں جگہ حاصل کی جب اعلان کیا گیا کہ اس کا سالانہ اقتصادی حجم 100 ارب یوآن تک پہنچ گیا ہے۔ ایک سال بعد ہوآکسی کی انتظامیہ نے اعلان کیا کہ اس کے مکینوں کی اوسط سالانہ آمدن ایک لاکھ 22 ہزار 600 یوآن ہے، جو چین کے دیہی علاقوں کے کسی کسان کی آمدنی سے 40 گنا زیادہ ہے۔
اپنی معاشی طاقت کو ظاہر کرنے کے لیےگاؤں کی انتظامیہ نے 3 ارب یوآن کی لاگت سے 2011ء میں 72 منزلہ بنائی جوکہ "ہواسی کا معلق گاؤں" کہلاتی ہے۔ اس کی بلندی 1076 فٹ ہے۔ اس کے اندر ایک 'سپر فائیو اسٹار' لانگ وش انٹرنیشنل ہوٹل ہے۔ 826 کمروں کے اس ہوٹل میں ایک جگہ ایسی بھی ہے جس کا کرایہ ایک رات کے لیے ایک لاکھ یوآن ہے۔ 60 منزل پر موجود اس قیام گاہ کے ساتھ بیل کا ایک مجسمہ نصب ہے جو ایک ٹن خالص سونے سے بنایا گیا ہے۔
" ہوآکسی"اس مقام تک کس طرح پہنچ پایا؟ اس کی وجوہات ہمیشہ پوشیدہ رکھی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے کسی رہائشی کو میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ البتہ ایک کتاب اس راز سے ایک حد تک پردہ اٹھاتی ہے۔ جس کے مطابق 70ء کی دہائی میں گاؤں کی قیادت نے ایک زبردست فیصلہ کیا تھا جس کے تحت اپنی تمام زمینوں کوکاشت کاری کیلئے ٹھیکے پر دے دیا اور اپنی افرادی قوت کومینوفیکچرنگ سیکٹر میں ڈال دیا. جس کی وجہ سے یہ گاؤں ناصرف دیگر دیہات اور قصبوں بلکہ شہروں سے بھی آگے نکل گی. 1994ء میں گاؤں نے خود کو کمرشل کارپوریشن کے طور پر مستحکم کیا مختلف صنعتی شعبہ جات میں قدم رکھا اور 1999ء میں خود کو اسٹاک ایکسچینج میں رجسٹرکروا دیا۔ آج اس گاؤں کے زیادہ تر مکین وہی ہیں جو ان اداروں کے لیے کام کرتے ہیں۔ انہیں گھر اور گاڑی سمیت بنیادی سہولیات دی جاتی ہیں۔ البتہ انہیں ان کی آمدن کاصرف 30 فیصد حصہ ملتا ہے جبکہ باقی 70 فیصدگاؤں کی کمپنیوں کے لیے سرمائے کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ جس سے گاؤں کی معیشت کا گراف روزبروز اوپر ہی اوپر جارہاہے.

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »
error: Content is protected !!
%d bloggers like this: