برطانیہ میں سیاسی پناہ لینے کا طریقہ کار

کسی شخص کی زندگی کو اس کے آبائی ملک میں نسل، مذہب، قومیت، جنسی، سماجی یا سیاسی وجہ سے خطرہ لاحق ہو تووہ برطانیہ میں جنیوا کنویشن معاہدے کے تحت سیاسی پناہ کی درخواست جمع کرانے کا حق رکھتاہے۔ قوانین کے مطابق برطانیہ پہنچنے والے ایسے شخص کو فوراﹰ امیگریشن افسر کو بتانا چاہیے کہ وہ سیاسی پناہ کا متلاشی ہے۔ اگلے قدم کے طور پر یہ سرکاری اہلکار اسے یوکے بارڈر ایجنسی کے جنوبی لندن میں واقع مرکز پہنچا دیں گے، جہاں کسی تارک وطن کو جلد از جلد سیاسی پناہ کی درخواست بھرنا ہو گی۔
اس کے بعد سیاسی پناہ کی درخواست پر عمل درآمد کے باقاعدہ طریقہ کار کا آغاز ہو جاتا ہے، جس میں ’اسکریننگ انٹرویو‘ سب سے اہم ہے۔ اس انٹرویو میں یوکے بارڈر ایجنسی کسی تارک وطن سے متعلق بنیادی معلومات حاصل کرتی ہے، جس میں ایک سوال یہ بھی ہوتا ہے کہ کہیں اس نے یورپ کے کسی اور ملک میں ایسی کوئی درخواست تو نہیں دی اور اگر دی ہے تو اس کا درخواست نمبر کیا ہے۔
اس کے کچھ روز بعد سیاسی پناہ کے ایسے درخواست گزار کی ملاقات اس اہلکار سے کرائی جاتی ہے، جو اس کی درخواست پر کام کر رہا ہوتا ہے۔ اس کے بعد درخواست گزار کا ’تفصیلی انٹرویو‘ لیا جاتا ہے، جس میں اسے تفصیلی طور پر سیاسی پناہ کی درخواست جمع کرانے کی وجوہات بتانا ہوتی ہیں۔ اس انٹرویو کے عموماﹰ چھ ماہ کے اندر اندر سیاسی پناہ کی درخواست پر فیصلہ سامنے آ جاتا ہے۔
اس دوران سیاسی پناہ کے درخواست گزار کو پابند بنایا جاتا ہے کہ وہ حکام سے رابطے میں رہے اور اگر انہیں مزید معلومات درکار ہوں، تو وہ مہیا کرے۔ ایسے میں سیاسی پناہ کے درخواست گزار کو اگر مالی مدد یا قیام کی سہولت درکار ہو، تو برطانوی حکومت اسے وہ مہیا کرتی ہے۔ اگر کسی تارک وطن کو حراستی مرکز منتقل کیا جائے، تو اس کی درخواست ’فاسٹ ٹریک‘ ہو سکتی ہیں، یعنی ایسے درخواست گزار کے دعوے پر سات روز کے اندر اندر فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔
درخواست منظور ہونے پر:
سیاسی پناہ کی درخواست منظور ہو جائے، تو اسے برطانیہ میں پانچ برس قیام کی اجازت دی جا سکتی ہے، تاہم یہ اجازت دیے جانے کے بعد بھی برطانوی حکومت کو فیصلے پر نظرثانی کا اختیار حاصل رہتا ہے۔ پانچ برس کی مدت کی تکمیل کے بعد بھی اگر سیاسی پناہ حاصل کرنے والے شخص کے اس کے آبائی ملک میں جان کا خطرہ بدستور لاحق رہے، تو ایسے مہاجر کو برطانیہ میں مستقل قیام کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
اپیل کا حق
سیاسی پناہ کی درخواست رد ہو جانے پر درخواست گزار کو اپیل کا حق دیا جا سکتا ہے، تاہم اسے یہ اپیل فیصلہ سنائے جانے کے 14 روز کے اندر کرنا ہوتی ہے۔ درخواست رد ہو جانے یا کسی نئے قانون کی منظوری کی صورت میں ناکام درخواست گزار کو نئے سرے سے درخواست جمع کرانےکا کہا جا سکتا ہے، جب کہ ناکام درخواست گزاری کی اپیل بھی مستر ہو جائے، تو ایسے شخص کو برطانیہ سے نکال دیا جاتا ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

1 تبصرہ

  1. Muhammad Arshad says:

    How to Assyulm in uk

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »
error: Content is protected !!
%d bloggers like this: