جرمنی کے بارے میں حقائق

جرمنی کا جغرافیہ:

وسط یورپ میں واقع اس ملک کا سرکاری نام وفاقی جمہوریہ جرمنی ہے۔ اسے انگریزی زبان میں جرمنی‘ جرمن زبان میں ڈوئچ لونڈ اور عربی زبان میں المانیا کہا جاتا ہے اس کا دارالحکومت برلن اور قومی زبان جرمن ہے۔ اس کی 16 ریاستیں ہیں۔ اس کے شمال میں بحر شمالی‘ ڈنمارک اور بحر بالٹک واقع ہیں۔ مشرق میں پولینڈ اور جمہوریہ چیک‘ جنوب میں آسٹریا اور سوئٹزر لینڈ جبکہ مغرب میں فرانس‘ لکسمبرگ‘ بلجیم اور نیدر لینڈ واقع ہیں۔ جرمنی اقوام متحدہ‘ نیٹو‘ جی ایٹ اور شینگن ممالک کا ممبر ہے۔ یہ یورپی یونین کا تاسیسی ممبر اور یورپ کا سب سے زیادہ آبادی والا اور سب سے طاقتور اور دنیا کی تیسری بڑی معیشت رکھنے والا ملک ہے۔
جرمنی کا کل رقبہ 357022 مربع کلومیٹر اور آبادی 8کروڑ سے زائد ہے۔ اس کا قومی شعار ”اتحاد‘ عدل اور آزادی“ ہے۔ جرمنی کی کرنسی یورپی یونین میں شمولیت کے باعث اب یورو ہے جبکہ اوسط فی کس آمدن 34400 ڈالر سالانہ ہے۔ شرح خواندگی 100فیصد ہے۔ یہاں عیسائیوں کی اکثریت ہے لہٰذا اس کا سرکاری مذہب عیسائیت ہے۔ وقت میں یہ پاکستان سے 4گھنٹے پیچھے ہے۔
Germany facts
انتظامی تقسیم
انتظامی طور پر جرمنی کو سولہ ریاستوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں سے تین ریاستیں صرف ایک شہر اور اس سے ملحق علاقے پر مشتمل ہیں۔ یہ ریاستیں برلن‘ ہامبرگ اور بریمین ہیں۔ ان کے علاوہ ریاستیں بادن وورتمبرگ‘ باویریا‘ برانڈنبرگ‘ تھورنگیا‘ رائنلانڈ فالس‘ زارلانڈ‘ سیکسنی‘ زاکزن انہالٹ‘ شلیزوگ بولشٹائن‘ میکلنبرگ فورپومرن‘ نوردرائن ویسٹفالن‘ نیدرزاکزن اور بیسیے ہیں۔ ان ریاستوں میں آبادی کے لحاظ سے نوردرائن ویسٹفالن اور رقبے کے لحاظ سے باویریا سب سے بڑی ریاست ہے۔ جرمنی کے بڑے شہر برلن (دارالحکومت) 3,391,607 نفوس‘ ہامبرگ1,834,856 نفوس‘ میونخ 1,398,538 نفوس‘ کولون 985,908 نفوس اور فرانکفرٹ بمقابل رائن 458,124 نفوس پر مشتمل ہے۔ (ویزااپلائی کرنے کا طریقہ جانئے)
طرز حکومت
جرمنی وفاقی پارلیمانی جمہوریہ ہے جہاں سیاسی نظام 1949ء کی آئینی دستاویز کے مطابق چلتا ہے۔ اس دستاویز میں ترمیم لانے کیلئے پارلیمنٹ کے دونوں ہاؤسز میں دوتہائی اکثریت ضروری ہے۔ جرمنی کا آئین اس کے شہریوں کو بنیادی حقوق کی فراہمی‘ طاقت کے توازن اور وفاقی ڈھانچے کی سلامتی کا ضامن ہے۔ اس طرز حکومت میں وفاقی چانسلر حکومتی سربراہ ہے جس کا کردار جمہوری نظام میں وزیراعظم کی طرح ہوتا ہے۔ قانون سازی کا اختیار پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کو حاصل ہے۔ 1949ء سے یہاں دو پارٹی نظام چل رہا ہے جس میں کرسچن ڈیموکریٹک یونین اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی شامل ہیں اور اب تک تمام چانسلر انہیں دو جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد رہے ہیں۔
خارجہ تعلقات
جرمنی یورپی یونین میں قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے اور اس نے دوسری عالمی جنگ کے خاتمہ کے بعد سے فرانس کے ساتھ مضبوط تعلق رکھا ہوا ہے۔ 23مارچ 1949ء کو اپنے قیام سے ہی جرمنی اپنی تاریخ اور ماضی میں بیرونی قوتوں کے زیرتسلط رہنے کے باعث عالمی سطح پر تعلقات میں اتنا زیادہ سرگرم دکھائی نہیں دیا۔ سردجنگ کے دوران جرمنی کی تقسیم نے اس کو مشرقی ومغربی مسئلہ اور یورپ کا سیاسی میدان جنگ بنا دیا۔ جرمنی امریکہ کا قریبی اتحادی ہے اور نیٹو میں شامل ہے۔
جرمن فوج
جرمن مرد شہریوں کیلئے 18سال کی عمر ہونے پر فوج میں کم از کم 9ماہ کی سروس لازم ہے بصورت دیگر 6سال رضاکار کے طور پر کسی ایمرجنسی سروس میں کام کرنا ہوتا ہے جیسا کہ فائر بریگیڈ اور ریڈ کراس وغیرہ۔ یہ جی ڈی پی کے ڈیڑھ فیصد کے برابر بجٹ دفاع پر خرچ کرتا ہے۔ امن کے زمانہ میں وزیر دفاع فوج کو کمانڈ کرتا ہے جبکہ جنگی دور میں چانسلر اس کا سربراہ بن جاتا ہے۔ جرمن فوج میں 2لاکھ سے زائد مستقل فوجی جبکہ 55ہزار رضاکار موجود ہیں۔ دو خواتین میڈیکل آفیسر اب تک جنرل کے عہدہ تک بھی پہنچ چکی ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »
error: Content is protected !!
%d bloggers like this: