آسٹریلیا کے ورک ویزے

آسٹریلوی ورک ویزا:
آسٹریلوی حکومت تربیت یافتہ غیرملکیوں کو آسٹریلیا میں کام کرنے کے لیے عارضی اور مستقل ورک ویزے جاری کرتی ہے جس کے لیے مختلف کیٹگریز رکھی گئی ہیں۔
آجر کے سپانسر کردہ ورکرز
آسٹریلوی کمپنیاں یا اداروں کے مالکان جن غیرملکی ہنرمندوں کو سپانسر کر کے بلواتے
ہیں انہیں اس کیٹگری میں آسٹریلوی ورک ویزا جاری کیا جاتاہے۔
پروفیشنلز
یہ پروگرام ان افراد کے لیے ہے جن کو سپانسر نہ کیا گیا ہو تاہم وہ اپنے شعبے کے ماہر اور باقاعدہ ڈگری یافتہ ہوں اور آسٹریلیا جا کر کام کرنا چاہیں۔
کاروباری افراد
جو لوگ آسٹریلیا میں سرمایہ کاری کے خواہشمند ہوں یا وہاں جا کر کوئی نیا کاروباری ادارہ بنانا چاہتے ہوں‘ اس سکیم میں وہ بزنس پروفیشنلز بھی شامل ہیں جو کسی چلتے ہوئے یا نئے کاروبار کو سیٹ کرنے کے لیے آسٹریلیا جانے کے متمنی ہوں۔
سپیشلسٹ انٹری
اس کیٹگری میں وہ ماہرین آتے ہیں جو کہ سماجی‘ ثقافتی اور دیگر مخصوص شعبوں میں ریسرچ ورک کے لیے آسٹریلیا جانا چاہتے ہوں۔
ڈاکٹرز اور نرسیں
پاکستانی ڈاکٹروں اور نرسوں کے لیے آسٹریلیا کے میڈیکل کے شعبے میں کام کے وسیع مواقع موجود ہیں اور ان کو ورک ویزے کے اجراء کے لیے یہ الگ کیٹگری رکھی گئی ہے۔
ریجنل ملازمتیں
یہ سکیم آسٹریلیا کے دیہاتی علاقوں میں خدمات سرانجام دینے والوں کے لئے ہے۔
ہنرمندوں کیلئے نمائشیں
آسٹریلیا ہنرمند افراد کی کمی پوری کرنے کے لیے دنیا بھر میں نمائشوں کا اہتمام کرتا ہے جن میں غیرملکیوں کی رجسٹریشن بھی کی جاتی ہے۔ فضائی و بحری شعبے
ہوائی اور بحری جہازوں میں کام کرنے والے ماہرین اور ہنرمندوں کے لیے یہ کیٹگری مخصوص ہے جس کے تحت وہ آسٹریلیا کے ان شعبوں میں خدمات سرانجام دینے کے لیے ورک ویزے حاصل کر سکتے ہیں۔
لیبر معاہدے
آسٹریلوی کمپنیاں بڑی تعداد میں غیرملکی ورکرز کو بھرتی کرنے کے لیے حکومت کے ساتھ معاہدے کرتی ہیں جس کے تحت ورکرز کو مستقل اور عارضی بنیادوں پر بلایا جاتا ہے۔ اس کی ضرورت اس لیے پیش آتی ہے۔
٭ انڈسٹری ایسوسی ایشن کو عارضی بنیادوں پر بڑی تعداد میں ہنرمندوں کی ضرورت پڑ جاتی ہے جس کے لیے متعلقہ وزارتوں سے باقاعدہ معاہدہ کرنا پڑتا ہے۔
٭ بعض پیشے مستقل ملازمتوں کی فہرست میں شامل نہیں ہوتے اور اس طرح ان پیشوں سے وابستہ ہنرمندوں کی قلت برقرار رہ جاتی ہے۔
٭ کئی منصوبوں کی سخت حالات اور کم ترین وقت میں تکمیل کرنا ہوتی ہے جس کے لیے مقامی مارکیٹ سے لیبر فورس دستیاب نہیں ہوتی۔
٭ معاہدے کے تحت کسی مخصوص انڈسٹری میں غیرملکی ہنرمندوں کی شمولیت کے اچھے نتائج نکلتے ہیں۔
عارضی ویزا
اس معاہدے کے تحت بھرتی ہونے والے اوور سیز کو درج ذیل سہولتیں ملتی ہیں:
٭ 4 سال تک آسٹریلیا میں کام کر سکتے ہیں۔
٭ اپنے ساتھ ایک سیکنڈری امیدوار بھی لا سکتا ہے جو کہ وہاں پڑھ اور کام کر سکے گا۔
٭ آسٹریلیا میں جتنی بار مرضی معاہدے کی مدت کے دوران آیا جایا جا سکتا ہے۔
مستقل ویزا
اس ورک ویزا پر ہنرمند اپنی فیملی بھی ساتھ لا سکتا ہے اور مستقل قیام کے دوران اس کو درج ذیل سہولتیں میسر آئیں گی۔
٭ مستقل بنیادوں پر سکونت اور کام کی اجازت ہو گی۔
٭ کسی سکول/یونیورسٹی میں پڑھ بھی سکتے ہیں۔
ٌٌ*میڈیکل سکیم کے تحت صحت کی سہولتیں دستیاب ہوں گی۔
٭ سوشل سکیورٹی کے تحت بھی مراعات ملیں گی۔
٭ کچھ سال قیام کے بعد شہریت کے لیے اپلائی کیا جا سکے گا۔
٭ دوسرے لوگوں کو مستقل سکونت کے لیے سپانسر کر سکیں گے۔
ویزا کے لیے اہلیت
٭ لیبر معاہدے کرنے والی کمپنی نامزد کرے۔
٭ متعلقہ شعبہ میں معقول تعلیم اور تجربہ رکھتا ہو‘ انگریزی زبان پر بھی عبور ہو۔
٭ اپنے شعبہ میں لائسنس یافتہ ہو اور متعلقہ اتھارٹی میں رجسٹریشن ہو۔
٭ عمر 45سال سے کم ہو۔
٭ صحت مند ہو اور تمام میڈیکل ٹیسٹ کلیئر کر سکے۔
٭ اچھے کردار کا حامل ہو‘ اس کے لیے ضلعی پولیس افسر کا کریکٹر سرٹیفکیٹ ضروری ہو گا۔
نوٹ: عمر کی حد کے سلسلہ میں متعلقہ کمپنی رعایت دے سکتی ہے۔
ڈاکٹروں اور نرسوں کیلئے مواقع
آسٹریلیا میں اس وقت ڈاکٹروں اور دیگر میڈیکل سٹاف کی کمی ہے۔ خصوصی طور پر چھوٹے شہروں اور دیہات میں بہت مواقع موجود ہیں جس کے لیے کوالیفائیڈ ڈاکٹرز اور نرسیں عارضی اور مستقل ورک ویزوں کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔
اہلیت
وہ ڈاکٹر جن کی ابھی آسٹریلوی میڈیکل بورڈ میں رجسٹریشن نہیں ہوئی وہ شروع میں کسی ہسپتال‘ کلینک یا علاقائی تنظیم کی جانب سے سپانسر شپ ملنے پر عارضی ویزا کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔ جن ڈاکٹروں کی آسٹریلوی میڈیکل بورڈ میں رجسٹریشن ہو چکی ہے وہ مستقل ویزے کے لیے اپلائی کرنے کے اہل ہیں۔ دیگر شرائط درج ذیل ہیں۔
٭ ڈاکٹرپاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن میں رجسٹرڈ ہو اور میڈیکل پریکٹشنر کا لائسنس رکھتا ہو۔
٭ آسٹریلیا میں ایم بی بی ایس کرنے والے غیر ملکی بھی اہل ہیں۔
٭ آسٹریلیا میں سپانسر شپ کے ذریعے ملازمت کی پیشکش ہو۔
٭ آسٹریلوی کلچر اور روایات کی پاسداری کا عہد کرنا ہو گا۔
٭ صحت اور کردار اچھا ہو۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

2 تبصرے

  1. Noormarjan says:

    Sir I need work visa

  2. M imran says:

    Muhje aik viza chaiy main aik gareb hun wahan par kheton ka jo bhi kam hai Main we kar sakhta hun

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »
error: Content is protected !!
%d bloggers like this: