امریکہ میں حصول تعلیم

امریکہ میں تعلیم حاصل کرنا ہر سٹوڈنٹ کا خواب ہوتا ہے۔آپ ایفورڈکرتے ہیں تو اپنے اخراجات پر وہاں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ بصورت ِدیگر کسی سکالر شپ کے لیے اپلائی کیا جاسکتاہے۔ زیادہ تر نوجوان چاہتے ہیں کہ انھیں ٹوفل کا امتحان نہ دینا پڑے اور امریکی تعلیمی اداروں میں داخلہ مل جائے۔ مگرکوئی امریکی کالج اور یونیورسٹی ٹوفل کے بغیر داخلہ نہیں دیتی تاہم ٹوفل امتحان میں سکور کا لیول مختلف تعلیمی اداروں کے لیے مختلف ہے۔ اگر آپ کو انگریزی زبان پر اتنا عبور نہیں کہ آپ ٹوفل کا امتحان دے سکیں تو آپ کو امریکی اساتذہ یا پروفیسرز کے لیکچرز کی سمجھ بالکل نہیں آئے گی۔اس لیے امریکہ جانے کے خواہشمند ہیں تو ٹوفل کی تیاری کریں۔
آپ سٹڈی ویزے پر امریکہ جاکر پیسے کمانا چاہتے ہیں تو پہلے آپ کو یہ سمجھنا ہو گا کہ امریکہ سٹدی کے لیے دو طرح کے ویزے جاری کرتا ہے۔
جب آپ سکالر شپ یا کسی کی سپانسرشپ پر امریکہ جائیں گے تو جے ون (J-1) ویزہ کیلئے اپلائی کریں گے۔ اور اگر اپنے خرچے پر جانا ہے تو آپ کو ایف ون (F-1) ویزہ ملے گا۔
جے ون ویزہ پر آپ نوکری نہیں کر سکتے اور نہ کوئی آپ کو نوکری دے سکتا ہے۔ جبکہ ایف ون ویزہ پر آپ ہفتے میں تقریبا اکیس گھنٹے کام کر سکتے ہیں۔ عام طور پر فی گھنٹہ ساڑھے سات سے دس ڈالر فی گھنٹہ معاوضہ دیا جاتا ہے۔
اب یہ جان لیں کہ امریکہ میں سٹڈی ویزے کی غرض سے گئے ہیں تو آپ کو پڑھنا پڑے گا۔
امریکہ میں کلاس میں نوے فیصد حاضری لازمی ہوتی ہے۔

امریکہ کے سٹڈی ویزہ کے لیے آپ کو ہوسٹ انسٹی ٹیوشن کی طرف سے ایک خصوصی دستاویز (I-20 یا DS-2019) درکار ہوتی ہے۔ جس پر دراصل سکیورٹی سافٹ ویئر کا مخصوص نمبر درج ہوتا ہے۔ اس سکیورٹی سافٹ ویر پر آپ کی مکمل معلومات درج ہوتی ہیں۔
جب آپ کالج سے مخصوص ٹائم تک غیر حاضر ہو جائیں تو کالج اس سافٹ ویر میں آپ کا سٹیٹس تبدیل کر دیتا ہے۔
اب آپ غیر قانونی تصورکئے جائیں گے اور ہوم لینڈ سکیورٹی آپ کی تلاش شروع کر دے گی۔
امریکہ میں رہائش، ٹرانسپورٹ، ٹیکس (کسی کو ٹیکس میں چھوٹ نہیں)، خوراک، تعلیم اور میڈیکل کے اخراجات آسان نہیں. اس لیے آپ کو بہت محنت سے پیسے کمانا پڑتے ہیں جب کہ آپ مقررہ حد سے زیادہ کام بھی نہیں کر سکتے، کیونکہ تمام نظام کمپیوٹر سے منسلک ہونے کی وجہ سے آپ کہیں بھی چھپ نہیں سکتے۔
ان تمام تر معلومات کے حاصل کرنے کے بعد بھی آپ پیسے کمانے کی غرض سے سٹڈی ویزے پر امریکہ آنا چاہتے ہیں تو یہ کوئی معقول فیصلہ نہیں ہو گا۔
اگر آپ پاکستان میں اچھی مالی حثیت رکھتے ہیں تو اپنے اخراجات پر امریکہ میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔
دوسری صورت میں امریکہ میں آپ کو سکالرشپ پروگرام بھی بآسانی مل جاتے ہیں۔ اور اس کے لیے نہ کسی جھوٹی بینک سٹیٹمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ کسی کنسلٹنٹ کی۔ تو سب سے پہلے اپنی نیت نیک بنائیں، کوئی ٹھوس اور مثبت فیصلہ لیں۔پھر ویزے کے حصول کا عمل شروع کریں۔۔کوئی رکاوٹ آپ کو روک نہیں پائے گی۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »
error: Content is protected !!
%d bloggers like this: