آسٹریلیا کے ویزے

آسٹریلیا کا ویزا سسٹم:
آسٹریلوی ہائی کمیشن پاکستانی شہریوں سے بذریعہ وی ایف ایس گلوبل ویزادرخواستیں وصول کرتا ہے۔وی ایف ایس گلوبل اپنے چارجز گیارہ ہزارروپے لیتاہے جس مین بائیومیٹرک کی فیس بھی شامل ہے تاہم ویزا فیس جوکہ تقریباساڑھے گیارہ ہزارروپے ہیں اس کا آسٹریلوی ہائی کمیشن اسلام آباد کے نام ڈرافٹ بنوانا ہوگا جوکہ ایپلی کیشن کے ساتھ لگے گا۔
ویزوں کی اقسام:
اسلام آباد میں آسٹریلوی ہائی کمیشن پاکستان اور افغانستان کے شہریوں کو درج ذیل قسم کی ویزا درخواستوں پر کارروائی کر کے ویزے جاری کرتا ہے۔
٭ وزیٹر ویزا درخواستیں
٭ سٹوڈنٹ ویزا درخواستیں
٭ ثقافتی و سماجی عارضی رہائشی ویزا کی درخواستیں
٭ انسانی حقوق کی بنیادوں پر مستقل انٹری اور فیملی مائیگریشن کی درخواستیں
٭ شہریت کی رجسٹریشن کی (قابل عمل) درخواستیں
ویزا درخواست جمع کرانے کیلئے جنرل دستاویزات
متعلقہ ویزا درخواست فارم آئندہ کم از کم 3 ماہ کے لیے قابل استعمال پاسپورٹ‘ جس کے 2صفحات ہر صورت خالی ہوں‘ آسٹریلوی ویزا سیکشن اضافی صفحات پر ویزا سٹکر نہیں لگاتا۔ اگر صفحات خالی نہیں ہونگے تو ویزا درخواست کی منظوری پر آپ کو فوری نیا پاسپورٹ فراہم کرنے کا کہا جائے گا اور اس دوران کیس زیر التواء رہے گا۔
٭ ایک عدد پاسپورٹ سائز تصویر (6 ماہ سے زائد پرانی نہ ہو)۔
٭ کریکٹر سرٹیفکیٹ جو کہ ضلعی پولیس افسر کا جاری کردہ ہو۔
٭ ویزا فیس جو کہ فیڈیکس سنٹر پر جمع کرائی جائے گی۔
٭ دورہ کے دوران اخراجات کے لیے رقم کی موجودگی کا ثبوت۔
٭ تمام متعلقہ دستاویزات کی کاپیاں جو کہ کیس کے لیے درکار ہوں (ان کی تفصیل اگلے صفحات پر ہر کیٹگری میں الگ بیان کی جائے گی)۔
دستاویزات سے متعلق ہدایات
درخواست کے ساتھ اصل دستاویزات مت جمع کرائیں۔ اصل اسی وقت پیش کریں جب ویزا سیکشن اس کے لیے کہے۔ کیس کو سپورٹ کرنے والے مکمل کاغذات ضرور ساتھ بھیجیں وگرنہ آپ کی درخواست التواء کا شکار ہو جائے گی یا پھر مسترد کر دی جائے گی۔ جو دستاویزات مثلاً نکاح نامہ‘ جنم پرچی وغیرہ اردو میں ہوں اس کا پروفیشنل ٹرانسلیٹر سے انگریزی ترجمہ کروا ئیں۔
ویزا درخواست جمع کرانے کے بعد
درخواست موصول ہونے کے بعد ویزا سیکشن اس کا ہر پہلو سے جائزہ لیتا ہے۔ اگر آپ کے مہیا کردہ کاغذات متعلقہ ویزا کی شرائط پر پورا اترتے ہوں یعنی کہ ویزا افسر کو یقین ہو جائے کہ آپ نے آسٹریلیا جانے کی جو وجہ بیان کی ہے وہ درست ہے اور آپ کے پاکستان میں مضبوط سماجی و معاشی تعلقات ہیں جن کے باعث آپ مقررہ مدت تک ضرور واپس آ جائیں گے نیز آپ کے پاس اخراجات کے لیے وافر رقم موجود ہے تو وہ مثبت رائے قائم کر کے مزید غور کرے گا۔ اگرکوئی دستاویز مشکوک لگے تو اسے متعلقہ اتھارٹی کے پاس تصدیق کے لیے بھیجا جا سکتا ہے جس کی فیس درخواست گزار ادا کرے گا۔ اس دوران کسی مزید دستاویز کی ضرورت ہوئی تو آپ سے رابطہ کر کے طلب کی جائے گی۔ وضاحت طلب امور کے لیے آپ کو انٹرویو کے لیے بھی بلایا جا سکتا ہے۔ اس سارے عمل کے دوران آپ کیس سے متعلق معلومات لینا چاہیں تو ٹیلیفون کے بجائے فیکس یا ای میل کے ذریعے رابطہ کریں کیونکہ ہائی کمیشن ان ذرائع کو ترجیح دیتا ہے اور انہی کے ذریعے آپ کو جواب دیا جائے گا۔
immigration.islamabad@afatt.gov.au
ٹریول/ہیلتھ انشورنس
آپ کو آسٹریلیا میں قیام کے دوران علاج معالجہ کی سہولت فراہم کرنا آسٹریلوی حکومت کی ذمہ داری نہیں ہو گی۔ اس کے لیے آپ کو ٹریول انشورنس کرانا ہو گی جس کے لیے ویزا لگنے سے پہلے آپ کو کہا جائے گا۔
پاسپورٹ کی واپسی
آپ کی ویزا درخواست کا فیصلہ ہونے کے بعد آپ کا پاسپورٹ (بمعہ دستاویزات اگر کوئی اصل منگوائی گئی ہوں تو) آپ کو فیڈیکس سے ہی واپس ملے گا۔
ٹورسٹ ویزا (سب کلاس 676)
آپ سیروتفریح‘ کسی عزیز کو ملنے‘ کاروباری دورہ‘ علاج یا دیگر مقاصد کے تحت قلیل مدت کے لیے آسٹریلیا جانا چاہیں تو آپ کو ٹورسٹ ویزا جاری کیا جائے گا جو کہ آپ کی ضرورت کے مطابق 3‘6 یا 12 ماہ کی مدت کا ہو سکتا ہے۔ اس دوران آپ کو وہاں 3 ماہ سے زائد مدت کے تعلیمی کورس میں داخلہ لینے اور کام کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ ویزا ختم ہونے کی تاریخ سے قبل پاکستان واپس روانہ ہونا ضروری ہو گا تاہم ویزا میں توسیع کے لیے مدت ختم ہونے سے 2ہفتے قبل وہیں درخواست دے سکتے ہیں۔ درخواست پر کارروائی کے دوران ویزا ختم ہونے کے باوجود آپ کا وہاں قیام قانونی تصور ہو گا۔ ٹورسٹ ویزا کے دوران آپ 3 ماہ سے زائد مدت کا تعلیمی کورس کرنا چاہیں تو اس کے لیے وہیں پر سٹڈی ویزا کی درخواست بھی دی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے الگ ویزا فیس جمع ہو گی۔ مزید برآں اگر آپ اپنے 18 سال سے کم عمر بچے جن کا آپ کے پاسپورٹ پراندراج ہو‘ ان کو ساتھ آسٹریلیا لے جانا چاہتے ہیں تو ان کے لیے الگ ویزا کی درخواست جمع کرانے کی ضرورت نہیں ہے۔
ٹورسٹ ویزا کیلئے اہلیت:
٭ آپ کے پاس آسٹریلیا کے دورہ کی معقول وجہ ہونی چاہیے جسے دستاویزات کے ذریعے ثابت بھی کر سکیں۔
٭ کسی سے ملنا درکار ہو تو وہ شخص دعوتی خط بھیجے یا سپانسر کرے۔
٭ سفر اور وہاں طعام و قیام کے لیے وافر رقم موجود ہو۔
٭ پاکستان کے ساتھ آپ کا مضبوط تعلق ہو جس سے ثابت ہو کہ آپ ضرور واپس آئیں گے۔
٭ اچھے کردار کے مالک ہوں۔
٭ اچھی صحت ہو (ویزا افسر ایکسرے سمیت کوئی بھی ٹیسٹ کرانے کا کہہ سکتا ہے)
٭ آسٹریلیا میں کسی ادارے کے ڈیفالٹر نہ ہوں۔
ویزا اپلائی کرنے کے لیے درکار دستاویزات
i ) پر شدہ ٹورسٹ ویزا فارم 48 (فارم مکمل پر کریں‘ کوئی خانہ خالی مت چھوڑیں‘ کسی سے پر کروائیں تو بغور پڑھ لیں کیونکہ دستخط کرنے کے بعد اس کے ذمہ دار آپ ہونگے۔)
ii ) ویزا فیس جو کہ فیڈیکس پر جمع ہو گی۔
iii ) آپ شادی شدہ ہیں تو میرج سرٹیفکیٹ اور شادی کی تصاویر۔
iv) اٹھارہ سال سے کم عمر کا کوئی بچہ ساتھ ہے تو رشتہ کا ثبوت‘ برتھ سرٹیفکیٹ اور ب فارم۔
v ) ریٹرن ایئر ٹکٹ
vi) درخواست گزار کا پاسپورٹ۔
vii ) وائٹ بیک گراؤنڈ کے ساتھ 3 عدد پاسپورٹ سائز تصاویر۔
viii) کریکٹر سرٹیفکیٹ‘ پولیس کا جاری کردہ(فارن آفس سے تصدیق شدہ)
ix ) رہائش کے لئے ہوٹل بکنگ
x ) اخراجات کے لیے معقول رقم کی موجودگی کے ثبوت کے طور پر بینک سٹیٹمنٹ اور جائیداد کے کاغذات وغیرہ‘ اپنا کاروبار ہو تو اس سے متعلق معلومات یعنی رجسٹریشن اور ٹیکسیشن کیکاغذات اورکریڈٹ کارڈز کی فوٹو کاپیاں۔
xi) ملازمت کی صورت میں ادارے کے سربراہ کا جاری کردہ سرٹیفکیٹ جس میں عہدہ‘ مدت ملازمت اور تنخواہ وغیرہ کا اندراج ہو۔
xii) کسی رشتہ دار یا دوست سے ملنے جا رہے ہیں تو اس کی طرف سے بھیجا گیا دعوتی خط۔
نوٹ: مذکورہ بالا دستاویزات کے علاوہ آپ پاکستان میں اپنی حیثیت اور مضبوط سماجی و معاشی رشتے سے متعلق تحریری ثبوت ساتھ لگانا چاہیں تو لگا سکتے ہیں تاہم یاد رہے کہ غیراہم اور غیرمتعلقہ دستاویزات کا کیس پر منفی اثر مرتب ہو سکتا ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »
error: Content is protected !!
%d bloggers like this: