آسان ویزااور امیگریشن حاصل کریں

آسان ویزا، آسان امیگریشن

موجودہ ملکی حالات دیکھ کر نوجوانوں کی اکثریت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اب کچھ نہیں رکھاہمیں تو اپنی زندگی بدلنے کیلئے باہر جاناہے اور ہر قیمت پر جانا ہے۔ ہمیں کوئی آسان ویزا، آسان امیگریشن طریقہ بتادیں. بیرون ملک جاکر قسمت آزمائی کرنے میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔ ماسوائے اس کے کہ جو لوگ کم علمی یا پھرایجنٹو ں کے بہکاوے میں آکرغیر قانونی راستے اختیار کرلیتے ہیں۔ وہ ظلم کرتے ہیں پنے اور اپنی فیملیز پر بھی اور ملک پر بھی۔ بہرکیف اس آرٹیکل میں ہم بتانے جارہے ہیں کہ بیرون ملک جانے کیلئے کون سا آسان راستہ اپنایاجائے۔
ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ اگر ملک سے باہر جاناہے تو جعلسازی نہیں چلے گی اگر چلانے کی کوشش کریں گے تو بہت نقصان اٹھائیں گے۔ وزٹ ویزے پر سیر و تفریح کے لیے جانا چاہیں تو ضرورجائیں کوئی آپ کا ویزا روک ہی نہیں سکتاکیونکہ سیاحت کیلئے وہی جائے گاجس کے پاس وسائل ہونگےاور وسائل ہونے کا مطلب ہے کوالیفائی کرنااور کوالیفائی کرنے پر ہی ویزا ملتاہے ۔
اسی طرح بزنس ویزا پر کاروباری مقاصد کے لیے جانے اور وقت گزارنے کی اجازت ہے۔ اسٹوڈنٹ ویزا پر پڑھائی کی اجازت ہے اورجس ملک میں ہفتے میں پندرہ بیس گھنٹے کام کی اجازت ہے وہاں اس سے بھی ضرور فائدہ اٹھانا چاہیئے۔ اگر لانچوں اور کشتیوں کے ذریعے یورپ پہنچ کر پناہ لینے کا سوچ رہے ہیں تو اس کا انجام تو آئے روز ٹی وی سکرین پر بھی دیکھنے کو ملتاہے۔
اب یہ جان لیجئے کہ پھرکیسے جائیں اور اس کا حل کیاہے۔آسان ویزا، آسان امیگریشن کاطریقہ کار کیا ہے. اگر آپ کسی شعبے میں ایکسپرٹ ہیں اور، تجربہ رکھتے ہیں اورکسی گلف کنٹری میں جانے کا ارادہ ہے توسب سے پہلے اپنے رشتہ داروں اور جاننے والوں کو تلاش کریں۔ ان میں سے کوئی ان ممالک میں پہلے سے موجود ہے تو اس کے ذریعے کام نکالیں کیونکہ اس بندے نے سارے پراسیس سے گذار کر جو تجربہ حاصل کیا ہے۔ وہ آپ کے کام آسکتاہے۔یعنی کہ دھوکہ دہی سے بچ پائیں گے اگرکوئی جانے والا پہلے سے باہر نہیں ہے تو ایسے اداروں کی خدمات حاصل کریں جو بیرون ملک ملازمین کی فراہمی کا لائسنس رکھتے ہوں،متعلقہ ممالک میں رجسٹرڈ ہوں اور پاکستان میں متعلقہ وزارت سے تصدیقی سند حاصل کر چکے ہوں۔سعودی عرب، متحدہ عرب امارت، قطر، بحرین، کویت اور دیگر عرب ممالک میں یہ لوگ بہت فعال ہیں۔ آپ اچھی رپیوٹ والاادارہ ڈھونڈکر ان کے توسط سے باہر جائیں تو یہ آپکے حق میں بہتر ہے۔
اگر ان سے بہتر ممالک میں جاناہے تو بہترہے امیگریشن حاصل کریں۔ امیگریشن ممالک میں کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ فیمس ہیں۔ دنیا بھر کے لوگوں کو قابلیت کی بنیاد پر اسکلڈ کیٹگری میں اپلائی کر کے آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ ان ممالک نے ایک پوائنٹس سسٹم بنا رکھا ہے۔ یہاں اپلائی کرنے کیلئے آپکو کسی ایجنٹ یا کسی وکیل کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کی ویب سائیٹس پر اسیس کریں کہ آپکی تعلیم، لینگوئج،تجربے اورعمر کی بنا پرکتنے پوائنٹس بن رہے ہیں۔ کوالیفائی کررہے ہیں توضرور اپلا ئی کریں اور اگر پوائنٹس نہیں بن رہے تو مزید سکل، تجربہ یا زبان میں مہارت حاصل کرکے پوائنٹ بہتر بنائیں۔ یہی Easy visa and immigration ہے.
اسکلڈ بیسز پر امیگریشن کے پوائنٹس کے سسٹم کو سمجھنا آسان ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک ملک نے اپنے سسٹم میں 70 پونٹس حاصل کرنا لازم قرار دیا ہے تو ان پوائنٹس کو آپکی تعلیم، تجربے او دیگر چیزوں پر اس طرح سے تقیسم کیا جاتا ہے کہ مطلوبہ قابلیت والا شخص ہی کوالیفائی کرسکے – سب سے پہلے آپکو دیکھنا ہے کہ آپکا شعبہ اس تازہ ترین کیٹگری لسٹ میں ہے یا نہیں، اگر شامل ہے توڈیٹیلزمیں جائیں۔ تعلیم کے اگر دس پوائنٹس ہیں تو اس میں سے صرف ہائی اسکول والے کو چار پوائنٹس، گریجویٹ کو چھ، ماسٹرز کو آٹھ اور پی ایچ ڈی کو دس پوائنٹس دیئے گے ہوں گے۔ مثا ل کے طورپر اگرآپ نے ہائی اسکول (انٹر میڈیٹ) کے بعد چارسالہ فارمیسی کی ڈگری لی ہے تو اپ کو یہاں سے صرف چھ پوائنٹس مل پائیں گے۔ اگر گریجویشن کے بعد دس سال تک کہیں بطور فارمسسٹ خدمات انجام دی ہیں اور اپ اسکو ثابت بھی کر سکتے ہیں تو کیٹیگری لسٹ میں تجربے کے کالم کو دیکھیں۔ ہر چار سال کے تجربے پر دو پوائنٹس ملتے ہیں تو آپ کو دو اعشاریہ پانچ پوائنٹس یہاں سے مل سکتے ہیں اور اسی طرح انگریزی میں استعداد کی بنیاد پر الگ پوانٹس، اگر اپکا کوئی خونی رشتے دار اسی ملک میں ہے تو اسکے پوائنٹس بھی ہونگے، آپکی عمر کے بھی پوائنٹس ہونگے، جتنی عمر کم ہو گی۔ اتنے ہی زیادہ پوائنٹس ہونگے۔ اسکلڈ کیٹگری کے علاوہ فیملی کٹیگری میں بھی لوگ امیگریشن حاصل کرکے بیرون ملک جاتے ہیں۔ انکی تفصیلات بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ مگر اس کیلئے آپکے رشتے دارخود وہاں امیگریشن ڈیپارٹمنٹ میں اپلائی کرینگے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »
error: Content is protected !!
%d bloggers like this: